میں ایک بلاگر ہوں

موضوع: متفرقات

میں بزعم خود ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہوں، سائنس و ٹیکنالوجی میں کئی ڈگریاں میرے نام ہیں۔ میں خود کو ایک مصلح بھی سمجھتا ہوں۔ سماجیات میرا پسندیدہ موضوع ہیں۔ مجھ میں لکھنے کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ میں لکھتا ہوں اور بہت خوب لکھتا ہوں۔  میں نے اپنی آپ بیتیاں لکھ کر خوب نام کمایا ہے۔ اس دنیا کا کوئی موضوع میرے  دسترس سے باہر نہیں ہے۔ میں ہر موضوع پر بلا تکان لکھ سکتا ہوں۔ یہاں تک کہ میں دین کے معاملے میں بھی اپنی چول مارنے سے باز نہیں آتا۔  میں دین میں جامد تقلید کا قائل نہیں ہوں۔ مجھے سخت غصہ آتا ہے جب لوگ 1400 سو سال پرانی تاویلات نام نہاد حدیثوں کی روشنی میں بیان کرکے ماشااللہ ، جزاک اللہ کرنا شروع کرتے ہیں۔ میں ہر اس جگہ اپنے سینگ پھنسانے سے باز نہیں آتا جہاں کوئی اس قسم کی حرکت کرے۔

میں جیسا دیس ویسا بھیس کے نظرئیے کا قائل ہوں۔ مطلب کے روم میں رہنا ہوتو رومی ہوجائو۔ یعنی  ننگوں کے درمیان رہنے کے لیے ننگا ہونا ضروری ہے۔ اگر زندگی شرابیوں کے درمیان گزارنی ہے تو شراب پینی ہوگی۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میں جامد تقلید کا قائل نہیں ہوں۔ میں مساوات مرد و زن کا بھی قائل ہوں۔  مغربی معاشرے کی خواتین میرے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہیں جو جوانی کی عمر تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کتنے مردوں کو ٹھونک بجا کر دیکھ و پرکھ لیتی ہیں پھر اگر شادی کا خیال آجائے تو ان میں سے کسی ایک کو جیون ساتھی چن لیتی ہیں۔ مجھے مسلم معاشروں میں خواتین کی حالت زار پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ بیچاری اپنی ساری زندگی اپنے گھر، بچوں اور شوہر کے درمیان ہی گزار دیتی ہیں۔  مجھے پنجاب کے دیھاتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے والی بے کس خواتین بہت پسند ہیں، کیونکہ وہ پردہ نہیں کرتیں۔  جب کبھی کوئی اپنے جامد خیالات کی روشنی میں حجاب کے بارے میں اپنی 1400 سو سالہ تاویلات پیش کرتا ہے تو میں ان ہی خواتین کو مثال بنا کر پیش کرتا ہوں   کہ جناب آپ کے ان خیالات کی روشنی میں تو ان دیھاتوں میں کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین یقینا رنڈیاں ہونگی؟  لوگ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ جناب فریق مخالف نے کب کہا ہے کہ جو پردہ نہ کرے تو وہ یقینا ____ ہی ہوگی؟   ہاں یہ سب کچھ کہتے ہوئے مجھے اس بات کا کوئی خیال نہیں آتا کہ ان ہی کھیتوں میں کام کرنے والی یہ بے بس و بے کس خواتین تمام تر دینی و دنیوی علوم سے بے بہرہ ہونے کے باوجود جھک کر کوئی چیز کسی کو دینے لگے تو اس کی غیرت و حمیت یہ گوارا نہیں کرتی اور وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیتی ہے تاکہ مردوں کی غلظ نگاہوں سے محفوظ رہے۔

——–oo——–

میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہوں۔ سائنس کی اعلیٰ ترین ڈگری سے مجھے نوازا جاچکا ہے۔ ایسی ڈگری کہ جس کی اس ملک میں رہنے والے 18 کروڑ لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ لہذا میں ان تمام کو کم عقل اور کم علم سمجھنے میں حق بہ جانب ہوں۔ میرا بلاگ اس بات پر شاہد ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی، معیشت، معاشرت، سیاست، حکومت، دفاع، اسلامیات الغرض  دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس پر میں نے تبع آزمائی نہ کی ہو۔

مجھے اس ملک میں ہونے والی ہر کاروائی کے پیچھے اسلامی شدت پسندوں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ گلی کے نکڑ پر کسی لڑکی کو چھیڑنے والے سے لے کر کسی مجبور و بے کس خاتون کو بے آبرو کرنے والے تک اور خود کش حملوں سے ٹارگٹ کلنگ تک ہر چیز کا ذمہ دار اسلامی شدت پسند ہی ہے۔ مجھے اس ملک میں اسلامی شدت پسندوں کی اکثریت نظر آتی ہے۔ اب بندہ پوچھے کہ جناب یہ کیسے اسلامی شدت پسند ہیں جو ہر بار انہی لبرل فاشسٹوں کو اپنے سروں پر سوار کرلیتے ہیں اقتدار سونپ دیتے ہیں۔ لیکن مجھے اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ان ہی شدت پسندوں کی اسلام اسلام کی رٹ کی وجہ سے ملک اس حال میں ہے ورنہ اب تا ہمارے سارے دلدّر دور ہوچکے ہوتے۔

میری زیادہ تر تحریریں میرے ذاتی خیالات اور میرے ساتھ بیتے واقعات پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو ٹی وی لائونج میں فلاں چینل سے فلاں پروگرام میں غامدی صاحب اور فلاں فلاں ملا موجود تھے اور ان نام نہاد ملائوں کے پاس غامدی صاحب کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔یا میں اپنے ایک عزیز ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں ان کے ہسپتال جارہا تھا جو انہوں نے غریب عورتوں کو فلاں بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے بنایا ہے۔ دوران سفرڈرائیور کے دین، ملک و ملت کے بارے میں خیالات یا  گھر میں کام کاج کے لیے آنے والی ماسی  کے خیالات عالیہ کی روشنی میں کچھ لکھ کر اسلام اور اسلامی شدت پسندوں کی واٹ لگاتے ہوئے میں ذرا نہیں چوکتا۔اگر کوئی پوچھے کہ جناب آپ کو ان مزدور اور غریب لوگوں کی صرف منفی باتیں ہی کیوں نظر آتی ہیں۔ آپ کبھی ان کے خلوص و محبت، ایثار و قربانی اور قناعت پسندی کو مضوع بحث کیوں نہیں بناتے؟  اس طرح کی بکواس میں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا ہوں۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی مسئلے پر میرا موءقف  سب سے الگ اور منفرد ہو۔ اس کی وجہ سیدھی سی ہے۔ ظاہر ہےکہ اگر میں بھی وہی موقف اپنائوں جو جمہور کا موقف ہے تو پھر یہ تو کسی کو میرے بلاگ پر کھینچ کر لانے سے رہا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مسئلے کو ہی لے لیجیئے، پوری قوم انہیں چند ٹکوں کے عوض امریکہ کے حوالے کرنے والوں پر لعنت ملامت کررہی ہے اور انہیں واپس پاکستان لانے کا مطالبہ کررہی ہے لیکن میں نے جب اس موضوع پر قلم اٹھایا تو لکھاکہ میری نظر میں اپنے دین کے لیے ممتا کو قربان کردینے والی  عورت کے مقابلے میں اپنے بچوں کو پالنے کے لیے جسم فروشی کرنے والی عورت لائق تحسین ہے۔ نام نہاد اسلام پسندوں نے کہا کہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ کہنے کو تو دوسروں کے گھروں میں برتن ماجھ کر اپنی اولاد کی پرورش کرنے والی عورتوں کا بھی حوالہ دیا جاسکتا تھا لیکن۔۔۔ہنہ۔۔۔۔

مجھے مسئلہ معترضہ پر لکھنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ مثلا اسلام میں لونڈی غلاموں کا مسئلہ، اجتہاد کے مسائل، مسئلہ قضاء و قدر وغیرہ وغیرہ۔  اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ یوں ہیں کہ جناب بلاگ پر ٹریفک بڑھ جاتا ہے۔ تبصروں کی تعداد میں دن دونی رات چوگنی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور پھرتبصروں میں جو میں بزعم خود مخالفین کی ٹھکائی کرتا ہوں  کہ بس مت پوچھیں۔مجھے اپنے بلاگ پر بے نام تبصرے بہت پسند ہیں ،  جب بھی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ میرا ساتھ دینے کے لیے آ موجود  ہوتے ہیں اور مخالفین کی وہ ماں بہن ایک کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔

آپ اب تک تو مجھے پہچان چکے ہوں گے۔ جی ہاں میں ایک بلاگر ہوں۔۔۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

میں ایک بلاگر ہوں پر اب تک 31 تبصرے

  • مکی

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 6:32 pm

    اگرچہ باز کسی نے نہیں آنا.. پھر بھی خوب لکھا.. داد قبول فرمائیے.. 🙂

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 6:48 pm

    واہ واہ
    ارے پیارے مولوی آپ نے تو دل خوش کردیا۔
    بڑے عرصے بعد طبیعت صاف کرنے والی تحریر پڑھنے کو ملی۔
    شکر ھےجی۔
    میرے پاس ڈگری نہیں ہے۔
    ورنہ میرا کیا ہوتا؟
    ویسے اب اگر کوئی آپ کی چھترول کرے تو۔۔۔۔۔
    بے فکر رہوجی۔
    کوئی غلط بات تو ھے نہیں!!
    😆 😆 😆

  • یاسر عمران مرزا

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 6:51 pm

    بلاگران کی ایک دوسرے کو نشانہ بنانے والی تحاریر اور چھیڑ خانی پر بھی لکھیے۔ ویسے فائدہ تو واقعی کوئی نہیں ہونا۔ کوئی خود کو غلط تسلیم کرتا ہے نہ اپنے نقطہ نظر کو۔

    آپکے بلاگ پر تبصرہ کرنے والا جو حصہ ہے اس کی کیپشن درست نہیں ہیں، ای میل والے خانے کے اوپر ‘نام’ ظاہر ہو رہا ہے اور تبصرہ والے ڈبے کے اوپر ویب ایڈریس کا کیپشن ظاہر ہو رہا ہے۔

  • خاور کھوکھر

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 6:53 pm

    پوسٹ کے شروع ميں جو لکھا ہے
    ‎میں بزعم خود ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہوں، سائنس و ٹیکنالوجی میں کئی ڈگریاں میرے نام ہیں۔ میں خود کو ایک مصلح بھی سمجھتا ہوں۔ سماجیات میرا پسندیدہ موضوع ہیں۔
    ‎اس میں سے اگر یه الفاظ “سائنس و ٹیکنالوجی میں کئی ڈگریاں میرے نام ہیں۔” نکال دئیے جائیں تو
    ‎ایسا لگتا ہے که یه تو خاور کنگ کے متعلق لکھا جارها ہے
    ‎اتنا اچھا اور اچھے الفاظ میں تو جی خاور خود بھی نهیں لکھ سکتا تھا اپنے متعلق
    ‎بڑی جاندار تحریر هے

    ‎وھ پنجابی میں کہتے ههیں ناں جی
    ‎کھچ کے رکھو

  • عنیقہ ناز

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:21 pm

    ہمم، تو آپ نے بھی اپنے بلاگ پہ ٹریفک بڑھانے کے لئے بلاگستان کا پسندیدہ موضوع چن لیا.
    :mrgreen: :mrgreen:
    اب اتحاد بین المسلمین کا مثالی نمونہ سامنے آیا ہی چاہتا ہے. مولی کی بڑھتی ہوئ قیمتوں اور انڈوں کے گرتے ہوئے سائز کے بارے میں آپکا خیال ہے. لیکن اس موضوع پہ آپ لکھنا پسند نہیں کریں گے. حالانکہ اسکے لئے اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں صرف کچھ دفعہ مولیاں اور انڈے خریدنے پڑیں گے. مگر اپنی جگہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا تاریخ میں کبھی مولی اور انڈے اتحاد بین المسلمین کا باعث بنے ہیں. دوسرا اہم سوال کیا اس سے بلاگ ٹریفک بڑھے گی. کیا آپ تجربہ کرنے پہ یقین رکھتے ہیں.
    😈 😈
    میں نے یہ تبصرہ محض آپکی حوصلہ افزائ کے لئے کیا ہے. اتنی طویل پوسٹ لکھنے پہ شاباش نہ دے بندہ کم از کم اپنا نام تو ڈالے.

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 16 October 2010 بوقت 4:38 pm

      یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے میرے بلاگ کو رونق بخشی۔ حوصلہ افزائی کے لیے شکریہ۔

      اور میں آپ کو کیسے یقین دلائوں کہ میں، میں ہی ہوں؟؟؟؟؟

  • جاویداقبال

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:23 pm

    بہت خوب، بہت اچھالکھاہے۔ اللہ تعالی تحریرمیں اورترقی دے۔آمین ثم آمین
    لیکن کسی نےاس پرتوجہ تودینی نہیں ہےلیکن بہت اچھےطریقےسےخامیوں کواجاگرکرنےکی کوشش کی ہے۔

  • محمداسد

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 9:19 pm

    بلاگر تو میں بھی اپنے آپ کو سمجھتا ہوں لیکن ن ن ن . . . .

  • منیر عباسی

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 11:46 pm

    باز نہیں رہ سکتے تھے؟ نظر انداز کرنا سیکھئے.

  • ھارون اعظم

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 12:21 am

    اچھا لکھا ہے آپ نے۔ آج کل زیادہ تر بلاگز پر یہی کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔

  • شازل

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:25 am

    تحریر پر داد دوں یا خیالات پر
    چلو دونوں کی داد وصول کرو

  • سعد

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:32 am

    😯 😯

  • ابن سعید

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 9:12 am

    کمال لکھتے ہیں بھئی. آج آخر آپ نے تبصرہ کرنے پر مجبور کر ہی دیا.

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:34 pm

    بس آپ سے ایک غلطی ہوگئی ہے شاید۔ آپ شاید یہ لکھنا چاہتے تھے کہ ۔۔ ُُ ُہاں میں ایک بلاگرہ ہوں“ یعنی جہاں آپ نے جہاں مذکر کا صیغہ استعمالکر گئے ہیں وہاں آپ شاید مونث کا صیغہ استعمال کرنا بھول گئے (: 🙁 بہت ممکن ہے آپ پھر بھی ایک ُ ُ بامروت“ اسم کے بلاگر ہوں اور پردہ نشینوں (یہ پردہ نشینی کو صرف حقیقی معنوں میں نہیں لیا جائے کہ اُن کے ہاں پردہ نشینی ایک گالی ہے وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم پردہ نشینی پہ یقین نہیں رکھتے ، جس پہ کسی کو بھی اعتراض نہ ہو کہ کوئی آم کھائے یا مولی یہ اسکا دردِ سر ہے ،بلکہ اُن کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ خود کو اُُچا تے سچا سیکولر ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں پردہ نشینوں کو رجعت پسند ۔ اور پتہ نہیں کیا کیا پسند کہتے ہوئے پردہ نشینی کو گالی کے مترادف قرار دیتے ہیں اور یہی وہ نکتہ آغاز ہے جسے وہ نکتہِ خاص سمجھ کر اپنے بلاگ کی رونق بڑھاتے ہیں) الغرض آپ شاید ۔۔۔ پھر بھی ایک ُ ُ بامروت“ اسم کے بلاگر ہوں جو پھر بھی پردے کا اہتمام کر دیا۔ آپ کی جگہ وہ ہوتے تو وہ آپ کو بھرے بازار میں ننگا کرنے میں خاص انسباط نحسوس کرتے کہ دنیا میں اللہ میاں نے کچھ لوگ بیجھے ہیں اور اللہ میاں نے دنیا میں کچھ لوگ ُ ُ چھوڑے “۔۔۔ جی ہاں آپ درست سمجھے وہیں لوگ چھوڑ رکھے ہیں جنہیں وہ رسی سے ایک ہی بار میں کینھیچ لیتے ہیں اور ُ ُ چھوڑے“ ہوؤں کے فرشتوں کو بھی اس سے پہلے علم نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے انہیں اسمیں بھی فطری کی بجائے سائینسی توجیہہ نظر آئے۔ انکا بس چلے تو وہ مجھے اور آپ کو ُ ُ پلُو“ بناتے ہوئے برف سے کے پگھل کر پانی بننے کو بھی فطری کی بجائے سائنسیی تبدیلی بیان کرنے سے نہ چوکیں۔

    بہر حال تشخیص آپ نے خُوب کی ہے۔ کچھ علاج بھی تجویز فرما دیتے۔ ویسے آپ علاج تجویز فرما بھی دیتے تو وہ جو کہتے ہیں بدنام ہوئے تو کیا نام نہیں ہوگا ؟ تو ایسے میں آپ کا تجویز کردہ علاج کس کام آتا؟ ایں جی؟۔

  • عثمان

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 2:42 am

    یار
    میں ایک مشہور و معروف بلاگر ہوں۔ بلکہ بلاگر اعظم ہوں۔ لیکن یہ کیا؟
    میرے لیے صرف آدھی پوسٹ؟
    کم از کم دو پوسٹیں درکار ہیں۔

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 16 October 2010 بوقت 3:22 pm

      پائی جی میں نے یہ لکھا ہے کہ “میں ایک بلاگر ہوں” یہ نہیں کہ “عثمان ایک بلاگر ہے”….
      اور آپ بلاگر ضرور ہو اور مشہور و معروف بھی…
      لیکن
      “اعظم” صرف میں ہوں…
      😉

  • نعمان

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 9:35 am

    بے تکا اور بیوقوفانہ مضمون ہے۔  

  • کاشف نصیر

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 2:09 pm

    وقار ویسے تو مجھے ذاتیات پر مبنی تحریر پڑھنے سے کافی الجھن محسوس ہوتی تھی لیکن اب جب کئی سے زیادہ بلاگران پہلے ہی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہیں تو آپ بھی صحیح.آپکا انداز تحریر بھی اچھا اور آبزرویشن بھی مناسب ہی معلوم ہوتا ہے، لیکن پھر بھی کہوں گا اگر آپ یہ مضون نہ چھاپتے تو کیا ہی اچھا ہوتا. گو آپ نے اس حوالے سے مجھ سے مشورہ کیا تھا اور آپ کو یاد ہوگا میں نے آپ کو نہ لکھنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ فائدہ کچھ نہیں. لیکن جب آپ نے مضمون لکھ ہی لیا تو مجھے اسکا اندز بھی اچھا لگا اور معلوم ہوا کہ یہ تو صرف شغل ہے دوسروں کی طرح ذاتیات پر تند و تیز حملے نہیں.
    اور ہاں عثمان میرے اچھے دوست ہیں اور قابل بلاگر ہیں، ان سے کچھ جزیات پر نظریاتی و علمی اختلاف ضرور ہے لیکن میں انکا اور وہ میرا احترام کرتے ہیں. لیکن جہاں تک عنیقہ آپا کا تعلق ہے انکے بلاگ پر میں نے جب بھی تبصرہ کیا وہ خود ہی نظریات اور خیالات کے میدان کو چھوڑ کر ذاتیات کے اکھاڑے میں خود بھی پہنچ گئیں اور مجھے بھی دھکیلنے کی کوشش کی، شاید اس ہی لئے اب میں اب انکے بلاگ پر تبصرے سے بھاگتا ہوں. ورنہ میں انکے انداز تحریر، موضوعات کے چناو، خیالات، آبزرویشن اور دقیق علمی انداز سے پہلے بھی متاثر تھا اور اب بھی ہوں. البتہ انکے نظریات انتہائی مرعبونہ اور تاریک خیال ہیں جن سے میں اختلاف کا حق رکھتا ہوں.

  • رضوان

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 2:19 pm

    کوئی بات نہیں جناب ایسا ہو جاتا ہے اکثر
    بس آپ اس پوسٹ کو یاد رکھیے گا ایک سال بعد اپنے مراسلات کا موازنہ کیجیے گا اسی کی روشنی میں۔
    خوش رہیے اور لکھتے رہیے اس سے افاقہ ہوگا۔

  • جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 2:27 pm

    اپنی مرضی کرکے دکھا دیا کرنا کوئی معمولی کام تھوڑا ہوتا ہے جی ۔ اتنی اچھی سٹڈی کرنے پر اب آپکی تعریف نہ کرنا ذیادتی ہوگی ۔ جو آپ نے کر کے دکھایا وہ آپکی کی مرضی اور جو دوسرے کر کے دکھاتے ہیں وہ انکی مرضی ۔

  • جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 5:18 pm

    آپ ہمارے بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوشی ہوئی ۔ ہمارے خیال میں تو ایروگنس کا اظہار بذات خود دوسروں میں جیلیسی کریئیٹ کرنے کا باعث ہوتا ہے اور ہم گروپس کی صورت میں نظر آنے والے جیلس اور ایروگنٹ بیہیویئر کو بس گرافیکل ایبٹریکشن دیکر ریپریزنٹ کر دیا کرتے ہیں ۔
    ہم تو جی سبھی کو درست سمجھتے ہیں اور کچھ ایسا ہی سمجھتے ہوئے آپکے اس آرٹیکل پر تبصرہ بھی کر دیا تھا ۔
    امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

  • محمدوقار اعظم

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 5:47 pm

    ::مکی:: بلاگ پر آنے اور داد دینے کے لیے شکریہ.

    ::یاسر خوامخواہ جاپانی:: پیر و مرشد آپ ہیں تو کیا غم ہے…
    😉
    ::یاسر عمران مرزا:: آپ کی بات درست ہے. تبصرے کے خانے میں آپ کی نشاندہی کردہ خامی موجود ہے. میں اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں.

    ::خاور کھوکھر:: جناب یہ پوسٹ آپ ہی کے لیے ہے…
    :mrgreen:

    ::جاویداقبال:: بلاگ پر خوش آمدید..

    ::محمداسد:: آپ بلاگر تو ہیں لیکن بغیر کسی ٹائیٹل کے مطلب “بلاعنوان”….

    ::منیر عباسی:: ڈاکٹر صاحب معذرت خواہ ہوں جی۔ اکثر جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہوں۔
    🙁 🙁
    ::ھارون اعظم:: پسندیدگی کا شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید.

    ::شازل:: داد میں نے قبول کرلی مگر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ نے میری چھترول کی ہے….
    :mrgreen:

    ::سعد:: 😉 😉

    ::ابن سعید:: بلاگ پر انے اور پسندیدگی کا شکریہ…

    ::جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین:: بلاگ پہ خوش آمدید.

    ::نعمان:: بے تکے اور بے وقوفانہ مضمون پر تبصرے پر آپ کا شکریہ.

    ::کاشف نصیر:: یار عثمان میرا بھی اچھا دوست ہے ان سے نوک جھوک چلتی رہتی ہے اور ۔۔۔

    ::رضوان:: آمد کا شکریہ۔ آپ کے مشورے پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

    ::جہالستان سے جاہل اور سنکی:: آپ نے درست فرمایا۔ ہر کوئی اپنی مرضی کی ہی کرتا ہے۔

  • نغمہ سحر

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 7:13 pm

    چلو اچھا ہوا دل کا غبار تو نکلا یہ ہمارے بلاگر ہی کیا ہمارے اردگرد ایسے بے شمار کرداروں سے ہمارا روزآنہ واسطہ پڑتا رہتا ہے سبزی والے سے لیکر ٹیکسی والے تک ٹی وی اینکر سے لیکر نتھو قصائی تک ہر کوئی ہرفن مولا بنا ہوا ہے سائنس ہو یا مذھب بات خارجہ امور کی ہو یا قانون کی آپ پر ہر قسم کی ماہرانہ رائے تھوپنے کیلئے تیار ہیں

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 3:53 pm

    ماشا الله !
    صاحب کیا خوب بھگو بھگو کے مارے ہیں آپ نے ؟ مزہ آگیا . اچھی تحریر بھی لذیذ کھانے کی طرح ہوتی ہے. پیٹ بھلے ہی نہ بھرے دماغ کو خاصی توانائی اور تازگی ملتی ہے .

  • عادل بھیا

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 9:33 pm

    بہت خوب… آخری سطر میں “میں ایک بلاگر ہوں” کی جگہ “میں ایک عظیم بلاگر ہوں” ہونا چاہئیے تھا. تحریر اچھی لکھی ہے. خیر اچھا تعارف تھا بلاگر کا۔۔۔۔
    کاشف بھیا کا تبصرہ بہت اچھا لگا. خاص طور پر اُنکے عثمان اور عنیقہ کے بارے میں نیک جزبات.

  • محمدوقار اعظم

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:29 pm

    ڈاکٹر جواد احمد خان:: جناب بلاگ پر خوش آمدید اور پسندیدگی کا شکریہ

    عادل بھیا:: بلاگ پر خوش آمدید. آپ کا مشورہ صائب ہے، واقعی یہاں “میں ایک عظیم بلاگر ہوں” ہونا چاہیے تھا.
    🙂

  • خرم ابن شبیر

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 1:36 pm

    بہت خوب بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے میں تو اب ایسی باتوں میں پڑتا ہی نہیں ہوں

  • انکل ٹام

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 2:55 am

    لول لول لول یہ آج میں دوسری تحریر پڑھ رہا ہوں ۔۔۔ بس کیا ہی کہوں ۔۔۔

  • ام عروبہ

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 6:30 pm

    اسلام علیکم
    بہت اچھا تعارف کرایا آپ نے۔اب کم از کم کوئ بے خبری میں تو نہ مارا جاۓ گا –

  • فیاض بٹ

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 8:55 pm

    ماشاللہ موجودہ دور کے حالات پر ایک طنزیہ تحریر ، آج کل بشمول ہمارئے افلاطوں بنا بیھٹا ہے، بلاگر بھی کسی سے پیچھے نہیں، آچھی کاوش تھی

  • umeedblog

    Saturday، 16 October 2010 بوقت 5:04 pm

    اللہ بچائے ایسے بلاگرز سے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *