کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے!

موضوع: پاکستانیت

اسلام آباد میں گورنرپنجاب سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعدسے ہی نام نہادروشن خیال اور مغرب کے دلال اسے لبرل ازم پر وار قرار دے رہے ہیں۔ کوئی اسے شٹ اپ کال لکھتا ہے اور کوئی اسے روشن خیالی کا قتل قرار دے رہا ہے۔ کسی نے اسے برداشت کی موت کہا تو کوئی اس سے بھی آگے بڑھ کر پاکستان کی سکیولر اقدار پر وار قرار دیتے ہوئے سلمان تاثیر کو سکیولر اقدار کا دلیر محافظ قرار دے رہا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ بہت سے بھائیوں اور آپائوں کو اخلاقیات یاد آنے لگیں ہیں۔ اشفاق احمد کے اقوال زریں ایسےسناتیں ہیں جیسے کوئی حدیث ہو ہاں حدیث پر بچث ضرور ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔ شاید انہوں نے ناموس رسالت کو بھی مائیکروبلاگنگ کا کوئی موضوع سمجھ رکھا ہے کہ فلاں کو شادی کی مبارکباد، فلاں کو بچے کی مبارکباد۔ کچھ نہیں تو عشق ومحبت، وفا یا بے وفائی پر انتہائی معصومیت سے موضوع کو سمجھنے کی خاطر چند پیراگراف لکھ کربھائیوں کی جانب سے مبارک، سلامت کے طوفان کے منتظر۔ گورنر ہائوس میں عیش و عشرت کی محفل سجانے پر داد دیتے ہیں اور قادریوں سے عفت و پاکدامنی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور تو اور کہتے ہیں اپنا موبائل چیک کروئو۔۔ اب اس پر کیا کہیے کہ بڑا تجربہ ہے دوستو۔۔۔۔

کہیں بھی چلے جائیں، ایک ہی بات کی گردان، نبی مہربان تو رحمت اللعالمین بناکر بھیجے گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر سب کو معاف کردیا، کچرا پھنکنے والی بڑھیا پر کبھی سختی نہیں کی، وغیرہ وغیرہ۔ جوابا اگر فتح مکہ کے موقع پر شاتمین رسول کے قتل کے احکامات کا ذکرکیا جائے، ابولہب کے بیٹے عتبہ کا ذکر جس کے لیے رسول خدا نے بدعا کی اللہ اپنے کتوں میں سے ایک کتا تجھ پر مسلط کرے اور جو قبول ہوئی ، ایک درندے نے سفر شام کے دوران اسے چیرپھاڑ ڈالا۔ یا دوسرے واقعات، ان کا ردعمل ایک ہے، ضعیف روایات ہیں، ایک فرقے کی روایات ہیں وغیرہ وغیرہ۔

بی بی سی اردو پر وسعت اللہ خان کے مضمون “کاش انہیں بھی کوئی ضیاء مل جائے” کی اشاعت کے بعد تو لگتا ہے کہ ان کے تن مردہ میں جان پڑگئی ہے۔ یارلوگ ہر جگہ کاپی پیسٹ کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں اور مخالفین کو اسے پڑھنے کے مفت مشوروں سے بھی نواز رہے ہیں۔ اس کو پڑھنے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ نام نہاد روشن خیال اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے ہتکنڈوں کو جائز سمجھتے ہیں۔ ویسے تو اس مضمون میں درجن بھر مسلم ممالک میں توہین مذاہب کے قوانین کو انتہائی مبہم انداز میں بیان کرکے آرٹیکل 295 سی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مجھے تو دو ممالک ایران اور سعودی عرب کے ذکر پربڑی حیرت ہے۔

ایران میں توہین رسالت کے تمام مقدمات اسلامی انقلابی عدالت میں چلائے جاتے ہیں جو چند گھنٹوں کے ٹرائل کے بعد ہی فیصلہ سنادیتی ہے اور سپریم لیڈر اسے منظور کرتا ہے۔ اس کے بعد کوئی در نہیں جو کھٹکھٹایا جاسکے۔ اگر توہین رسالت اور توہین مذاہب پر ایران میں دی جانے والی سزائوں کے اعداد و شمار بیان کروں تو شاید یہ روشن خیال خوف کے مارے پلنگ کے نیچے جا گھسیں۔ رہی بات سعودی عرب کی تو وہاں شرعی قوانین نافذ ہیں اور توہین رسالت ارتداد کے زمرے میں آتا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے جس کی سزا موت ہے۔

یہ بیچارے ضیاء کے سحر سے ہی باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 295-سی ضیاء کی دین ہے، اوئے عقل کے اندھوں، اسلام کا آرٹیکل 295-سی اللہ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں یوں اتارا کہ:

اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے [سورۃ احزاب]۔

تو دوستو ایران اور سعودی عرب کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کے بعد کیوں نہ یہ دعا کی جائے کہ اے اللہ تو ہمیں بھی کسی خمینی سے نواز دے کیوں کہ اس معاملے میں اب روشن خیال بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ لیکن یاد رہے اس کے بعد ان اچانک سے بن جانے والے اخلاقیات کے ٹھیکداروں کو بھی اخلاقیات کا مجسم نمونہ بننا پڑجائے گا۔ کیا زبردست نظارا ہوگا۔ ہرطرف سیاہ برقوں کی بہاریں ہونگیں۔ کیوں کہ امام خمینی نہج البلاغہ میں نقل کیے گئے حضرت علی کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ “انکے مرد بیغیرت ہیں جن کی عورتیں پردہ نہیں کرتیں۔”  😉 اور پاسبان انقلاب ان سب بھائیوں اور آپائوں کی فیس بک کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ رہے ہونگے۔ کسی قانون کو کالا قانون کہنا درکنار سپریم لیڈر کے خلاف زبان درازی پر جب پکڑے جائیں گے تو لگ پتہ جائے گا۔

اے کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے۔۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے! پر اب تک 48 تبصرے

  • جعفر

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 1:15 pm

    وہ جی ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ
    جس ‘دوست‘ کے ساتھ گورنر صاحب کھانا کھانے اور ‘ملنے ‘ آئے تھے
    وہ کون تھا۔۔
    شاہ ایران کے آخری دور والے ایران اور اس وقت کے پاکستان میں مشابہتیں الارمنگ ہیں۔
    ویسے بھی خمینی کے آنے سے ہمیں تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں
    پنجابی میں کہتے ہیں کہ
    جناں کھادیاں گاجراں ٹڈھ انہاں دے پیڑ
    یعنی جو گاجریں کھائے گا پیٹ میں درد بھی اسی کے ہوگا
    تے سانوں کیہہ ۔۔۔ خمینی آئے یا فرانس کا انقلاب
    لمیاں تو انہوں نے اسی طبقے کو پانا ہے جو موجیں کررہا ہے

  • […] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed. UrduFeed said: کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے! http://nblo.gs/cTAs1 […]

  • سعد

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 3:11 pm

    روشن خیالوں کا سورہ لہب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا نعوذباللہ اس کو قرآن سے نکال دینا چاہیے؟

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 11:41 pm

      کچھ فائدہ نہیں ہے جی، انھوں نے سورۃ لہب کو ان ایکٹو کردینا ہے کہ یہ حکم تو خاص بندے کے لیے ہے۔۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 3:19 pm

    اچھا توا لگايا آپ نے ان حضراتِ خوش اخلاق کا

    جعفر صاحب
    وہ گاجريں نہيں کھاتے پزا اور برگر کھاتے ہيں ۔ گاجريں تو مجھ جيسے اُجڈ کھاتے ہيں

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 4:00 pm

    اعظم بھائی!
    یہ تو صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے. میرا خیال ہے کہ معاشرے کو ذہنی طور پر ایک مختلف صوتی لہر پر ٹیون کر دیا گیا ہے. لوگ بڑی معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ جب اسلام امن اور سلامتی کا مذھب ہے اور نبی کریم صلی الله علیہہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو معاف بھی فرما دیا تھا تو اب توہین رسالت کی سزا کا کیا جواز بنتا ہے. مجھے عوام الناس کے جذبات کا پتا ہے لیکن افسوس صرف اس بات کا ہے کہ بہت سارے پڑھے لکھے لوگ اس معاملے میں کنفیوزن کا شکار ہو چکے ہیں .میرے نزدیک دجال کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ جن باتوں پر امت اپنی پوری تاریخ میں متفق رہی ہے اسے پراگندہ خیالی کا شکار کر دیا جائے. اور اس کام کے لئے جاوید غامدی اور اس جیسے کرائے کے عالموں کو اوربھرتی کر لیا گیا جو اسلام کا ایک روشن خیال ورڒن پیش کرتے ہیں.ایک چومکھی جنگ ہے جو مسلمان معاشروں پر مسلط کر دی گئی ہے.
    ایک سمت الیکڑانک میڈیا ہے ، دوسری سمت بلاگنگ کی دنیا اور بے حساب کرائے کے ٹٹو ہیں اور تیسری سمت عالمی پروپگینڈا مہم ہے جو دین کے متبادل آپکو سوچنے کے لئے خیالات دیتی ہے ، پڑھنے کے لئے کتب دیتی ہے ،آپ کیا کھائیں گے کیا پہنیں گے اس کا فیصلہ وہی کرتی ہے وہی آپکو بتاتی ہے کہ اخلاقیات کی بنیادیں کیا ہوتی ہیں…ایک طرف اظہار رائے کو ہتھیار بنا کر ناموس رسالت پر ڈاکے ڈالتی ہے تو دوسری طرف انسانی جان کی حرمت کو بنیاد بنا کر شاتم رسول کو تحفظ دیتی ہے. اور چوتھی سمت سے اسلامو فوبیا کے زریعے آپکو ہمیشہ دین کے معاملے میں انتہائی درجہ کا معذرت خواہانہ رویہ اپنانے پر مجبور کرتی ہے اور ہمارا رویہ اس مسکین دکاندار جیسا ہو گیا ہے کہ جس کا امیر گاہگ اس سے اسکی خریدی ہوئی چیز کی سخت نکتہ چینی کر رہا ہو اور دکاندار شرمندگی سے کہ رہا ہو کہ ” صاحب معاف کر دیجیے …میں ابھی آپکو اس خراب چیز کو تبدیل کر کے نئی اور بہترین چیز دے دیتا ہوں..”
    صرف خمینی سے کام نہیں چلے گا یہاں تو آپکو پورا معاشرہ الٹ پلٹ کرنا پڑے گا..سارے نظام کو اسکے چلانے والوں سمیت اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا…روشن خیالوں کے لئے خاص قسم کے کیمپ بنے پڑیں گے….اور روشن خیال دانشوروں کو عبرت کی مثال بنانا پڑے گا. صرف صفائی سے کام نہیں چلے گا آپکو پورا گند ایک جگا جمع کرنا ہوگا اور بچے کچھے معاشرے کو دکھانا ہوگا کہ جناب! گند ایسی ہوتی ہے لہٰذا ایسا ہونے سے بچو..

  • عنیقہ ناز

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 4:48 pm

    آپکے اس اصرار پہ میں نے وکی پیڈیا کو چیک کیا. وہاں بھی یہ لکھا ہے کہ ایران میں توہین رسالت کا الگ سے کوئ قانون موجود نہیں. کوئ ایک سزائ موت عمل میں نہیں آئ÷ آج تک کسی ہجوم نے اس بات پہ کسی ایک شخص کی جان نہیں لی. شاید وکی پیڈیا والوں کے ایران سے خاص مراسم ہونگے. سعودی عرب کو چیک کرنے میں آپ وقت لگا لیں یا آپکی بات پہ آمنا و صدقنا کہنے والے.
    آگے کی کہانی یہ ہے کہ ملتان میں امام مسجد اور اسکے بیٹے کو توہین رسالت پہ عمر قید کی سزا. تفصیلات اس لنک پہ پڑھیں. ڈان کا ہے. اردو اخباروں میں اس خبر کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی.
    http://epaper.dawn.com/ArticleText.aspx?article=12_01_2011_001_005
    آپائووں کو رنگ برنگے برقعے پہنانے سے پہلے آپ بھی سوچ لیں . کہیں آپ میلاد کی محافل کے خلاف عیدہ رکھنے والوں میں سے تو نہیں. پھر تو آپکی خیر نہیں. ہم تو برقعہ پہ ہی بچیں گے اور آپکو عقیدہ بدل کر بھی جان بخشی نہ ملے گی. آپکے اس طرح گذر جانے پہ افسوس ہو گا کہ جب آپا نے برقع پہنا تو تمنا رکھنے والے ہی نہ رہے.

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 5:24 pm

      محترمہ مضمون کا دوبارہ بغور مطالعہ کریں. میں نے یہ لکھا ہے کہ ایران میں توہین رسالت کے مقدمات اسلامی انقلابی عدالت میں چلائے جاتے ہیں. ان عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیارات کا مطالعہ کریں. وکیپیڈیا کے اس پیج پر ڈھنڈھنے سے بھی کہیں نظر نہیں آیا کہ کبھی کوئی سزائے موت نہیں ہوئی. بقول روشن خیالوں کے ایران میں توہین رسالت کا قانون نہیں لیکن پھر بھی وکیپیڈیا لکھتا ہے کہ ایرانی بلاسفمی لاز اقلیتوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں. سبحان اللہ…

      رہبر ایران آیت اللہ خمینی کے سلمان رشدی کے خلاف موت کے فتوے کے بعد بھی اگر آپ کو کوئی خوش فہمی ہے تو پھر کیا کہا جائے.
      .
      آگے کی کہانی یہ ہے کہ آپ بے فکر رہیں. ہم عالم بالا سے یہ خوشکن مناظر دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کررہے ہونگے… 😆

  • عنیقہ ناز

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 4:49 pm

    ایران کو وکی پیڈیا پہ دیکھنے کے لئے لنک یہ ہے.
    http://en.wikipedia.org/wiki/Blasphemy_law_in_Iran

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:47 pm

    سعودی عرب اور ایران کے قانون کے مطالعے کیلئے کوئی عینک ہی بتا دیتے۔

  • کاشف نصیر

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 11:48 pm

    اوف اللہ ۔۔۔
    عنیقہ ناز کو خمینی میاں کا وہ فتوا آج تک نہ ملا جس میں موصوف نے سلمان تاثیر معاف کرنا سلمان رشدی کے قتل کا پروانہ جاری کیا تھا۔

    ویسے دو چیزیں ہیں ایک تو یہ کہ کسی مظلوم کو سزا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ گستاخ کو بھی سزا نہ ہو

    اگر صورتحال نمبر ایک ہے تو چلے گا لیکن اگر اگر صورتحال نمبر دو ہے تو اسکا مطلب ہے گستاخ رسول کے فعل سے دلی ہمدردی ہے یا اسکے جرم کو کم سمجھا جارہا ہے اسی لئے کم سزا کا مطالبہ ہے۔

    ہمارا یعنی مسلمانوں کا معاملہ کیا یے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ و وسلم کی شخصیت ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ اس لئے اگر کوئی بدبخت خاکم بدہن انکی شان میں گستاخی کرے تو ہم اسے دنیا کا سب سے بڑا جرم سمجھتے ہیں قتل، فساد بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ پوری دنیا کو ایٹم بم مار کے تباہ کردیا جائے اور اس لئے کم از کم قتل کی سزا برحق سمجھتے گے۔

    اگر قتل سے بڑی کوئی سزا ہوتی تو ہم اسکا مطالبہ کرتے۔ یہ عقلی اور منطقی مطالبہ ہے جسکے لئے قرآن و حدیث سے کسی دلیل کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ جنکو یہ سیدھی سادھی بات بھی سمجھ نہ آئے وہ یا الو کے پٹھے ہیں یا گمراہ اور بدین یا کم عقل اور بے بیوقوف۔

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 12:51 am

    ایران کے بارے جو بات بی بی سی اردو ایدیشن کے وسعت اللہ خان اور انکے فرمائے کو پاکستان کے عوام کی خواہشات اور پاکستان کے قوانین پہ فضیلت دیتے ہوئے گول کی ہے وہ رشدی کو شاتم رسول ہونے یعنی نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخی کرنے پہ سزائے موت دینے میں دیگر کے ساتھ ایران سب سے ذیادہ سرگرم رہا ہے پھر بھی قربان جاؤں نام نہاد روشن خیالوں کے یہ ہمیں یہ بتانے چل پڑتے ہیں کہ ہم نے سرکار نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پہ قانون کیوں بنایا، اب لکیر کے فقیروں کو کیسے سمجھایا جائے کہ ناموس رسالت کے بارے قانون تو چودہ سو سال پہلے قرآن کریم میں خود اللہ تعالی نے بنا بیجھا تھا۔ اس قانون کا نام دوسو پچانوے سی نہ ہوتا تو کیا شاتموں کو سزا نہ ملتی؟۔ غازی علم دین شہید کے دور میں ایسا قانون نہیں تھا تو کیا وہ ہندہ مہاجن راجپال اپنے انجام اور توہین رسالت کی سزا سے بچ گیا تھا؟۔ قانون تو چودہ سو سال سے کچھ زئد سال قبل، قرآن کریم میں خود اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا تھا جسے نام نہاد روشن خیال کبھی مان کے نہیں دیں گے اور جان بوجھ کر حیلے بہانوں سے دین کے بارے کم علم رکھنے والے مسلمانوں کو ورغلاتے رہیں گے۔ یہ طبقہ چاہتا ہے کہ ریاستی لیول پہ اسطرح کا کوئی قانون نہ ہو اور مسلمان انصاف کے لئیے خود ہی قانون کو ھاتھ میں لے لیں۔ جب یوں ایک آدھ مرتبہ ہوگا تو پھر ایک رسم چل نکلے گی اور ملک پاکستان میں ریاست تہس نہس ہو کر رہ جائے گی۔ پھر نام نہاد روشن خیال طبقہ ساری دنیا کو اپنے شر انگیز پروپگنڈے سے یہ جتلائے گا “دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان ایسے گنوار، اجڈ اور قاتل وھشی لوگ ہیں۔ اگر باقی دنیا اس ملک میں کوئی سچا ہمدرد ہے تو وہ ہم دل ماشاد روشن خیال ہیں۔” یوں انھیں ہل من مزید کے ساتھ امریکہ یوروپ کے ویزے پکے ہونے کا مکمل یقین ہے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ توہین رسالت نامی قانون پہ سختی سے عمل کیا جائے اور عدالتی نظام کو فول پروف بنایا جائے جس میں غلطی کا احتمال نہ رہے۔ اور شاتموں کو فوری طور پہ کیفر کردار پہنچا کر اسکی مناسب تشہیر کی جائے تانکہ شرارتی لوگ عبرت پکڑیں۔ ایک آدھ فیصلے کے بعد شاید ہی کوئی بد بخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شان میں گستاخی کرنے کا سوچا۔ یوں امریکا کی لے پالک این جی اوز اور پاکستان کے نام نہاد روشن خیال طبقے کو اس قانون سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے ہونے کا جواز دینے کے لئیے پاکستان کی کوئی اور خامی یا کمزوری ڈھونڈیں گے جہاں یہ اپنی شکم پُری کے لئیے شور مچا سکیں سکیں۔

  • ایک بندہ خدا

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 1:18 am

    اگر رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وسلم) کی شریعت کے کسی قانون کو کالا قانون کہنا روشن خیالی ہے، تو ایسی ملعون روشن خیالی شریعتِ رسول کے باغیوں ہی کو مبارک ہو۔

  • راشد کامران

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 7:36 am

    اقتباس.
    کہیں بھی چلے جائیں، ایک ہی بات کی گردان، نبی مہربان تو رحمت اللعالمین بناکر بھیجے گئے

    تبصرہ: اس میں کیا غلط ہے اور اس کی تکرار میں کیا مضائقہ ہے.. اور رسول کی ذات سے قتل و غارت گری منسوب کرنے میں کیا حکمت ہے؟

    خمینی اگر اسی مذہب کا آگیا جو خمینی کا اصل مذہب ہے تو آپ کے بلاگ پر جوش و ولولہ سے سرشار اکثریت تو اسے مسلمان ہی نہیں مانے گی روشن خیالوں کا نمبر تو بعد میں آئے گا.. اگر خمینی تاریک خیال طالبانی جماعت کا آگیا تو کیا روشن خیال کیا قادری اور کیا پادری.. اور اگر خمینی اصلی قادری آگیا تو روشن خیال کی تو بعد میں سوچے گا پہلے اس بات کی فکر کرے گا کہ کس طرح کرہ ارض کو دیوبندیوں اور اہلحدیثوں سے پاک کرلوں… کہنے کا مقصد یہ کہ جن کے گھر شیشے کے ہوں وہ پتھر پھینکنے کے ورلڈ کپ میں حصہ لیتے بڑے مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں..

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 10:23 am

      محترم آپ کو کسی شدید غلط فہمی نے گھیر رکھا ہے کہ لوگ رسول کی ذات سے قتل و غارت گری منسوب کررہے ہیں، یا شاید خوش فہمی کہ رسول کی ذات کی عظمت کا صحیح ادراک صرف ہمیں ہی ہے۔
      .
      حضور آپ کے تبصرے سے تو مجھے قیام پاکستان کے فورا بعد کا زمانہ یار آرہا ہے کہ جب اسلامی دستور کا مطالبہ سامنے آیا تو یارلوگ کہنے لگے کہ کون سی فقہ کا نظام نافذ کریں، شیعہ سنی، دیوبندی یا بریلوی یا اہلحدیث؟ غضب خدا کا کہ یہ مولوی بھی بڑے تیز ہیں سب نے مل بیٹھ کر 20 نکات مرتب کیے اور اس وقت کے روشن خیالوں کے منہ پر دے مارے کہ یہ لو۔ ان پر سب متفق ہیں۔ 😆

      تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ حضرات اس بارے میں فکر مند نہ ہوں۔ جو اونٹ پالتے ہیں وہ اپنے گھر کے دروازے بھی بڑے رکھتے ہیں۔

      • راشد کامران

        Wednesday، 12 January 2011 بوقت 12:05 pm

        مجھے آپ کے تبصرے سے ایسا گمان ہوا کہ گویا رسول اللہ کے رحمت العالمین ہونے پر مسلسل اصرار آپ کو پسند نہیں آرہا کیونکہ یہ کہنا کہ جہاں چلیں جائیں یہی گردان ہے ایک طریقے سے ناگواری کا اظہار معلوم ہوتا ہے..

        باقی بحث تو عامیانہ سی ہے جس کو یہیں ختم کرتے ہیں کیونکہ مزے لینے والے آن پہنچے ہیں.. زمینی حقائق آپ کے بھی سامنے ہیں اور میرے بھی کہ فرقہ پرستی روشن خیالوں چھوڑی کوئی بڑ نہیں ایک بہت بڑا ناسور ہے.

        • محمدوقار اعظم

          Wednesday، 12 January 2011 بوقت 1:45 pm

          جناب میری کسی تحریر سے کسی مخالف کو بھی ایسا شائبہ ہوتو یہ میرے لیے باعث شرم ہے۔ میں اس پر کیا کہوں کہ مضمون پر دوبارہ غور کریں.

          مجھے آپ کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فرقہ پرستی بہت بڑا ناسور ہے۔ لیکن کیا اس سے ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ مخالفین کو جاہل، اجڈ، گنوار اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جائے۔ طنز و تشنیع کے تیر برسائے جائیں۔ ان مسائل میں ٹانگ اڑائی جائے جن کا اس ملک کی غالب اکثریت سے کوئی تعلق نہیں، اور جس معاملے میں وہ کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہیں… معاف کیجیے گا شدت پسندی کے جواب میں شدت پسندی سے معالات ھل نہیں ہوتے. ہاں اس اقلیتی ٹولے کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی…

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 9:00 am

    یہ نام نہاد روشن خیال۔۔۔
    ہم بچپن میں ایک کمرے میں رہتے تھے۔
    درمیان میں بوری کی پارٹیشن لگا کر۔
    ایک طرف ڈنگر اور دوسری طرف نیم ڈنگر۔
    تو روشن خیال بھی درمیان بوری کی پارٹیشن لگانے پر بضد ہیں۔
    لیکن ڈنگر اور نیم ڈنگر کون؟

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 12:00 pm

      جناب عالی سوال کا جواب دے تو دوں، لیکن اس سے اندیشہ ہائے نقص امن ہے. 😈

  • جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 2:32 pm

    ہوپ اور چانس کا اچھا کمپیٹیشن چلرہا ہے جی ۔ آپ شائد ہوپ والی سائڈ پر ہیں اور چانس والوں کی کلر فل آفرز جاگتی آنکھوں سے دکھائی بھی دیتی ہیں ۔ جیت چاہے جس کی بھی ہو برائی میں سے برائی اور اچھائی میں سے اچھائی نے تو کم ہونا ہی ہوتا ہے جی ۔
    رائٹ ہیز سمتھنگ رونگ اینڈ رونگ ہیز سمتھنگ رائٹ ۔

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 8:04 am

      جناب ہوپ کو امید کہیں اور چانس کو موقع تو میں یقینا امید کی طرف ہوں. درخت کی جٹریں اگر دھرتی میں مضبوطی سے پیوست ہوں تبھی وہ حرا رہتا ہے. بے شک خزاں بھی آتی ہے لیکن خزاں کے بعد بہار کی امید ہمارے حوصلوں کو ایک ولولہ تازہ دیتی ہے.
      دوسری طرف چانس والوں کو، موقعے کے متلاشیوں کو ابن الوقت کہا جائے تو کیسا رہگا؟
      اچھائی سے اچھائی کے کم ہونے کا فلسفہ اوپر سے گذر گیا. ریاضیات کا بھی اصول ہے ++ = + اور – – = + تو برائی بڑھ جائے تو اچھائی کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن اچھائی یا خیر سے برائی کی توقع کیسے؟ 🙄

  • عبداللہ

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 3:08 pm

    http://ejang.jang.com.pk
    عبداللہ صاحب، آپ کا تبصرہ میں نے ایڈیٹ کردیا ہے۔ ادھر ادھر سے لنک پیسٹ کرنے اور نعرے لکھنے کے بجائے، تحریر پر تبصرہ کیا کریں۔ وقاراعظم

  • عبداللہ

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 7:52 pm

    صاف صاف کہو کہ اپنی جیسی ذہنیت رکھنے والے جواں مرد فدائی کے لیئے پھانسی کا لفظ ہضم نہیں ہوا!

    • ڈاکٹر جواد احمد خان

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:01 am

      بھائی عبداللہ!!!
      بغیر کسی وجہ کے مخالفت اچھی بات نہیں….آپ کیوں خواہ مخواہ روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں یہ جانتے ہوۓ کہ روشن خیال اپنے رویے میں دین سےاانتہائی بیزار ہوتا ہے…

      • محمدوقار اعظم

        Wednesday، 12 January 2011 بوقت 7:48 am

        ڈاکٹر صاحب، مرد ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر….

      • عبداللہ

        Wednesday، 12 January 2011 بوقت 8:22 am

        جواد خان یہ محض آپکی کم فہمی ہے کہ روشن خیال دین بیزار ہوتے ہیں ذرا کوئیں سے باہر نکلیں تو حقائق کا ادراک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • عبداللہ

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:28 am

      ایسا جواں مرد فدائی کوئی تمھیں بھی ٹکرائے پھر پوچھیں گے تم سے تمھارے تاثرات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      🙂

  • عمران اقبال

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 8:15 pm

    جناب عالی۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ میں اس تحریر کے موضوع سے کچھ ہٹ جاوں تو براہ کرم معاف فرمایے گا۔۔۔
    میری عرض اور درخواست سب قارئین سے یہ ہے کہ کوئی اس بندہ ناچیز کو “روشن خیالی“ کا مطلب ہی سمجھا دے۔۔۔ میں جو قاصر ہوں۔۔۔
    اگر روشن خیالی کا مفہوم، شرعی قوانین کو توڑ موڑ کر، اپنے الفاظ میں سمجھنا ہے اور پھر ان کا مقابلہ دور جدید کی ضروریات سے کرنا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
    اگر روشن خیالی کا مطلب قرانی آیات اور احادیث مبارکہ کے بنیادی مفہومات کو ہی بدل دینا ہے اور انیں بطور دلیل کسی بے مقصد بحث میں دینا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
    اگر ناموس رسالت اور دیگر شرعی اصطلاحات میں “روشن خیالی“ کے نام پر ردوبدل کرنا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
    اب سلمان تاثیر صاحب اور ملک ممتاز کے قصے کو بھول جائیں اور اب نیا بیان ان کی بیٹی یا بیٹے کا سننے کو ملا کہ ان کا والد تو احمدیوں کو بھی غیر مسلم قرار دینے کے خلاف تھے۔۔۔ تو اگر یہ ان کی روشن خیالی تھی۔۔۔ تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
    اور میری سب لعن طعن جو میں نے روشن خیالی کو دی ہے وہی لعن طعن میں ان حضرات کو بھی دوں گا جنہوں نے قران اور احادیث میں سے صرف وہی دلائل اکھٹے کیے ہیں جن میں قتل یا مذمت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ حضرات بغیر ان آیات یا احادیث کی شان نزول اور تفسیر پڑھے بغیر اپنے فتوی دینے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    اب خمینی ہو یا ضیا۔۔۔ جب تک ہم میں ہی عقل نہیں آئے گی، صحیح یا غلط کا شعور نہیں ہو گا تو کوئی بھی بندہ لیڈر بن کے آ جائے۔۔۔ ہماری حالت نہیں بدلنے والی۔۔۔ ہم ویسے ہی کھپتے رہیں گے جیسے آج کھپ رہیں ہیں۔۔۔ (ازراہ مزاح عرض ہے کہ یہاں کھپے کا مطلب زرداری صاحب والا کھپے نہیں ہے بلکہ پنجابی کے ایک لفظ کا زکر ہے)۔۔۔
    والسلام۔۔۔

    • یاسر خوامخواہ جاپانی

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:48 am

      عمران بھائی جس پر آپ نےلعنت بھیجی ہے۔
      یہی تو اصلی روشن خیالی ہے۔
      ہم اسی لئے ہی تو بارہ سنگھے کے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں۔آہو۔

    • عبداللہ

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 9:26 am

      لو اپنی جیسی ذہنیت رکھنے والے اپنے بھائی کے بارے میں پڑھ لو،سارے عاشق رسول ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور ایک جیسا ہی سوچتے ہیں!
      bbc.co.uk/urdu
      عمران اقبال صرف دو سوالوں کا جواب دیں قرآن کتنی بار ترجمعہ اور تفسیر کے ساتھ ختم کیا ہے اور صحیح احادیث کی کتنی کتب مکمل ختم کی ہیں؟؟؟؟؟

      • محمدوقار اعظم

        Wednesday، 12 January 2011 بوقت 10:02 am

        چلو بھئی سارے مفتی عبد اوم سے سرٹیفیکیٹ لو۔۔۔
        ویسے یار، الطاف بھائی سے بھی یہ امتحان لینے کا سوچا کبھی جو جھوم جھوم کر اور لہک لہک کر الٹی سیدھی تلات کرتے ہیں۔ :mrgreen:

        • یاسر خوامخواہ جاپانی

          Wednesday، 12 January 2011 بوقت 11:30 pm

          اوئے وقار اعظم منہ سنبھال کر بات کرو!!
          الطاف بھائی کا دادا مفتی تھا۔
          یہ مفتی مفتہ خورا والے نہیں ہوتا۔
          کیا سمجھے؟
          بھتہ خوری کا ڈی این اے وصول کیا دادا سے بھائی نے۔
          خبر دار بھائی کو برا کہا۔آہو

          • محمدوقار اعظم

            Wednesday، 12 January 2011 بوقت 11:49 am

            قصور ہمارا نہیں ہے. ہم صرف فاروق دادا سے واقف ہیں. مفتی دادا کے بارے میں ابھی پتہ چلا ہے. معذرت بھئی……

      • عبداللہ

        Wednesday، 12 January 2011 بوقت 10:10 am

        تمھارے مومن ہونے کی پہچان تو ہو ہی گئی ہے کہ دوسرون کے لکھے کو اپنی مرضی سے بدل دینا دھوکا دہی چوری اور مکاری کے زمرے میں آتا ہے!
        اور یہ بی بی سی کی پوسٹ کے لنک کو خراب کر کے تم جیسے شتر مرغ یہ سمجھتے ہیں کہ انہون نے ساری دنیا سے اسے چھپا لیا واقعی ایسے فدائی کی موافقت تم جیسے نہ کریں گے تو پھر اور کون کرے گا 😆

        • محمدوقار اعظم

          Wednesday، 12 January 2011 بوقت 10:27 am

          صاحب آپ سے ہزار بار کہا ہے کہ ادھر اُدھر سے خواہ مخواہ کے لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ جو لنک آپ پوسٹ کرتے ہیں وہ قارئین کی نظروں سے گذر چکے ہوتے ہیں۔ آپ کی اس طرح کی حرکتوں سے یہی لگتا ہے کہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ 😉

          تو لنک پوسٹ کرنے سے احتراز کریں۔ شدید ضرورت کے تحت ہی ایسا کیا جاسکتا ہے۔ تحریر یا موضوع پر تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار خیال کریں اور چلتے بنیں۔ اس نصیحت کو پلے باندھ لیں۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 8:23 am

    آج کے روزنامہ ایکسپریس میں یہی کالم عبّاس اطہر نے “کیا ہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے افضل ہیں” کے عنوان سے لکھا ہے…معاف کیجیے گا وقار بھائی میں سمجھ نہیں سکا کہ اس حرکت کا کیا مطلب ہے؟ اسے سرقہ کہیں گے یا روشن خیال تعاون؟

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 9:24 am

      ارے واہ ابھی دیکھا، اس نے تو حد کردی، جوں کا توں چھاپ دیا۔ میں نے کہا نا ایسا لگتا ہے کہ کوئی گیدڑ سنگھی ہاتھ آگئی ہے انکے۔ لا علم لوگوں کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں یہ۔ افسوس کہ پرنٹ میڈیا ہویا الیکٹرونک انہی باطل کے ہرکاروں کےتصرف میں ہے۔ میرے خیال سے یہ سرقہ نہیں ہے، روشن خیال تعاون ہے۔ 😀

  • جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 9:47 am

    اچھائی اپنی جگہ پر اچھائی اور برائی اپنی جگہ پر برائی ۔ اچھائی برائی نہیں ہے اور برائی اچھائی نہیں ہے ۔ پاسیبل ہی نہیں ۔
    اچھائی زیر کرے برائی کو اچھائی سے یا برائی زیر کرے اچھائی کو برائی سے ۔ پاسیبل ہی نہیں ۔
    اچھائی زیر کرے برائی کو برائی سے تو اچھائی سے اچھائی کم ۔
    برائی زیر کرے اچھائی کو اچھائی سے تو برائی سے برائی کم ۔
    ویسے +- = – اور -+ = – کا زکر نہیں کیا تھا آپنے ۔

  • عمران اقبال

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 10:03 am

    عبداللہ: جونکہ آپ نہایت ہی سچے، کھرے اور پاکباز انسان ہیں اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ آپ اللہ تبارک تعالی سے ہمارے لیے اور ہمارے مسلم امت کے لیے دعا کریں۔۔۔

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:37 am

      ارے بھائی اتنے معصوم مخلوق پر انسان ہونے کی تہمت لگادی آپ نے. سارے بارہ سنگھے ناراض ہوجائیں گے….

  • جعفر

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 6:24 am

    یار اس مفتی بارہ سنگھے کو ہی نہ ایڈہاک خمینی بنا دیں؟

    • محمدوقار اعظم

      Wednesday، 12 January 2011 بوقت 7:56 am

      اچھا اوپائے ہے. ویسے بھی مفتی بارہ سنگھے کے اہل قبیلہ اب انقلابی ہوگئے ہیں. بلکہ شدید انقلابی. 😛

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 11:13 am

    کیا انقلاب ہے کہ چل کہ ہی نہیں دیتا۔ کہ صرف بڑے بارہ شنگھا کی زندگی میں ہی آیا ہے۔انقلاب جس کا لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے تابع گیر ملکی شہریت حاصل چکا ہے۔ گھاس کھا کھا کر بارہ شنگھا یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستانی عوام انقلاب کے نام پہ بارشنگھاؤں سےگھاس کھا گئے ہیں۔

  • صفدر علی صفدر

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 7:26 am

    ہر دًم ، دَمِ واپسیں ہے
    عزیزو اب فقط اللہ ہی اللہ
    (غالب)

  • کاشف نصیر

    Wednesday، 12 January 2011 بوقت 12:39 am

    یہ عبداللہ نامی بیماری بی بی سی سے متاثرین میں شامل لگتا ہے. ویسے کوئی اس پوچھے کہ آج کل انکا نفسیاتی پیر طالبان کے خلاف باتیں کیوں نہیں کررہا کیا کراچی میں اب طالبانائزیشن ختم ہوگئی ہے؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *