!کشمیریو۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں

موضوع: مسئلہ کشمیر

وہ بھی کیا دن تھے جب ہم اسکول میں ہوا کرتے تھے۔ ہماری اسکول میں مختلف لڑکوں سے گہری دوستی تھی ان میں ایک ظہیر الدین بابر بھی تھے۔ موصوف کا تعلق بالاکوٹ کے نواحی قصبے سے تھا۔ والدین نے تو ان کا نام ظہیرالدین ہی رکھا تھا لیکن پھر مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کی کہانی پڑھنے کے بعد وہ خود کو ظہیرالدین بابر کہلوانا پسند کرتےتھے۔ اس زمانے میں ہم سب دوست بچوں کی ایک تنظیم کے ساتھ وابستہ تھے جو بچوں میں نیکی و بھلائی کا شعور اجاگر کرنے اور ان میں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آج بھی کام کررہی ہے۔ اور جن کا نعرہ ہے “نیک بنو، نیکی پھیلائو”۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ نعرہ روشن خیالوں کے تبع نازک پر گراں گزرے۔  بحرحال یہ تنظیم مختلف تقاریب کا انعقاد کرتی  جس میں تقریری مقابلے و مباحثے، محافل حمد و نعت، ملی نغمے، نظمیں و ترانے، کرکٹ ، فٹبال اور ہاکی کے میچز، ٹیلنٹ ایوارڈ کی تقاریب اور سمر کیمپ کا انعقاد وغیرہ۔ ظہیر صاحب خاصے ذہین تھے اور ان میں بلا کی خود اعتمادی بھی تھی۔ ہم بھی کند ذہین نہیں تھے لیکن مجمع کو دیکھتے ہی ہماری بولتی بند ہوجاتی تھی جبکہ ظہیر میاں مختلف تقاریب میں اپنی آواز کا جادو جگاتے  اور دادو تحسین سمیٹتے۔

اس وقت کشمیر میں جہادآزادی جاری تھا، گو کہ آج بھی جاری ہے لیکن اس وقت جہادآزادی کو دہشت گردی نہیں قرار دیا گیا تھا۔ وہ مختلف تقاریب میں یہ دو ترانے لہک لہک کر پڑھا کرتے تھے:۔

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

خدابھی اہل ہمت کو پرپرواز دیتا ہے

اور دوسری نظم ایک ملی نغمے کا چربہ تھی جو کچھ یو ں تھی کہ:۔

تیری وادی وادی گھوموں، تیرا کونہ کونہ چوموں

میرے خوابوں کی تعبیر، میرے جموں اور کشمیر

ہم کشمیری بچوں کی اک فوج بنائیں گے

پھر سری نگر سے آگے ہم قدم بڑھا ئیں گے

کشمیری بچوں دوڑو، سب کھیل کود کو چھوڑو

بولو نعرہ تکبیر، میرے جموں اور کشمیر

کشمیر میں جاری ظلم و ستم پر ہمارا دل بہت کڑھتا تھا اور ہم اکثر یہ سوچتے کہ کاش ایسا ہوجائے کہ ہم وہاں ہندوستانی افواج کی ایسی کی تیسی کردیں اور جھٹ سے کشمیر کو آزاد کروالیں مگر وہ فیض کہہ گئے ہیں کہ :۔

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہےمگر ہمدم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

بہر حال ایک دن ہم انہی سوچوں میں گم تھے کہ ہمارے ذہن میں ایک دم سے کچھ آیا اور ہم نے اسے کاغذ پہ منتقل کرنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر بعد ہم کشمیر پر ایک نظم کے آٹھ دس اشعار لکھ چکے تھے۔ وہ نظم تو ہمیں پوری یاد نہیں لیکن اس کے چند اشعار یاد ہیں جو کچھ یوں تھے:۔

چلیں آگے بڑھیں اور بڑھتے جائیں

عدو کو خاک و خوں  میں  نہلائیں

حسیں وادی کے طول و عرض کو ہم

سپاہ  ہند  کا   مقتل   بنائیں

یہی اپنی تو ہے اک آرزو اعظم

نشاں باطل کا دھرتی سے مٹائیں

نظم چونکہ توازن سے محروم تھی لہذا ہم بھاگے بھاگے استاد جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی نظم کے علاج کی درخواست کی۔ استاد جی نے نظم پڑھنے کے بعد اسے لاعلاج قرار دے دیا اور کہا کہ برخوردار اسے یوں ہی پڑھو اور کہو کہ آزاد نظم ہے۔ استا د جی سے مایوس ہوکر ہم نے اپنے حلقہ احباب میں نظم یوں ہی سنانی شروع کی۔ لوگ بڑے حیران ہوئے اور ہم نے جی بھر کے تعریفیں بھی سمیٹیں۔ اب پتہ نہیں وہ تعریفیں ہمارا دل رکھنے کے لیے کیا کرتے تھا یا کچھ اور۔۔۔۔

مجھے کشمیر ، یوں یاد آیا کہ کل 19 جولائی ہے۔ اہل کشمیر اور ہم پاکستانی “یوم شہدائے کشمیر منائیں گے”۔ ابھی حال ہی میں پاک بھارت وزراء خارجہ کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے ہیں اور ہندوستانی وزیر خارجہ کے بقول کشمیر پر بات چیت نہیں ہوئی۔

کشمیر میں محاذ آج کل پھر سے گرم ہے لیکن ایک نئے تناظر میں۔ اب نوجوانوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف سے زیادہ مہلک ہتھیار ہے، “پتھر”۔ اس طرح کے مناظر تو پہلے فلسطین میں ہی نظر آتے تھے جہاں فلسطینی نوجوان ہاتھوں میں پتھر اٹھائے صیحونیوں سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ مگر اب سری نگر کے گلی کوچوں میں بھی سنگ باز نوجوانوں کے جتھے قابض فوج کو للکارتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ:۔

ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں

تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں

یہ کیسے جواں مرد ہیں؟ لیکن ایک منٹ ، مجھ سے شاید غلطی ہوگئی ہے۔ یہاں جواں مرد کا لفظ مجھے کھٹک رہا ہے۔ میڈیا میں آنے والی تصویروں میں تو ایسا لگتا ہے کہ اکثریت کی ڈاڑھی موچھیں بھی ٹھیک سےنہیں نکلیں۔ یہ تو شاید بچے ہیں ، لیکن یہ کیسے بچے ہیں  کہ ہر طرح کے خطرے سے بے نیاز جابروں پر سنگ باری کررہے ہیں؟ یہ بچے تو بزرگوں سے بازی لے گئے۔۔۔ شاید انہی کے لیے اقبال نے کہا تھا کہ ” جوانوں کو پیروں کا استاد کر”۔۔۔
یوٹیوب پر تلاش کے دوران قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی ایک تقریر کی ویڈیوں کلپ نظر سے گذری۔

اس ویڈیو کو دیکھ کر میں حیران و پریشان ہوں اور شرمندہ بھی ۔ ہمارے ہاں تو لوگ ہندستان جاکر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ “پاکستان کا قیام ایک سنگین غلطی تھی“۔ ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ہندوستان سے ہمیں کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا۔ ہمارے روشن خیال امن کی آشائوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ ہم سے کہتے نہیں تھکتے کہ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چھوڑو کشمیر پر پٹی پائو۔امن ، محبت و بھائی چارہ کی بات کرو، دوستی کی باتیں کرو، دوطرفہ تجارت کرو، ثقافتی وفود کے تبادلے کرو۔ اور جو باہر جاکر اپنی پاکستانی شناخت پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔
لیکن یہ کیسا مردحُر ہےجو دشمنوں کے درمیان گھرا ہونے کے باوجود ببانگ دہل یہی کہتا ہے کہ

ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

!کشمیریو۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں پر اب تک 26 تبصرے

  • عثمان

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 1:00 am

    ًمیرا اپنا یہ خیال ہے کہ کشمیر ہنوستان اور پاکستان دونوں سے آزاد ہو کر ایک الگ ریاست بن جانا چاہیے. دونوں ریاستوں نے مظلوم کشمیریوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے. اللہ کشمیر کو آزادی دے.

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:53 am

      عثمان صاحب میں کم از کم آپ کی اس دعا میں ضرور ساتھ ہوں کہ اللہ کشمیر کو آزادی دے…

  • دوست

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 6:16 am

    حریت کانفرنس میں پھوٹ پڑ چُکی ہے اور ان کے دو گروہ ہوچکے ہیں. کشمیریوں کی ایک معقول اکثریت ووٹ بھی ڈالتی ہے، یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم اور ہمارا میڈیا ہر بار نظر انداز کرکے صرف یہی راگ الاپتے ہیں کہ کشمیریوں نے ڈھونگ الیکشن کا بائیکاٹ کردیا. موجودہ نوجوانوں کی یہ تحریک علیحدگی پسندوں سے بھی نالاں ہے اور ہند نوازوں سے بھی. اگر ان میں سے قیادت نہ ابھر سکی یہ انھیں قیادت نہ مل سکی تو یہ جذبہ ضائع ہوجائے گا. اور پاکستانی کشمیر اور پاکستانی حکمرانوں نے اس سارے منظر نامے میں مجال ہے کوئی بیان جاری کیا ہو.

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:51 am

      دوست:: بلاگ پر خوش آمدید. جناب شاکر صاحب میرے خیال میں بات کچھ یوں ہے کہ پھوٹ وغیرہ نہیں پڑی بلکہ مفاد پرستوں نے ہمارے مشرف کے سبز باغ دکھانے پر اپنا راستہ الگ کرلیا تھا. میں توسید علی شاہ گیلانی ہی کو حریت کانفرنس کا حقیقی رہنما سمجھتا ہوں.

  • سعد

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 8:47 am

    اس دور میں جب کہ ہر طرف امن کی آشائیں ناچ رہی ہیں، آپ نے کیا موضوع چھیڑ دیا

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 9:28 am

    ہماری کشمیر کے نام کے ساتھ بری دکھی قسم کی یادیں ہیں۔پاکستان کی حکومت مسئلہ کشمیر کے ساتھ مخلص نہیں ھے۔اور بڑے ہی پیارےخوبصورت اور خوب سیرت مخلص مسلمان نوجوان اس سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔شہدا صرف مخلص تھے۔اللہ انہیں اپنے مقصد میں قبول فرمائے۔

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:58 am

      ابابیلیں ہیں ہم…
      ہمارا کام بس اتنا ہے
      کوئی کنکر، کوئی پتھر
      ذرا ان ہاتھیوں کے لشکروں پر پھینک دیں
      اور پھر
      افق کے پار جا پہنچیں
      جہاں ساروں کو جانا ہے
      حساب اپنا چکانا ہے
      ہمیں لیکن…
      محض زخم جگر اپنا دکھانا ہے
      پھر اس کے بعد کی دنیا کا پر موسم سہانا ہے۔
      😉

  • محمداسد

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:02 pm

    ہمیں نہ صرف کشمیریوں بلکہ اپنے قائداعظم سے بھی شرمندہ ہونا چاہیے کہ جنہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا اور آج ہم اسے بوجھ سمجھ رہے ہیں.

    حکومت پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جب سے حصہ دار بنی نہ صرف اپنے دوستوں کو دشمن بنالیا بلکہ اپنے کشمیری بھائیوں سے اخلاقی مدد بھی چھین لی. موجودہ اور پچھلی دونوں حکومتوں کا کشمیر کے معاملہ پر جو نظریات سامنے ہیں، اس سے پاکستانیوں کے لیے صرف شرمندگی ہی بچی ہے۔

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:32 am

      محمد اسد:: بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ. مجھے آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ جو کچھ ہماری حکومتیں مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کرتی رہی ہیں وہ پاکستانیوں کو صرف شرمندہ ہونے پر ہی مجبور کرتی ہے.

  • […] This post was mentioned on Twitter by Muhammad Waqar Azam, Urdu Blogz. Urdu Blogz said: Post: !کشمیریو۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں http://bit.ly/9U2uue […]

  • صفدر علی صفدر

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 10:27 pm

    اگر ہماری بے حسی اور بد اعمالیوں کا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم خود سے بھی شرمندہ ہوں گے۔ میاں ہمیں تو بھوک سے بلکتا اور معاشرے کے ظلم سہتا اپنا پڑوسی نظر نہیں آتا تو پھر کشمیر تو دور کی بات ہے۔۔۔ ہم براِئے نام سہی آزاد تو ہے تبھی تو آج تک کشمیریوں کا دکھ نہیں سمجھ سکے۔۔۔ بحیا اپنا پیٹ بھرا ہونا تو کوئی بھوکا نہیں لگتا۔۔۔

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 1:02 am

      صفدرعلی صفدر:: بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔

  • نغمہ سحر

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 3:35 am

    وقار بھاٰٖئی کشمیریوں کی مدد کرنے سے پہلے پاکستان کو مظبوط کرنے کا سوچیں کمزور پاکستان کسی کی کیا مدد کرے گا ۔آج ہندوستان میں اگر کوئی جا کر بات کرتا ہے تو وہ وہی بات دوہرارہا ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے وقت ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کیا کرتے تھے پہلے تو کبھی شرمندہ نہیں ہوئے اب کب سے شرمندہ ہونا سیکھ لیا۔
    آپ نے جو نظمیں پیست کی ہیں وہ پڑھی نہیں جارہیں ان کے فونت بلاگ کے ایچ،ٹی،ایم،ایل سے میچ نہیں کررہے ۔کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:57 am

      نغمہ بہنا، ابوالکلام آزاد منافق نہیں تھے، جو کہا اس پر آخری دم تک قائم رہے، اور مودودی صاحب کے بارے میں تو اتنا کچھ موجود ہے کہ اگر دل پر مہر نہ لگی ہو توہدایت دور نہیں.ہم اپنی شرمندگی کا لکھنا شروع کریں تو خاصی طویل فہرست بن جائے گی…
      😉
      میں تو آپ کے تبصرے سے یہی سمجھا ہوں کہ کسی بھی بات کے حق اور سچ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی لوگ ایسا ہی کرتے رہے ہیں. کیا کہنے، بہت خوب….
      تو دوستو! زرداروں پر لعن طعن بند کرو، کیونکہ پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے. چور اور لٹیرے پہلے بھی اقتدار پر قابض رہے ہیں…….

      فونٹ وغیرہ کے بارے میں جہاں تک میرا خیال ہے، فائر فاکس اور جمل نوری نستعلیق فونٹ کے ساتھ جمیل نوری کشیدہ فونٹ بھی استعمال کیا جائےتو مسئلہ حل ہوسکتا ہے. میرا خیال غلط بھی ہوسکتا ہے، لہذا میں آپ کی مدد کا منتظر ہوں…….

  • افتخار اجمل بھوپال

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:42 pm

    ہمارے مُلک کے حکمرانوں نے پئے در پئے کبھی بھارت سے دوستی کبھی دُشمنی کے نام پر اپنا ہی گلا کاٹنے کی کوشش کی ۔ جموں کشمير کی حمائت ميں کبھی نہيں سوچا ۔ پچھلے دس سال سے تو پاکستان کو ہی بنجر بنانے پر عمل ہو رہا ہے ۔ قائداعظم نے جموں کشمير کو پاکستان کی شاہ رگ ايسے ہی نہيں کہا تھا ۔ اب جبکہ پرويز مشرف اور موجودہ حکومت کی مہربانيوں سے بھارت جموں کشمير سے آنے والے درياؤں پر سات بند بنا چکا ہے تو باقی بچنے والے دريا سندھ کا پانی اُس صوبے کو نہ دے کر بنجر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پورے ملک کو خوراک مہياء کرتا ہے
    پچھلی آدھی صدی ميں جموں کشمير کے لوگ پاکستان کی جنگ لڑتے لڑتے ايک لاکھ کے قريب جانوں کا اور ہزاروں عورتوں کی عزت کا نذرانہ دے چکے ہيں اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور حکومت بھارت سے محبت کی پينگيں بڑھا رہے ہيں
    اللہ اس قوم کو سيدھی راہ دکھائے

    • یاسرخوامخواہ جاپانی

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 2:03 pm

      اجمل صاحب صرف ایک لاکھ اور وہ بھی صرف کشمیری عوام؟آپ تو کچھ اور لکھ دیں۔
      کہ دل دکھتا ھے بڑی شدت سے۔

  • صفدر علی صفدر

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 1:02 pm

    نغمہ سحر صاحبہ پاکستان ایسی سوچوں کی وجہ سے ہی کمزور ہے… اپنے ارادے مضبوط کریں انشااللہ پاکستان بھی مضبوط ہوگا.

    ارادے جنکے پختہ ہوں نظر جنکی خدا پر ہو
    طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

    پاکستان ہم سے ہے، ہماری کمزوری پاکستان کی کمزوری ہے… پاکستان کمزور نہیں ہے … ہم اور ہمارے ارادے کمزور ہیں . میں اکثر اپنا ایک شعر مشاعروں میں پڑھتا ہوں..جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے…

    ہوش کہ ناخن لے لو لوگو! ورنہ ایسا لگتا ہے
    اِک دن ہوگا سب بولوگے پاکستان ہمارا تھا

    میرے منہ میں خاک …
    اللہ نہ کرے کہ کبھی پاکستان کے ساتھ کبھی’ تھا‘ کا لفظ لگے… اللہ اُس دن سے پہلے ہمیں ہوش میں آنے کی توفیق عطا فرمائے… اور ہماری ذہنی اور ارادی کمزوریوں سے نجات دے..آمین!

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 1:06 am

      اے بھائی اگر تو نے کسی مشاعرے میں یہ شعر پڑھا ہوتا تو بہت کٹائی ہوتی
      😉
      حقیقت پسندی ہمیں چھو کر بھی نہیں گزری. اور تیرے منہ میں خاک بھی…
      ویسے تو نے ارادوں کی بات اچھی کہی…

  • ڈفر - DuFFeR

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 11:34 pm

    ہمارے سیاستدان اور فوج ہم سے بالکل مخلص نہیں
    بالکل ویسے ہی جیسے ہماری قوم اپنے وطن سے مخلص نہیں
    اور یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت کشمیریوں کو پاکستان سے کوئی لگاؤ نہیں
    کشمیریوں مطلب ، کسی بھی طرف کے کشمیریوں کو

  • کاشف نصیر

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 4:12 pm

    وقار اعظم صاحب میں نے بھی سی او ڈاٹ سی سی پر ڈومن بنایا ہے لیکن وہاں ورڈ پریس 3 انسٹال نہیں ہورہا اور اردو تحریر بھی سوالیہ نشان کی صورت میں نظر آرہی نیز کوئی اچھی تھیم بھی درکار ہے. اس سلسلے آپ کیا مدد کرسکتے ہیں.

    لنک یہ ہے
    http://kashifnaseer.co.cc

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 5:50 pm

      کاشف صاحب… اگر تحریر سوالیہ نشان کی صورت میں نظر آرہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اپ نے ڈیٹا بیس کی کیرکٹر انکوڈنگ یونیکوڈ پر سیٹ نہیں کی ہے۔ آپ اپنا ای میل چیک کیجئے اور ای میل کے ذریعے رابطہ کیجئے۔

  • کاشف نصیر

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 7:33 pm

    وقار اعظم بہت دن ہوگئے آپ نے کوئی مضمون نہیں لکھا، اردو بلاگستان والوں کو آپکی یاد ستا رہی ہے.

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 12:21 am

      ارے کاشف صاحب کچھ لکھنا ہمارے ہیے ایک مشکل ترین کام ہے. اور یہ کام ہم سے کبھی کبھارہی سرزد ہوتا ہے…. خیرآپ کی خواہش کے پیشِ نظر میں کوشش کرتا ہوں کچھ الٹا سیدھا لکھنے کی… 😀

  • عمّار

    Sunday، 18 July 2010 بوقت 10:16 pm

    سعد: شاید آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو لوگ دنیا کو امن دینے کی بات کر رہے ہیں وہ صرف ایک ڈھونگ ہے ساری دنیا میں فتنہ فساد ہو رہا ہے جسکے پیچھے صرف اسراییل اور اُس کے ہمنوا ملک ہیں جیسے ہندوستا ، امیریکہ، برطانیہ، اور یہاں تک کہ پاکستانی حکمران سب انسانیت کے قاتل ہیں آپ کو کس پہلو سے امن کی آشاءیں ناچتی ہوی نظر آ رہی ہیں

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 18 July 2010 بوقت 1:12 pm

      عمّار صاحب، سعد کا اشارہ ان نام نہاد روشن خیالوں کی طرف ہے جو بھارت سے دوستی کے لیے مرے جارہے ہیں۔ اور یہاں پاکستان میں امن کی آشاء کے عنوان سے بھارت سے دوستی کی تحریک چلارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *