ماسی مصیبتے اور مولوی مدن

موضوع: طنز و مزاح

روایت ہے کہ سالوں پہلے محلے میں چند بچوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ ہمیں لڑائی کے اسباب پر غوروخوص کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اور یہ کہ لفظ چنداں اور شام کے وقت اپنی چھت پر دیدارِ عام ہے یارانِ نکتہ داں کے اصول کے تحت اپنا دیدار کروانے والی چندا پر بھی زیادہ غور نہ کیا جائے نہ ہی ہمیں اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عین اس وقت جب چندا کپڑے ڈالنے چھت پر پر جاتی ہے تو اسی وقت ہمارے محلے کے ٹھرکی عاصی میراثی اپنے کبوتر اڑانے اور بارہ سنگھے صاحب اپنی مرغیوں کو دانہ ڈالنے کیوں چلے جاتے ہیں؟ تو دوستو لڑائی کا ہونا یقیناً کوئی خاص واقعہ نہیں ہے لیکن یہ خاص اس وقت بن گیا جب اُن میں سے موٹے تگڑے چندا کے بھائی نے روتے ہوئے گھر جاکر اپنی امیّ سے شکایت لگائی۔ نتیجہً ان کی اماں یعنی ماسی مصیبتے گوشمالی کرنے والے الفاظ کے ذخیرے اور بہترین گلے کے ساتھ اپنے لخت جگر کی پٹائی کرنے والے بچوں کے پاس پہنچ گئیں اور اس کے بعد کیا ہوا یہ مت پوچھیں۔

صاحبو، آپ یقینا اس روایت کی صحت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرسکتے ہیں، خاص کر راوی کے ثقّہ ہونے یا نہ ہونے پر کہ یہ اس ناچیز کی روایت ہے۔ لیکن آپ لیلٰی کو تو یقیناً جانتے ہونگے؟ ارے ہاں وہی مجنوں کی لیلٰی جو سربازار پہنچ کر یہی کہتی تھی کہ

کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو

آپ یہ پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ کوئی آخر کیوں نہ پتھر مارے کسی بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے کو؟ اب اس پر کیا کہیں کہ “دیوانے کی حقیقت لیلٰی کے دل سے پوچھ۔ ویسے بھی محبت میں محبوب کے سات خوب بھی معاف ہوتے ہیں۔ لوگ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ لیلٰی مجنوں کے فسانے میں عمران ہاشمی کا بھی کوئی کردار ہے کہ نہیں؟ تو مجھے کیا پتہ میں ٹھرا ایک پاک دامن مشرقی بندا، جائیں جاکر لیلٰی سے پوچھیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے، ایک مشہور و معروف روشن خیال آپا کا بلاگ پڑھتے ہوئے مجھے لیلٰی اور اس کے دیوانے کا خیال آیا۔ اپنے دفتر میں دنیا کی گھٹیا ترین چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے اپنی ساتھی خاتون سے بلاگی لیلٰی اور انکے دیوانے کا ذکر کیا تو موصوفہ سوچ کے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئیں۔ بڑی مشکلوں سے انہیں واپس کھینچا تو ان الفاظ میں گویا ہوئیں کہ بھائی یہ نام نہاد روشن خیالی کا مرض تو بڑا پرانا ہے۔ اب ہم کیا بتائیں کے لفظ بھائی سن کر ہمارے دل پر کیا گذری؟ بڑی مشکل سے اپنے غصے کو قابو میں کیا اور پوچھا کہ محترمہ آپ کی آئیڈیل خواتین کون سی ہیں۔ اتنا سنتے ہی کسی شدت پسند کی طرح شروع ہوگئیں اور اسلامی تاریخ کے ہر روشن ستارے کا نام لینے لگیں۔ ہم نے فوراً خاموش کرایا اور پوچھا کہ اندرا گاندھی اور بینظیر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ کراچی کی فلاں بلاگر کی بھی آئیڈیل ہیں۔ اتنا سنّا تھا کہ غصے کی شدت سے ان کی آنکھیں باہر ابل پڑیں، کہنے لگیں کہ “ہاں جی جب انکے لندنی پیر دلّی جاکر پاکستان کے قیام کو ایک غلطی قرار دے سکتے ہیں تو ان کے مریدوں کا پاکستان دولخت کرنے والوں کو آئیڈیل بنانا کوئی انہونی نہیں ہے۔ رہی بات بینظیر کی تو کرپشن کی ملکہ کی کیا بات کرتے ہو؟ ان دہریوں کے نزدیک تو حرام کمانے والا ہی کامیاب ہے۔ ہم نے ترحم آمیز نظروں سے انہیں دیکھا اور کہا “تعلیم آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، ایم فل کی ڈگری ہاتھ آنے والی ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اتنا کہتے ہی ہم میدان چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ نہ بھاگنے کی صورت میں اندیشہ ہائے نقص امن تھا۔

دفتر سے گھر کی طرف آتے ہوئے راستے میں مولوی مدن سے ملاقات ہوگئی، ہم نے آواز لگائی “مولوی صاحب خیر تو ہے”؟

رسوا رسوا سارے زمانے

تیرے قصّے، تیرے فسانے

یہ سن کر مولوی مدن نے مشکوک نگاہوں سے ہمیں دیکھا۔ ہم نے انہیں مختلف بلاگز پر ہونے والے اُنکے ذکر شر سے آگاہ کردیا۔  ساتھ ہی مساوات مرد و زن پر ایک چھوٹا سا لیکچر بھی پلادیا اور دنیا کی کامیاب خواتین کی ایک فہرست بھی انہیں تھمادی۔ اتنا سنتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ ہم اس ساری صورتحال کے لیے پہلے سے تیار تھے لہذا انہیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا اور قریب ہی چھپڑ ہوٹل کی کرسیوں پر بیٹھ کر دو گلاس مشروب مشرق یعنی لسّی کا آرڈر دیا۔ ٹھنڈی ٹھار لسّی کو گلے سے اتار کر ہی کچھ کہنے کے قابل ہوئے اور یوں گویا ہوئے:

دیکھ بھئی یہ عورت اور مرد کی مساوات تو ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔ جو خواتین اس قسم کے وہم میں مبتلا ہوں تو ان کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ، کوئی احساس محرومی ضرور ہوتی ہے۔ نہ تو مجھے یہ بتا کہ ان عورتوں نے اب تک کون سا تیر مار لیا ہے اوئے؟ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کمزور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے پہلو میں مرد کمزور اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ اوئے تم غریب عورتوں کو اس پہلو پر مردوں کے مقابلے پر لاتے ہو جس میں وہ کمزور ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلنا ہے کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر ہی رہیں گی خواہ کتنی ہی تبدیریں کرلو۔ ابے یہ ممکن ہی نہیں کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو، ابن سینا، کانٹ، ہیگل، خیام، شکسپیر، سکندر، نپولین، صلاح الدین، طوسی اور بسمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہوسکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سر مار لیں، وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجے کی ماں بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ نام نہاد مساوات مردو زن کے حامی خواتین و حضرات دراصل ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ اصل وجہ عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کروانا نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ پونڈی کرنے کے لیے انارکلی نہ جانا پڑے، وہ ڈاکٹر کے کلینک سے لے کر پی سی او تک ہرجگہ وافر دستیاب ہو۔

ہماری روشن خیال خواتین یعنی آنٹیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود تو سارا دن دفتروں اور این جی اوز میں شمع محفل بنی رہتی ہیں۔ اور انکے پیچھے انکے ممی ڈیڈی بچے عمران ہاشمی اور منّی کا کرداریوں ادا کررہے ہوتے ہیں کہ سارا محلہ اس کا گواہ ہوتا ہے۔  پھر اس روشن خیالی کے نتیجے میں جو گُل کھلنے والا ہوتا ہے تو پھر باہمی مشاورت سے لیڈی ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کیا جاتا ہے خون ناحق کے لیے۔ تو بھائی اس سب میں مولوی مدن کا کیا قصور؟

انکی لمبی چوڑی تقریر سن کر ہم نے کہا کہ قصور تو ہے۔ اگر آپ یہ سب کچھ حلوہ حلق سے نیچے اتارے بغیر کہہ دیتے تو کوئی قصور وار نہ ٹھراتا۔ بس جی اتنا سنتے ہی غضبناک ہوکر ہماری طرف بڑھے اور ہماری گردن دبوچ لی۔ ہم اپنی گردن ان کے چنگل سے آزاد کروانے کے چکر میں کرسی سے نیچے گرپڑے۔ اور پھر ہماری آنکھ کھل گئی۔ معلوم ہوا کہ شیر اسامہ بن لادن کا یہ شیدائی نیند میں مولوی مدن سے ڈر کر پلنگ سے نیچے آگرا تھا۔۔۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

ماسی مصیبتے اور مولوی مدن پر اب تک 23 تبصرے

  • منیر عباسی

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 8:25 pm

    ہا ہا ہا ہا

    بہت خوب اور غیر متوقع اختتام کیا ہے مولوی مدن.

  • DuFFeR - ڈفر

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 8:47 pm

    اب تو بچ بچو
    میں نے تو دو ایک سال پہلے لکھ دیا تھا کہ اس سارے ڈفانگ کی وجہ “احساس کمتری” ہے جسکا علاج مریض کو خود کرنا ہے اور وہ ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا. بس فیر مجھے ڈھائی درجن مزید احساس کمترانہ پوسٹوں کا سامنا کرا پڑا تھا.

    * جہاں جہاں اعراب لگائے وے وہ لفظ ٹوٹے وے نظر آرے گول دائرہ اور ساتھ اعراب، وجہ پتہ نی کیا ہے

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:09 pm

      حیرت ہے، تو نے سال پہلے ہی تشخیص کرلی تھی لیکن علاج مریض نے خود ہی کرنا ہے۔ خیر مسئلہ ای کوئی نہیں۔ اسیں وی ڈھیٹ ہیں۔۔۔ 😆

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 8:48 pm

    بہت اعلیٰ جناب …. 😆 😆 😆
    ماسی مصیبتے، عاصی میراثی اور بارہ سنگھا کی اس تکون کو جس طرح آپنے آشکار کیا ہے، اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا…
    “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ” والے محاورے پر بھی آپ بازی لے گئے ….اس محاورے کو لیکر ایک پوسٹ داغنے کا پروگرام کئی دنوں سے بنا رہا تھا کافی جملے ترتیب دے دیے تھے…لیکن اب کوئی فائدہ نہیں..
    ماسی مصیبتے اور مولوی مدن کے کردار خوب آئے ہیں…آپ دیکھیے گا کہ ان کرداروں پر لوگ باگ کس طرح اپنی ادبی اور میں اپنی بے ادبی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا ہوں. 😀
    پونڈی کا لفظ بالکل نیا ہے میرے لیے لہٰذا اس پر مذید روشنی ڈالی جائے…
    دعا ہے کہ پوسٹ سے پوسٹ بڑھتی رہے اور طبعیت کو اسی طرح راحت ملتی رہے…

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:14 pm

      جواد بھائی ہم تو پہلے ہی معترف ہی آپ کی صلاحیتوں کے۔ ہم منظر ہیں آپکی بے ادبیوں کے۔ لفظ پونڈی کے بارے میں میں کچھ کہہ نہیں سکتا، ناااااااااا، ڈاکٹر منیر عباسی کے مشورے پر عمل کریں۔ 😉

  • شازل

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 9:32 pm

    ہر بلاگ پر انہی کا ذکر ہے خدا نہ کرے کہ کم ازکم موسی جی بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیں. پھر کیا کریں گے؟
    رہی بات مولوی مدن کی تو وہ کم ازکم بھاگنے والوں میںسے نہیں ہیں. وہ پکے ڈھیٹ ہیں اور موقع پر لتاڑنا ان کی مجبوری ہے. اگر بلاگ کی تاریخ پاکستان میں لکھی جائے گی تو ان دونوں کرداروں کا اس میں خاص حصہ ہوگا.

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:15 pm

      شازل بھائی اگر ایسا ہوجائے تو پھر بھی فکر ناٹ، ہم کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈھ لیں گے لہو گرم رکھنے کا۔ 😉

  • منیر عباسی

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 9:36 pm

    جواد صاحب : بہتر ہو گا +پ جیسے شریف شرفا اس لفظ کے پیچھے نہ پڑیں اور اپنا علمی و قلمی جہاد جاری رکھیں. یہ کام گنہ گاروں کے لئے چھوڑ دیں.

  • عمران اقبال

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:02 pm

    سائیں۔۔۔ میرے پاس تو الفاظ کا ذخیرہ ہی نہیں کہ آپ کی اس تحریر کی تعریف کر سکوں۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔۔

    ماسی مصیبتے اور ان کے چیلوں پر کیا گزرے گی یہ تحریر پڑھ کر۔۔۔ اس کیفیت کا تخیل ہی مجھے لوٹ پوٹ کر رہا ہے۔۔۔۔

    آپ فورا سے پہلے خود کے لیے ایک بکرا صدقہ کریں۔۔۔ اور کوشش کیجیے گا کہ اس کی کھال ایم کیو ایم کو ملے۔۔۔ گوشت ماسی مصیبتے کے گھر پہنچا دیں۔۔۔ تا کہ ان کو بھی کچھ تسلی ہو۔۔۔ ویسے بھی بارہ سنگھا کافی بھوکا لگ رہا ہے آج کل۔۔۔

    باقی تبصرہ۔۔۔ فون پر۔۔۔ انشاءاللہ

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:18 pm

      حضور آپکی تعریف نے تو ہمارے تخیل کو مزید بلندیوں پر پہنچادیا ہے۔
      ویسے میں کھال ایم کیو ایم کو اسی صورت میں بخوشی دونگا جب قربانی باراسنگھے کی کرونگا۔۔۔۔ 😆

  • عمران اقبال

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:16 pm

    ساءیں۔۔۔ یہ لکھنا تو بھول ہی گیا۔۔۔ Classic…

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 1:57 am

    بہت خوب!
    یہ روشن خیالی کا دروہ پڑنے والوں کو جو مولوی سے چڑ رہی ہے۔ امید ہے اب انھیں خواب میں بھی مولوی مدن نظر آئیں گے۔

    حد ہے۔ ملک مسلمانوں کا اور تاریک باطناں اوپر سے لیکر نیچے تک منافقتاں منافقتاں کرتے مسلموں کو ہی دھوکہ دینے کے چکر میں ہے کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی اب کیسے گزارنی ہے۔ جیسے یہ ہماری قوم پہ “گیٹ کیپر” ہوا کرتے ہیں۔

    بھائی ہمیں مولوی ، ٹوپی، مصلے ، مسجد، قرآن کریم اور اسلام سے پیار ہے۔ اب جس کے دل میں مروڑ اٹھتا ہے اٹھا کرے۔

    جعلی روشن خیالی، جعلی لوگ، جعلی نظریات، جعلی فلسفہ۔ مگر انکو وہ نہیں آتی ۔۔ بس وہ۔۔۔

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:21 pm

      بہت خوب گوندل صاحب، اب جس کے دل میں مروڑ اٹھتا ہے تو اٹھا کرے، ہم نے تو باز نہیں آنا۔۔۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 3:33 am

    ہاہاہاہاہاہاہا
    بہت زبردست
    بھئی اوپر نیچے دوتین مزاحیہ تحریریں پڑھیں
    تھکاوٹ کم ہوئی اور اس تحریر نے بالکل ہلکا پھلکا کر دیا۔

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:23 pm

      پیر صیب یہ کیا صرف چند الفاظ پر مشتمل تبصرہ، لگتا ہے آج کل کچھ زیادہ ہی مصروفیت ہوگئی ہے۔ :mrgreen:

  • سعد

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 3:33 pm

    آج یہاں ایک قریبی گاؤں میں ایک بڈھا بابا اپنی پچیس سالہ بیوی کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا۔ اس واقعہ پر علاقے کے تمام عمران ہاشمیوں نے مسرت کا اظہار کیا اور قاتلہ کی حرکت کو سراہا۔
    تم تنگ نظر مولوی جتنی مرضی جلی کٹی لکھتے رہو، محبتوں کے کارواں کبھی نہیں رکنے والے! 😆

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 10:24 pm

      او بھائی ہمارا نہیں تو اپنے بڑھاپے کا ہی کچھ خیال کیا ہوتا۔ 😉

  • حجاب

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 3:59 pm

    🙂 🙂 🙂 😛 😛

  • کاشف نصیر

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 1:02 am

    بلاتبصرا
    😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆 😆

    یار وقار دیکھ اب بلاگر آنٹی سے صلح کرلے، بول تو کینیڈا سے سفارش لگواوں ؟؟؟؟

    • محمدوقار اعظم

      Thursday، 19 May 2011 بوقت 5:13 pm

      اوئے کون بلاگر آنٹی؟ میں کسی آنٹی وانٹی کو نہیں جانتا نہ میرا کسی سے کوئی پھڈا ہے تو صلح کس سے کروں اوئے؟ تو تو جانتا ہے میں صدا کا صلح جُو اور انتہائی شریف النفس بندا ہوں. اور تو سفارش کی بات کر رہا ہے تو چل اسی بہانے ان سے بھی بات چیت ہوجائے گی ورنہ وہ تو اب ہمیں لفٹ ہی نہیں کرواتے…. 😉

  • عمر فاروق

    Thursday، 19 May 2011 بوقت 3:41 pm

    اچھی تحریر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *