ہائے کراچی، وائے کراچی

موضوع: شہر قائد, گوشئہ انتخاب

یکم جولائی کی رات اہل لاہور کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی ۔ اس رات انسانیت کے شکاریوں نے ایک ہی ہلے میں 43 ہنستے بستے اور زندگی سے بھرپور انسانوں کا شکار کرلیا۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کا مزار لہو رنگ ہوگیا۔ میں نے سوچا کہ شہر لاہور کا نوحہ لکھوں، پھر خیال آیا کہ کس کس کا نوحہ لکھوں؟ شہر کراچی کا نوحہ لکھوں جہاں اس سال اب تک ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے واقعات میں 600 سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں یا پھر کوئٹہ کا دکھڑا روئوں کہ جہاں غیر بلوچوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ اہل پشاور کے آنسو پوچھوں کہ جو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں اپنا شہر ہی کھوچکے یا میں اپنے ملک کے ایک حصے پر ہونے والے ڈرون حملوں کی مذمت کروں کہ جس میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانوں سے گئے یا سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشن کی کہانیاں لکھوں کہ کس طرح ہماری سرحدوں کی حفاظت کی ضامن فوج کے جری سپوت اتنے جری ہوگئے کہ معصوموں کو مارنے کے بعد ان میں پیسے تقسیم کرتے ہیں کہ تمہارے عزیزوں کو مارا تو کیا ہوا ؟ غلطی ہوگئی ، یہ لو اس کے بدلے میں کچھ پیسے رکھ لو۔۔۔۔


اسی دوران سانحہ داتا دربار پر مختلف لوگوں کی تحریریں نظر سے گذریں جن کے فاضل مصنفین کی تان اسی نکتے پر ٹوٹی کہ سارا کچھ پنجابی طالبان کا کیا دھرا ہے اور پھر جنوبی پنجاب میں آپریشن پر اصرار ۔ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے شاید انسان نہیں  تبھی کوئی یہاں قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے کیے کسی قسم کے آپریشن پر اصرار نہیں کرتا۔
بہرحال لاہور کا نوحہ تو لوگ لکھ چکے، ہم نے سوچا کہ ہم کچھ کراچی پر ہی لکھ ڈالیں، اسی اثناء محترم ابونثر صاحب کا ایک کالم نظر سے گذرا جو میرے دلی جذبات کی بھرپور ترجمانی کر تا ہے لہذا افادہء عام کےلیے یہاں پیش کیاجارہا ہے ۔ امید ہے کہ بہتوں تو اس سے افاقہ ہوگا۔

————–*******————-

ہائے کراچی۔۔۔۔ وائے کراچی!۔

مصنف: ابونثر
ہم ہنستے تھے۔۔۔۔۔ اے عزیزو! ۔۔۔۔۔ ہم مُنہ چھپا چھپا کر ہنستے تھے۔ جب اپنے بچپن میں ہم دِلّی چھوڑ کرکراچی ہجرت کر آنے والے بزرگوں کو دکھ درد اور حسرت ویاس بھری جھنجھلاہٹ کے ساتھ آہ بھر بھر کر یہ کہتے ہوئے سُنتے تھے کہ:
“ہائے دِلّی ، وائے دِلّی۔۔۔۔۔۔۔ بھاڑمیں جائے دِلّی!”
مگراب ہمیں اُس ہنسی کا حساب دینا پڑرہا ہے۔ ہائے کراچی۔۔۔۔۔ آہ کراچی۔۔۔۔۔وائے کراچی۔۔۔۔۔۔ واہ کرچی!
پچاسی، چھیاسی سے پہلے کے کراچی کی (صرف ٹریفک کے دھوئیں سے بھری) فضا میں جولوگ سانس لیا کرتے تھے، آخر اُن میں سے سب کے سب تو ٹارگِٹ کِلنگ میں ہلاک نہیں ہوگئے۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ اب تک اُن تمام کراچویوں کی بوری بند لاشیں برآمد ہوچکی ہوں۔ اُن میں سے بہت سے اب تک زندہ ہیں۔ اور بعضے بعضے تو اِس ظلم وستم بھری فضا میں زندگی گذارنے پر شرمندہ بھی ہیں۔ ۔کہ اب کراچی کی فضا میں بارود کا دھواں اور یتیموں، بیوائوں اور بے بس و بے کس مظلوموں کی آہوں کا دھواں بھی بھر گیا ہے۔ زندگی باعث شرمندگی کیوں نہ ہو؟

————–*******————-

شرمندہ نہیں تو بس وہ نہیں کہ جنھوں نے کراچی کو اِ ن نوبتوں تک پہنچایا ہے۔ اُس کراچی کو جو پہلے شہر قائد ہی نہیں شہر قیادت بھی تھا۔  کیسے کیسے چمک دار ہیرے اِس عروس البلاد کے زرّیں تاج پر جگمگایا کرتے تھے۔ قائدین کی فہرست بہت طویل ہے۔ سب کا شُمار ممکن بھی نہیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری۔مولانا شاہ احمد نورانی۔ محمود اعظم فاروقی۔ پروفیسر عبدالغفور احمد۔پروفیسر شاہ فرید الحق۔ افتخار احمد۔ سیدسعید حسن عرشی۔ ڈاکٹر اطہر قریشی۔مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری۔سید منور حسن۔مولانا محمدزَکریا۔پروفیسر این ڈی خان۔ نعمت اﷲ خاں ایڈوکیٹ۔ بابائے کراچی عبدالستارافغانی۔ ڈاکٹر مبین اختر۔ ظہورالحسن بھوپالی۔ حاجی حنیف طیب۔ حافظ محمد تقی۔ حکیم صادق حسین۔ حکیم محمد یامین صدیقی۔ حکیم سید اقبال حسین۔ اسلم مجاہد۔ آپا بلقیس صوفی۔ ڈاکٹر فریدہ احمد۔ عائشہ منور۔ وغیرہ وغیرہ۔کچھ وہ کہ جن سے کراچی کے نام کی آبرو تھی۔سو کراچی کی آبرو برباد کرنے ہی کو وہ شہید بھی کردیے گئے۔ اِن میں سے تین نام اوپر آچکے ہیں۔ ڈاکٹر اطہر قریشی،  حافظ محمدتقی اور اسلم مجاہد۔مگر شہداءکی طویل فہرست میں حکیم سعیدشہید کا نام بھی شامل ہے، صلاح الدین شہید کا بھی اور مفتی نظام الدین شامزئی شہید کا بھی۔شہر کے شہیدوں کی تو ایک لمبی قطار بندھی ہوئی ہے۔کہ جن کے خون سے…. خاکِ چمن کو لالہ قبا کردیا گیا۔

————–*******————-

سَن پچاسی، چھیاسی کے بعد جوقیادت آئی،  اپنی اُس قیادت کے نام سُن سُن کر اِس گہوارہ شعروادب کے شہریوں نے دانتوں تلے اُنگلیاں داب داب لیں۔ کیا خبر کہ کسی نے کاٹ بھی لی ہوں۔ فلانا لنگڑا،  فلانا لُولا۔ فلاناٹُنڈا۔ فلانا لُنجا۔ فلانا بارہ انڈے اور فلانا بیس انڈے۔ اِن تمام گندے انڈوں نے شہر کا جو حشر کیا وہ بھلا کس سے مخفی ہے؟  ٹارچر سیل۔ جسم پر چِرکے۔ ٹانگوں میں ڈرِل۔بوری بند لاشیں۔ گلیوں پر گیٹ۔ محلّوں میں مسلح گشت۔ بازاروں میں بندوق برداروں کے غول۔گھروں میں ڈاکے۔ دُکانوں اور تجارتی اِداروں سے بھتہ۔ دفتروں اور بینکوں میں نقب زنی۔ چوراہوں اور راستوں میں رہزنی ۔ موبائل فون اور نقدی سمیت جیب میں جوکچھ بھی ہے اُس کی جابجا چھین جھپٹ۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر حملہ برائے ڈکیتی۔ آج ہی بننے والی دُلھن سے عروسی زیورات کا سرقہ بالجبر۔ بس، ویگن اور کوچ کا اغوا برائے قزاقی۔ منشیات، جوے اوردیگرجرائم کے اڈّوں کی بالمعاوضہ سرپرستی۔سرکاری اور نجی املاک پر مسلح قبضہ۔ کسی کی نجی ملکیت کو اپنے اِنھی غاصبوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے خطیر معاوضہ پر کرائے کے مجرموں کا کردار ۔کوچہ وبازار میں اندھا دھند قتل۔ گھروں، ہوٹلوں اور ٹھِیوں ٹھکانوں پر پہنچ کر ٹارگِٹ کلنگ۔ متعدد مرتبہ شہر بھر میں قتلِ عام اور لوٹ مار۔کیا یہ سب کچھ سَن پچاسی، چھیاسی سے پہلے بھی ہوتا تھا؟ اِسی طرح سے اور اِسی پیمانے پر؟۔۔۔۔۔ سوچنے کی جائے ہے۔

————–*******————-

سوچنے کی بات تویہ بھی ہے کہ شہر کے شہر کو غارت کردینے والی یہ قیادت آخر شہر پر مسلط کیسے ہوئی؟ظاہر ہے کہ جمہوریت کے راستے سے اور جمہوریت کے واسطے سے۔ جب تک آٹھ آٹھ گھنٹے کی پولنگ میں انھیں ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ نہ پڑے تب تک یہ اِس قدر طاقتور اورتوانا نہیں ہوئے تھے۔ ایسا نہیں کہ خیر کی طاقتوں، تعصب کی بجائے محبت اور اخوت کے داعیوں اور امن کے علم برداروں نے اِن کا جمہوری مقابلہ نہ کیا ہو۔ مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔ مگر جمہوریت میں اکثریت ہی برحق ہے۔ جو حرکتیں اور ہتھکنڈے ہماری دینی اور اخلاقی اقدار کی رُو سے سراسر ممنوع اور ناجائز ہیں بنامِ جمہوریت وہ سب جائز ہیں۔ چناں چہ دیکھ لیجیے کہ کبھی جمہوریت کے کسی چمپئن نے یہ نہیں کہا کہ شہر کی جمہوری نمائندگی کا حق حاصل کرنے کے لیے انھوں نے جو حرکتیں کیں اور جوہتھکنڈے استعمال کیے وہ غیر جمہوری یا ناحق اور ناجائز تھے۔ اِس بناپر یہ اِس شہر کے حقیقی جمہوری نمائندے نہیں ہیں۔ اِس کے بر عکس سب کے سب بالاجماع انھیں اِس شہر کا جمہوری نمائندہ تسلیم کرتے ہیں۔اِس کا مطلب اِس کے سوا اور کیاہے کہ بنامِ جمہوریت سب کچھ جائز ہے۔سو ہرجمہوری بدمعاش کے آگے ہماراسرتسلیم خم ہے۔

————–*******————-

اگرکسی نے ناحق کو ناحق اور ناجائز کو ناجائز کہا تو صرف اُنھوں نے کہا جوجمہورکے آگے نہیں اﷲ کے آگے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ ورنہ تو شہر کا شہر اِس سیلابِ بلاخیز میں بہہ گیا تھا۔ سوائے اُن کے کہ جن کو دعوتِ حق پیش کی گئی اوراُنھوں نے بسروچشم قبول کرلی۔ جن کی دینی اور اخلاقی تربیت کی گئی۔ جن کو خیر اُمّت کا ایک فرد ہونے کا احساس دِلایا گیا۔جن کو اُمّتِ وَسَط کی نمائندگی کے منصبِ بلند پر فائز ہونے کی یاددِہانی کرائی گئی۔ القصہ مختصر جن کے آگے انتخابی کنویسنگ نہیں بلکہ توسیعِ دعوت کی گئی۔ جن کے سامنے فریضہ شہادتِ حق سرانجام دیا گیا۔  بس یہی لوگ تھے جو اِس سیلابِ بلاخیز کے آگے ڈٹے کھڑے رہے۔ باقی سب بہہ گئے۔ اور یہی لوگ ہیں جو آج بھی اِس دھوپ میں مینار کی مانند کھڑے ہیں۔ یہی اِس اُمّت کا سرمایہ ہیں۔ اور یہی اِس ملت کے مقدر کا ستارا۔صرف یہی لوگ ہیں جو ظلم وستم کے راج کو بدل سکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ چہرے نہیں، سماج کو بدلتے ہیں! اور یہی وہ لوگ ہیں جو جمہوری اکثریت کے آگے مولانا محمد علی جوہر کے غیر جمہوری اشعار گنگنایا کرتے ہیں:
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے
کیا غم ہے جو ہے ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہی، اگر ایک خدا میرے لیے ہے

————–*******————-

شہروں کا نوحہ اور مرثیہ بالعموم اُن کے مکمل سقوط کے بعد لکھا جاتاہے۔ اُس وقت کہ جب کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے پیشگی لکھ دیا ہے کہ ابھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ابھی اِس شہر کے جمہوری قابضین کے ہاتھوں مکمل طورپر اِس شہر کا بیڑا غرق نہیں ہواہے۔ سَن پچاسی، چھیاسی سے پہلے کے کراچی کی فضا میں جولوگ سانس لیا کرتے تھے، آخر اُن میں سے سب کے سب تو ٹارگِٹ کِلنگ میں ہلاک نہیں ہوگئے۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ اب تک اُن تمام کی بوری بند لاشیں برآمد ہوچکی ہوں۔ اُن میں سے بہت سے اب تک زندہ ہیں۔ کیا اُن کا جی نہیں چاہتا کہ امن، محبت اور اخوت کی اُجڑی ہوئی دُنیا پھر سے آباد ہوجائے؟ کراچی کے شہریوں کو اُن کا گم گشتہ طبعی اطمینان، ذہنی سکون اوردِل کاچین پھر سے واپس مل جائے؟ کیوں نہیں چاہتاہوگا۔ مگر وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں۔ تکمیلِ آرزو کے لیے کچھ کرنا بھی پڑتاہے۔ سربہ فلک بلندوبالا عمارتوں، سرکے اوپر سے سرکتی ہوئی( بالائی) سڑکوں اورتیز روشنیوں کی چکاچوندمیں ہمہ وقت کسی غیر متوقع واردات کے وقوع پذیر ہوجانے کے خوف سے خائف وخاموش، لرزاں اور ترساں شہریوں کے درمیان بکھری ہوئی، خیر کی ایک بہت بڑی طاقت غیر فعال حالت میں ابھی تک موجود ہے۔ بس اِس طاقت کو مجتمع، متحد اور متحرک کرنے کی دیر ہے، تواِس کار خیر میں اب دیر کاہے کی؟ مگر یہ بات یاد رہے کہ کسی اور طریقے سے نہیں:
سکون و چین آئے گا نورِ لااِلٰہ سے
یہ شہر جگمگائے گا نورِ لااِلٰہ سے

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

ہائے کراچی، وائے کراچی پر اب تک 51 تبصرے

  • ملا نصیر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 9:52 pm

    مولانا مودودی زندہ باد، جماعت اسلامی زندہ باد، مولانا محمدوقار اعظم زندہ باد

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:29 pm

      کوریائی مہمان، شکر ہے اللہ نے آپ کو بھی ہدایت دی.
      یو.آر.ایل میں نے ہٹا دیا ہے. آپ سے گزارش ہے کہ اپنا فیملی لنک نہ لگایا کریں. ورنہ فیملی پروفیشن سب کو پتہ چل جائے گا.
      :mrgreen:

  • نغمہ سحر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:31 am

    منافقعت کی چادر اتارو سب سچ نظر آجائے گا- داتا دربار کی بے حرمتی پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں تماری تحریروں میں دیشت گردوں سے ہمدردی صاف نظر آرہی ہے – عنقریب ان وحشی درندوں،انسانیت کی دشمن،مسلمانوں کے قاتلوں اور خوارج نشانیوں کے ساتھ ان کے ہمدروں کا بھی خاتمہ ہوگا- انشاءاللہ

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:52 pm

      منافقت کی چادر کس نے اوڑھ رکھی ہے یہ تو تبصرے سے ظاہر ہے… اور کس کا خاتمہ ہورہا ہے یہ تو وقت بتا ہی رہا ہے…

  • عثمان

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 2:39 am

    ملک کے ہر حصے میں رہنے والوں نے اپنے اپنے حصے مییں آگ لگا رکھی ہے.
    کیا آپ اب بھی کراچی ہی میں رہتے ہییں؟
    اور یہ ابونثر کس اخبار مییں کالم لکھتے ہیںِ

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 4:13 pm

      ٹھیک کہا جی آپ نے. اور ہم اب بھی رہتے ہیں اسی اجڑے دیار میں. یہ ابو نثر صاھب روزنامہ جسارت میں کالم لکھتے ہیں.
      http://www.jasarat.com/epaper

  • نعمان

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 8:31 am

    آپ شاید اخبارات نہیں پڑھتے کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کے خلاف پولیس آپریشن پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے۔ اپنی معلومات کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے لئے مختلف اخبارات کا مطالعہ کرتے رہا کیجئے۔

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 4:24 pm

      نعمان بلاگ پر آمد اور تبصرے کے لیے شکریہ.یہ توجی بس میں نے یونہی بونگیاں ماردی ہیں… آئندہ آپ کے مخلصانہ مشورے پر عمل کرنے کے بعد ہی کچھ لکھوں گا اس بارے میں.

    • ڈفر - DuFFeR

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:17 am

      خیر سے اس اپریشن کی کیا آؤٹ پٹ ہے؟

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 1:09 pm

    سحر جی یہی کام اب بھی ھو رہا ھے!!وہ وقت عنقریب والا کب آئے گا؟کیا نظر نہیں آرہا؟یہی نفرت یہی الزام تراشی ھے۔ڈرون حملے بھی یہی لوگ کر رھے ہیں۔اور ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے بغض بھی یہی لوگ ڈال رھے ہیں۔نعمان پاکستان کی پولیس کے کیا کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 5:49 pm

      یاسر بلکل صحیح کہا جی آپ نے، پاکستان کی پولیس کے کیا کہنے۔ میٹل ڈیٹیکٹر اور پولیس گارڈز کے باوجود حملہ آور دربار میں داخل ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔

  • صفدر علی صفدر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:59 pm

    میاں وقار… عقل کے اندھوں کو کیا سمجھا رہے ہو… سحر جی کا تبصرہ نہیں پڑھا آپ نے … کتنی بار کہا ہے جسکی عقل جتنی ہو اس سے اتنی ہی بات کیا کرو… مگر آپ کو تو سچ بولنے کی پڑی رہتی ہے…ایسوں کو اپنا دہی کبھی کھٹا نہیں لگتا… اب سنبھالو انکی منافقت کی چادر…کافی بڑی جو ہے.
    :mrgreen:

    • ڈفر - DuFFeR

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:17 am

      درست آکھا

      • محمدوقار اعظم

        Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:42 pm

        گرو جی آپ مہان ہیں اور آپ کے گر بھی. میرے جیسے نوواردوں کے لیے تو اتنا گھڑمس ہی کافی ہے. دل خیر سے گاندھی گارڈن ہوگیا ہے.
        :mrgreen:

  • […] This post was mentioned on Twitter by umal Baneen. umal Baneen said: Check out: "ہائے کراچی، وائے کراچی"( http://twitthis.com/4oypi4 ) […]

  • محمد ابرار

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:37 am

    جناب وقار آعظم صاحب
    آپ کا بلاگ پڑھ کر سوچ رہا ہوں کہ اس پر کیا تبصرہ کروں آپ کے طرز تحریر پر کچھ لکھوں یا انداز بیان پر یا پھر زاویہ سوچ کو موضوع بناٖؤں ـ
    بلاگ کی ابتدا تو اس عظیم سانحہ کی نوحہ خوانی سے ہوئی جس کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوٖئی بدبخت ایسا کر سکتا ہے مگر جب زمےداروں کے تعین کی بات آئی تو رخ کراچی کی طرف کرلیا جیسے کراچی کی ٹارگٹ کلنگ کی اہمیت زیادہ ہو اور سانحہ داتا دربار کی اہمیت کم ٹارگٹ کلنگ کے زمے داروں کا تعین اس طرح کرتے ہو جیسے ہر واقیعے پر خود موجود ہو مگر جب مسجدوں، مزاروں اور بازاوں میں انسانوں کے چھیتڑے ہوجاتے ہیں تو تمھاری آنکھوں پر پٹی بند جاتی ہے تمیں کچھ نظر نہیں آتا نہ پنجابی طالبان نہ پختون طالبان اور نہ ہی قبائلی طالبان یہ نام خود طالبان نے اپنی شناخت کیلئے رکھے ہیں ـ
    میرا یہ تبصرہ صرف تمارے بلاگ کے شروع کی لائنوں کیلئے ہے ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں الگ بلاگ لکھو پھر تبصرہ ہوگا ـ
    محترمہ نغمہ سحر صاحبہ کی یہ بات کہ ان جاہل اور گمراہ لوگوں کا جلد خاتمہ ہوگا کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے میں آپ کی اور آپ کے تبصرہ نگاروں کی نظر حضرت مولانا روم کے اشعار کا ترجمعہ نظر کرتا ہوں جو اپنے اندر معانی کا ایک سمندر لئے ہوئے ہے۔
    جب بندہ اپنے پیارے رب کے جلوؤں میں گم ہو جائے تو محبتیں ایک ہوجاتی ہیں چاہتیں ایک ہوجاتی ہیں دشمنیاں ایک ہوجاتی ہیں اور جس سے اللہ محبت کرے اللہ اس کا دوست ہوتا ہے اور اللہ کے دوستوں سے انبیاء محبت کرتے ہیں انبیاء جن سے محبت کرتے ہیں وہ اولیاءکرام ہوتے ہیں اور جو کوٖئی اولیاء کرام کی بے ادبی کرے گا اللہ کے انتقام نشانہ بنے گا۔ قہر خداوندی سے کیا کوئی بچ سکا ہے ـ
    کیا تم ان نام نہاد اسلام کے ٹھکیداروں سے واقف نہیں ہو جنہوں نے رحمان بابا کے مزار کو بموں سے آڑانے کی جسارت کی بزرگان دین کی قبروں کی بحرمتی کی اور لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں پر لٹکایا۔کیا ایسے لوگ چپ سکتے ہیں۔افسوس ہوتا ہے جب آپ جیسے لوگ بیگانہ بن کر ان دیشت گرد اور گمراہ لوگوں کی پردہ داری کرتے ہیں اور زمے دار امریکہ ،انڈیا یا بلیک واٹر کو ٹہراتے ہیں۔
    اب اس نظریہ سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ خود کو سچا مسلمان سمجھو اور دوسروں کو کافر اور یہی وہ نظریہ ہے جس کے تحت تربیت پانے والے لوگوں کی آنکھیں نم نہیں ہوتی اور نہ چہرے پر کوئی افسوس ہوتا ہے جب کسی مخالف نظریہ کی مسجد کو یا کسی مزار کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے تو یہ لوگ عوام کے غصہ کا رخ کھبی پولیس تو کھبی فوج کی طرف کرنے کی کوشش کرتے
    واضع رہے کہ ہمارے ملک میں ایسے مکتب فکر بھی ہے جو ان وحشانہ کاراوئیوں میں ملوث گرہوں کو اپنا اثاثہ کہتا ہے

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 4:36 pm

      ابرار بھائی۔۔۔۔
      ٹارگٹ کلنگ کے متعلق تو آپ نے لکھا ہے کہ تم ذمہ داروں کا تعین ایسے کرتے ہو جیسے خود وہاں موجود تھے لیکن آپ خود کش حملوں کے ذمہ داروں کا تعین تو ایسے کررہے ہیں کہ جیسے آپ وہاں موجود تھے۔۔۔

      مجھے آپ کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے ایسے مکتب فکر موجود ہیں جو صرف اپنے آپ کو ہی مسلمان سمجتے ہیں مگر جب آپ جیسے حضرات یہ سب کچھ کہتے ہیں تو ایک خاص مسلک کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص جو اسلام کا نام لیتا ہے قابل گردن زنی ہے کہ وہ شدت پسندی کے پھیلائو کا مرتکب ہے۔ اور ہر خود کش حملہ کرنے والا اسلامی شدت پسند ہی ہے کیونکہ وہ جنت کے حصول کی خاطر ایسا کرتا ہے۔

      میرا جناب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ غربت و افلاس اور بھوک و بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنے ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں کا بھی خاتمہ کرلیتے ہیں۔ کیا ایسے حالات میں خودکش حملہ آوروں کی فوج بھرتی کرنا کوئی بہت مشکل کام ہے۔ مجھے سوات اور وزیرستان میں برسر پیکار نام نہاد طالبان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، لیکن ان کی سرکوبی کے لیے وحشیانہ طاقت کا استعمال کہ جس میں ظالم اور مظلوم کا فرق روا نہ رکھا جائے، ان کی قوت میں اضافے کا باعث نہیں بن رہا؟

      آپ کو امریکہ انڈیا اور بلیک واٹر کو ذمہ دار ٹھرانے پر بھی اعتراض ہے۔ یہ پاکستانی فوج ہی تھی کہ جس نے سوات اور ملاکنڈ میں آپریشن کے دوران ہندوستانی ساختہ انساس رائیفل سسٹم، ریڈیو ٹرانسمیٹر اور دوسرے پیچیدہ آلات پریس کے سامنے پیش کئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان نام نہاد طالبان کے ہر ریکروٹ کا مشاہرہ پاکستانی فوج کے سپاہی کی تنخواہ سے کئی گنا زیادہ ہے توکیا یہ سب وہ چاچے کے گھر سے لارہے ہیں؟

      اور آخر میں یہ کہ آپ نے نغمہ سحر صاحبہ کی مدح سرائی کی ہے لیکن میرا طرز تحریر اور انداز بیان شاید برا لگا ہے۔ حالانکہ نہ تو میں نے کسی کی ذات کو براہ راست نشانہ بنایا ہے نہ کسی پر منافقت کا الزام لگایا ہے پھر بھی الزام ہمیں شدت پسندی کا۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔۔۔۔۔
      کراچی کے بارے میں مضمون پر آپ کے تبصرے کا انتظار ہے۔۔۔۔۔۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 10:30 am

    وقار آپ سے کہا بھی تھا۔جادوائی گانے سے بچنے کیلئے معوذتین پڑھ لو۔

  • محمدوقار اعظم

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:28 pm

    ساتھیو اور سجنو!….. خبردار، ہوشیار. اب تک اس پوسٹ پر درجنوں تبصرے کوریا سے موصول ہوچکے ہیں جن میں مجھے اور دیگر تبصرہ نگاروں کو بہترین قسم کی گالیوں اور القابات سے نوزا گیا ہے اور مختلف پورنو لنک سبمٹ کئے گئے. یہ تبصرے مختلف ناموں سے موصول ہوئےلیکن ایک ہی آئی پی سے.
    چند ناموں کا یہاں ذکر کردیتا ہوں…
    1- کاشف نصیر
    2- بد تمیز
    3- ملا نصیر
    لہذا ہوشیار رہیں اور اپنا ای میل سنبھال کر رکھیں تاکہ یہ کہیں کسی اخلاق باختہ تبصرے میں استعمال نہ ہو.
    ثبوت کے طور پر میرے ایڈمن پینل کا اسکرین شاٹ حاضر ہے.
    http://blog.waqarazam.co.cc/wp-content/uploads/2010/07/Korea_comments.jpg
    اس کا علاج تو میں نے کر لیا ہے اور اس آئی پی کو بین کردیا ہے. انجمن بلاگستان کو اس مسئلے پر کچھ وچار کرنا چاہئے.

  • افتخار اجمل بھوپال

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 6:17 pm

    تو آپ نے ميرے بلاگ پر طنزيہ تبصرہ کيا ہے ۔ مياں ۔ ميری ہيموگلوبن پہلے ہی 12.7 ہے کيوں مزيد خون جلاتے ہيں

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:06 pm

      حقیقت تو آپ جان ہی گئے ہونگے، لہذا خون مت جلایا کیجئے، ہیموگلوبن پہلے ہی مشکل سے بنتی ہے…..

  • جعفر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 6:25 pm

    یہ جماعتیے تو ہوتے ہی منافق ہیں۔۔
    دہشت گرد کہیں کے
    سارے شہر کو تکے جیسا کردیا اپنے الطاف انکل نے
    یہ قابو نہیں آتے۔۔۔

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 7:53 pm

      😆 😆 😆 😆 😆 😆

      • عبداللہ

        Saturday، 3 July 2010 بوقت 8:25 pm

        مجھے تو یہ مضمون پڑھ کر بہت مزہ آیا،اور مزید مزہ آنے والے الیکشنز میں آئے گا!!!!!!
        بلکہ اصل مزہ تو آتا ہی الیکشن میں ہے،کیوں صحیح کہانا میں نے!!!!!
        ؛)

        • محمدوقار اعظم

          Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:03 am

          دیکھ بھائی عبداللہ، بلکل ٹھیک کہا تم نے کہ اصل مزہ تو الیکشن میں ہی آتا ہے. وہ پلٹنا جھپٹنا، پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ، جعلی ووٹ بھگتانا، مخالفین کی ایسی کی تیسی کرنا، تو مزہ تو خوب آتا ہے.پر آپ بھائی لوگ الیکشن ہونے دو تب نا، نہ جانے کب سے بلدیاتی الیکشن کو لٹکایا ہوا ہے.
          :mrgreen:
          اور اگر الیکشن ہوگئے صاف و شفاف تو پھر بھائی، بھائی نہیں رہیں گے….
          😆

          • عبداللہ

            Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:13 am

            موڈریشن ہٹاؤ تو بات کرنے کا مزہ بھی آئے!
            🙂
            چلو پھر الیکشن کروا کر دیکھے لیتے ہیں!!!!!

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 11:08 pm

      جعفر صاحب، مجھے آپ سےیہ پوچھنا تھا کہ بارہ سنگھا کیا کھا تا ہے، گھاس یا چھترِ؟

      • جعفر

        Saturday، 3 July 2010 بوقت 10:45 am

        نئی نسل کے بارہ سنگھے گالیاں بہت شوق سے کھاتے ہیں۔۔۔

  • عبداللہ

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 8:26 pm

    یار بڑے بزدل ہو موڈریشن لگا رکھی ہے!!!!
    :)،:)،:)

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:32 am

      موڈریشن تو میں نے تمہارے کوریائی بھائی بندوں سے بچنے کے لیے لگائی ہے. جو جنگ میں سب کچھ جائز ہے والے مقولے پر یقین رکھتے ہیں لہذا بڑی شدو مد سے دوسروں کے ناموں کو استعمال کرتے ہوئے اخلاق باختہ تبصرے کرتے ہیں.
      😉

  • عبداللہ

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:09 am

    وہ ایک صاحب ہیں وقار اعظم میں نے انہیں اس خبر کا لنک بھیجا تو انہیں ہضم نہیں ہوا ویسے آنے والے دنوں میں ان حضرات کی بد ہضمی کے اچھے خاصے چانسس ہیں!
    خیر تو میں یہ لنک یہاں بھی لگائے دے رہا ہوں!
    🙂
    http://www1.voanews.com/urdu/news/lahore-arrests-05July2010-
    97796599.html
    فی الحال وہ جعفر سے بارہ سنگھے کی پسندیدہ خوراک کے بارے میں گفت و شنید فرمارہے ہیں،اب یا تو وہ جعفر کو بارہ سنگھا سمجھ رہے ہیں یا ان کی جون میں کسی قسم کی تبدیلی کے امکان ہیں ویسے جعفر کی پسندیدہ خوراک میں چھتر شامل ہیں!!!!!!

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 11:01 am

      یار جعفر کا تو مجھے نہیں پتہ ہاں بارہ سنگھے کی پسندیدہ خوراک کےبارے میں جانتا ہوں، میں تو بس یوں ہی کنفرم کرہا تھا. جعفر کو زیادہ تجربہ ہے بارہ سنگھے سے نمٹنے کا، اس لیے. ویسے تمھیں بارہ سنگھے کے ذکر سے بد ہضمی کیوں ہونے لگتی ہے؟
      😉

      • عبداللہ

        Saturday، 3 July 2010 بوقت 2:25 am

        میرا خیال ہے کہ تم پہلے پچھلے تبصرے پڑھ لو تاکہ تمھیں پتہ چل جائے،کہ جعفر کی بولتی کو صدمہ مجھ سے پہنچتا ہے یا مجھے اس سے!!!!!!!
        اور یہ تم سے کس نے کہا کہ مجھے بارہ سنگھوں کے ذکر سے بدہضمی ہونے لگتی ہے،اس کا کوئی ثبوت تمھارے پاس موجود ہے تو پیش کرو!!!!
        یہ جانور تو جعفر کا پسندیدہ ہے مجھے تو اس کی بدبو ہضم نہیں ہوتی!
        ؛) 🙂 🙂

        • عبداللہ

          Saturday، 3 July 2010 بوقت 2:25 am

          اب یہ مت پوچھنا کہ کس کی!
          ؛)

        • محمدوقار اعظم

          Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:22 pm

          تب ہی سونگھتے ہی دوڑے چلے آتے ہو.
          😆

          • عبداللہ

            Saturday، 3 July 2010 بوقت 7:07 pm

            میں ان میں سے ہوں جو بدبو کا خاتمہ چاہتے ہیں اسی لیئے تم جیسوں کی بدبو بھی ہضم نہیں ہوتی!
            🙂

  • کاشف نصیر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 4:16 pm

    ہاں بھئی عبداللہ صاحب کراچی میں الیکشن کی بعد میں کیجئے گا پیلے اپنی جماعت میں الیکشن کراکر الطاف بھائی کی دائمی غلامی سے آزاد تو ہوجائیں.

  • محمد ابرار

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 9:22 pm

    لاہور اور پنڈی کے الیکشن میں مزا نیں آیا شاٖئد بارا مسالے کی عادت پڑگئی ہے۔۔۔۔۔؟

  • نغمہ سحر

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 2:11 am

    ٹویٹر پر ایک ہمدردانہ مشورہ ہے تمارے لئے۔

    جادوئی گانا نہیں صبح کا ترانہ ہے تمارے لئے۔

    عمل کروگے تو مستقبل بہتر تمارا۔

    نہیں کروگے تو رسوائی مقدر تمارا

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 3:14 pm

      واہ بہت خوب، شاعری کا ذوق بھی رکھتی ہیں آپ۔۔۔
      ٹویڑ پہ آپ کا نغمہ سحر پڑھ لیا ہےمیں نے۔ لیکن بات کچھ یوں ہے کہ:
      ہم لوگ اقراری مجرم ہیں۔
      😉

  • سعد

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 8:36 pm

    آپ کیلیے ایک مفت مشورہ۔ تبصرہ نگاروں پر حملہ آور مت ہوا کریں۔ (یہ بات کوریائی مہمان پر لاگو نہیں ہوتی)
    😉

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 9:38 pm

      آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن بریکٹ میں کوریائی مہمان کے ساتھ بارہ سنگھے کو بھی شامل کریں
      :mrgreen:

  • پھپھے کٹنی

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 10:40 pm

    اب آپ لوگ لڑائی بس کريں گے يا ميں اتاروں جوتی

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 12:08 am

      خاکسار ہے معافی کا طلب گار
      پر آپ رکھیں جوتی کو تیار
      کیونکہ بارہ سنگھا ہے بدہضمی کا شکار
      اور دیوانہ وار سینگھ اڑانے کو تیار

      اس سے پہلے کہ آپ جوتی اتاریں، میں بھاگ رہا ہوں۔۔۔۔

      • عثمان

        Saturday، 3 July 2010 بوقت 10:13 am

        بھائی جان۔۔
        آپ کہاں بھاگ رہے ہیں۔ میں ادھر جی میل پر پڑا پڑا سوکھ رہا ہوں۔ اور آپ ہین کہ چھپ چھپا کر ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ 🙁

  • طالوت

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 5:14 pm

    اے میرے عزیز وطن کے عظیم سقراطو و افلاطونوں ، بھیڑیے بھیڑیوں کو نہیں بھیڑوں کو پھاڑتے ہیں۔ داتا کے “شہیدوں“ اور کراچی کے “ہلاک“ اس اجتماعی بے حسی و بے شرمی و غیرت سے عاری رویے کا شکار ہوئے ہیں جس کا مظاہرہ تبصروں میں بھی کیا جا رہا ہے ۔
    (تبصرہ شائستگی سے بھرپور ہے۔ حذف کرنے کی صورت میں احتجاجی مراسلہ روانہ نہیں کیا جائے گا)
    وسلام

  • فرحان دانش

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 10:35 am

    اس پوسٹ سے تعصب واضح طور پرجھلک رہا ہے. یہ پوسٹ چیخ چیخ کر کہ رہی ہے کہ آپ جماعت غیراسلامی کے کارکن ہیں.

    1971 میں جماعت غیراسلامی نے سقوط ڈھاکہ سے قبل مکتی باہنی بنائی اور بنگالیوں کے قتل و غارت میں حصہ لیا اور ملک ٹوڑنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ؟؟؟؟حکومت کا حصہ بن کر ضیاءالحق کی آمریت کے دست و بازو بنے اور اس مزے لوٹے کیوں ؟؟؟؟ اس کا جواب کون دے گا.سَن پچاسی، چھیاسی تو بعد کی بات ہے.

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 3 July 2010 بوقت 5:23 pm

      فرحان دانش صاحب، میں آپ کی دانش کی داد دیتا ہوں…..
      قطعہ نظر اس کے کہ میں جماعت اسلامی کا کارکن ہوں یا نہیں، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ایک فاشسٹ تنظیم المعروف اسلحہ و لینڈ مافیا سے تعلق تو کوئی جرم نہیں لیکن جماعت اسلامی کا کارکن ہونا بہت بڑا جرم ہے. واہ بھئی اوہ….
      ہم نے کبھی کہا کہ آپ کا بلاگ چیخ چیخ کر یہی کہتا ہے کہ میں بھائی کا سرفروش ہوں…. :mrgreen:

      میں نے آپ کی دانش کو داد اس لیے دی ہے محترم کہ مکتی باہنی جماعت نے نہیں بلکہ بھائی کے فیورٹ ہندوستان نے پاکستانیوں کا قتل عام کرنے کے لیے بنائی تھی. وہی ہندوستان جہاں جاکر بھائی بڑے فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ “پاکستان کا قیام ایک سنگین غلطی تھی.” جماعت نے تو البدر اور الشمس بنائی تھی اور ان کو اس پر فخر ہونا چاہیے کہ مادر وطن کے تحفظ کے لیے اس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کیے…
      اور جی ضیاالحق کی گود میں پل کر جوان ہونے والے دوسروں کو اس کے دست بازو ہونے کا طعنہ دیتے ہیں. کیا کہنے…..

      وہ بھیا بات یہ ہے کہ اگر ہم بھائی لوگوں کی منافقت کی کہانیاں لکھنے بیٹھ جائیں تو یہ بلاگ کم پڑ جائے گا.
      آپ سے بس اتنی گذارش ہے کہ کوئی بات کرنے سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کرلیا کیجئے نہیں تو بندہ تعصب میں اندھا ہوکر کچھ بھی لکھ دیتا ہے.
      😉

  • کاشف علی

    Saturday، 3 July 2010 بوقت 2:04 am

    ماشاء اللہ
    اچھے تبصرے چل رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *