سب مایا ہے

موضوع: پاکستانیت

کہتے ہیں کہ کتے کی دم اگر سو سال بھی نلکی میں رکھی جائے تو پھر بھی وہ ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔ اس محاورے کی حقیقت تک پہنچنے کی نہ ہم میں ہمت ہے اور نہ وقت کہ تجربہ کربیٹھیں لیکن اس مختصر سی زندگی میں بھی حالات و واقعات کو دیکھنے کے بعد اس محاورے کی حقیقت پر ایمان لانے کو دل کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب تعلیمی ادارے الحاد کا گڑھ ہوا کرتے تھے اور کمیونزم کے سرخ پھریرے کے سائے تلے عقابوں کے روپ میں گدھ عوام الناس کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق مقرر کررہے تھے اسلامی جمعیت طلبہ ان کے مقابل استقامت کے ساتھ کھڑی ہر محاذ پر انہیں بچھاڑ رہی تھی۔ 85 سے پہلے کا دور جب طلبہ یونین موجود تھی یقیناً ان اباحیت پسندوں کےلیے جو آج کل بے غیرت بریگیڈ کے عنوان سے جانے پہچانے ہیں کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوگا۔ آج بھی یہ جب اس کی کسک محسوس کرتے ہیں تو بوکھلا جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی خفت کو مٹانے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بھونڈے الزامات کا سہارا لیتے ہیں۔

جمعیت پر لگائے جانے والے انتہائی خطرناک الزامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جمعیت اختلاط مردو زن کو حدود کے اندر ہی برداشت کرتی ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی کہ پنجاب کے ایک تعلیمی ادارے میں موزک کانسرٹ کے دوران بھگدڑ مچنے سے کئی طالبات ہلاک ہوگئیں۔ تو دل میں ایک خیال آیا کہ اگر جمعیت اس ادارے میں ہوتی تو شاید یہ لڑکیاں زندہ ہوتیں۔ میرے اس بیان پر بیغیرت بریگیڈ کا سیخ پا ہونا بجا ہے کہ اس بریگیڈ کا سب سے بڑا مسئلہ لہو و لہب پر مبنی مخلوط کلچر کا نفاذ ہی ہے کہ اس کے لیے کینیڈا یا امریکہ جانے کی ضرورت نہ پڑے یہی کسی پارک میں لوئر مڈل کلاس بچوں کی طرح بلاخوف و خطر پونڈی کی جاسکے۔ پارک کے ذکر سے مایا خان یاد آگئیں جو پچھلے کئی دنوں سے بہت مشہور ہیں خاص کر سوشل نیٹ ورکس میں۔ محترمہ اپنے مارننگ شو میں مصالحہ لگانے کے لیے کراچی کے ایک پارک میں پہنچ گئیں اور صبح صبح پریم کبوتروں کو حراساں کرنے لگیں۔ اس کے بعد تو لگتا ہے ایک طوفان آگیا ہے۔ ہرکوئی اپنی بساط کے مطابق اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہا ہے کیا ہاتھ دھوکر پیچھے پڑگیا ہے۔ اور اس میں پیش پیش وہی بریگیڈ ہے۔ ہر طرف میڈیا کی اخلاقیات کا رونا رویا جارہا ہے۔ اصول و ضوابط کے فقدان کا ماتم ہے اور پرائیویسی میں مداخلت کا واویلا۔

نہ جانے یہ اخلاقیات اور پرائیویسی وغیرہ اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب کوئی رپورٹر اپنے پاس موجود کیمرے کے زعم میں کسی مدرسے میں کسی مولوی کی پرائیویسی کو پامال کرتا ہے؟ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوشش مفقود ہے اور جھوٹی گھڑی گئی کہانیوں میں طالبان کے ظلم کا شکار جعلی کرداروں کے لیے خوب آہ و زاری ہے۔ معاشرے میں اخلاقی اقدار کے تحفظ پر گالیاں اور طنز کے نشتر ہیں اور امریکی سفارت خانے کی ہم جنس پرستی کے فروغ کے لیے کوششوں پر ستائش۔ ان کی منافقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سے مایا خان کا موضوع گرم ہے ٹھیک اسی وقت سے پنجاب کے اسپتالوں میں جعلی ادویات سے ہونے والی ہلاکتیں 100 سے اوپر پہنچ گئیں ہیں اور یہ سول سوسائٹی کے ٹھیکدار مایا خان کا دکھڑا لیے بیٹھے ہیں۔ آج کے روشن خیال اور کل کے سُرخوں کی حرکتوں کو دیکھ کر کُتے کی دم یاد آہی جاتی ہے۔

صاحبو! ان تمام باتوں کے بیچ ایک اور بات میرے ذہن میں تھی کہ شکر ہے اس آنٹی بریگیڈ میں کسی نے اسکارف نہیں پہنا تھا ورنہ جماعتی ہونے کا الزام پکا تھا لیکن پھر یہ انکشاف بھی ہوا کہ صاحب یہ تو دراصل جماعتی سوچ ہے جو کہ ضیاءالحق سے ورثے میں ملی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ضیاء الحق کا بھوت اب بھی انکا پیچھا کررہا ہے۔ یہ اس کے خوف سے باہر نہیں آئے اب تک۔ ساتھ ہی جمعیت کا جامعہ کراچی سے نکالے جانے کی پرامید خبریں دیتے نہیں تھکتے کہ کیسے اے پی ایم ایس او نے انہیں جامعہ سے نکال باہر کیا ہے۔ جمعیت کی طلبہ کی مشکلات میں کمی اور انکی آواز ارباب اختیار تک پہنچانا، پوانٹ بسوں کے لیے تحریک، فیسوں میں اضافہ کے خلاف تحریک، اسٹڈی مٹیرل تک رسائی کو آسان بنانا۔ نئے آنے والے طلبہ کی مدد و رہنمائی، غیرنصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی وغیرہ، ان تمام سرگرمیوں کے الرغم انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں اسکارف نہ پہنا پڑجائے یا اوباشوں کی طرح گھٹیا حرکتیں کرنے کا اختیار نہ سلب کرلیا جائے۔ انکا ایک ہی نعرہ ہے اور جمعیت سے بغض پرانا ہے، اس بارے کیا کہیں وہی کتے کی دم والا محاورا۔۔۔ بقول شاعر۔۔۔

شاہیں تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ

تو اپنے پروں سے اسے اور ہوا دے

1985 میں جب تعلیمی اداروں میں آخری یونین کے انتخابات ہوئے تو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے کلین سوئیپ کیا جو اس پر طلبہ و طالبات کے اعتماد کا مظہر ہے۔ اس اعتماد کی جھلک نیچے ویڈیو کلپ میں لاحظہ کیجیے۔

ساتھ ہی سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے جمعیت کے بارے میں فرمودات بھی سننے لائق ہیں۔

جامعہ کراچی میں جمعیت کی موجودہ آب و تاب دیکھنے کے لیے جامعہ کا ایک چکر سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ اس طرح کے جاہلانہ پروپگینڈے سے جمعیت کا راستہ کھوٹہ نہیں کیا جاسکتا کہ

ان چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

سب مایا ہے پر اب تک 11 تبصرے

  • ضیاء الحسن خان

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 2:43 am

    پہلے تو یہ واضح کر کے کتا کسے کہا اور دم کسے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ اور تم جماعتیوں سے کسی کی تنقید تو برداشت تو ہوتی نہیں ہے ۔۔۔۔ 🙂

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 12:38 pm

    یہ کتا کون اور کتے کی دم کون؟
    وہ آنٹیوں والا برگیئڈ تو باغوں کے سارے کھانچے جانتا تھا اس لئے باغو ں کے مخصوص علاقوں میں پہونچا تھا۔۔۔۔رستہ پتہ تھا نا۔ 😀

  • ام عروبہ

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 2:28 pm

    السلام و علیکم
    ایل حق کی یہی نشانی ہے وقار بھائی کے حق کے دشمن لوگ انکے کے پیچھے کُتے کی طرح پڑے رہتے ہیں۔ 😉
    اور شعر تو خوب کہا آپ نے مکرّر مکرّر 🙂
    شاہیں تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ
    تو اپنے پروں سے اسے اور ہوا دے

    بھائی خواہ مخواہ کُتّوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے نا کہ دلچسپی 🙂
    اور آنٹیوں کو راستہ اس لیے پتہ ہوگا کہ وہ اپنے کُتّوں کو وہاں گھمانے لے جاتی ہونگی 🙂 اسکے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی، بھائی بزرگوں کو تو بخش دیا کریں۔

  • Bilal Imtiaz Ahmed

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 6:44 pm

    برادر وقار اعظم، اختلاف کرنے والوں کو کتے کی دم قرار دینے کا شکریہ، آپ کے اس قدم سے صاف ظاہر ہے کہ آپ میں کتنی برداشت ہے۔ جمعیت کا سب سے بڑا مسئلہ بالکل غیر متعلق باتوں میں ٹانگ اڑانا، تعلیمی اداروں میں زبردستی اجارہ داری اور زبردستی خدائی فوجدار کا کردار ادا کرنا ہے۔ اس کے ایک مثال آپ کی یہ بلاگ پوسٹ بھی ہے،مایا خان کا معاملہ ایک انتہائی غیرمتعلق معاملہ ہے جس کی آپ غیر واضح حمایت کرتے نظر آرہے ہیں، مایا خان کا مذکورہ پروگرام انتہائی ناشائستہ اور نقصان دہ تھا، اس پروگرام میں اخلاقی اور قانونی حدود پار کی گئیں، اس پر لے دے سب سے ذیادہ سوشل میڈیا پر ہوئی یعنی فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ پر ، سوشل میڈیا کے صارف ملک کے نوجوان ہیں، کیونکہ معاملہ ان سے متعلق تھا اس لئے انہوں نے شور بھی مچایا، لاپتہ افراد کا معاملہ نوجوانانِ پاکستان سے ذیادہ متعلق نہیں ہے اسی لئے اس پر سوشل میڈیا پر ذیادہ بات نہیں ہوتی ، ہونی ضرور چاہیئے، لیکن اس کے لئے لعن تعن سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس موضوع نوجوانوں میں آگاہی پر شوشل میڈیا پر مہم چلانے کی ضرورت ہے،

    • کاشف نصیر

      Saturday، 28 January 2012 بوقت 10:32 am

      بلال امتیاز صاحب ٹی وی پہ کم از کم دو درجن پروگرام ایسے ہیں جو آپکی اس بتائی ہوئی تعریف پورے اترتے ہیں، ایک پروگرام تو کل دوپہر اے آر وائی سے دیکھ رہا جس میں ایک سابق نیوز کاسٹر جاسوس کمیروں سے حکیموں کے روز مرہ کی عکس بندی کررہے رہے تھے، کئی پروگرام اور یہاں تک کہ خبروں میں نجی تصاویر دیکھائی جاتی ہیں۔ اگر شور مچانا ہے تو ہر اس پروگرام کے خلاف مچانا چاہئے تھا جو نام نہاد پروئیسویسی کو روندتا ہے، اسوقت آپ لوگ کہاں تھے جب یہی مایہ خان ایک جعلساز کو اپنے پروگرام میں بیٹھا کر اسکی جعلی کرامات دیکھا رہی تھی آخر اس وقت طوفان کیوں مچا جب بات ڈیٹنگ کلچر پر آکر رکی ؟؟؟؟؟؟؟ اگر کسی نے ڈیڈنگ کلچر کو بزور طاقت اور سرمایہ عام کرانے کا تہیہ کیا ہوا ہے تو ہم نے بھی ڈیٹنگ کلچر کو روکنے کا عظم رکھا ہوا ہے چاہے اسکے سرمایہ استعمال کرنا پڑے ، قلم استعمال کرنا پڑے یا آخری حربہ کے طور پر ڈنڈا۔ آپ حضرات کو ڈیٹنگ کلچر کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہئے، کم از کم یہی بتا دیں کہ ببلک مقامات پر کون کون سی حرکان پروائیوسی کے ذمرے میں آتی ہیں اور اگر ڈیٹ مارنا کسی کا حق تو ہم اس حق کو پامال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے گے، جسے روکنا ہے روکے.

    • Bilal Imtiaz Ahmed

      Saturday، 28 January 2012 بوقت 10:35 am

      محترم کاشف نصیر،
      میرے خیال میں ریٹنگ کے چکرمیں ہمارا میڈیا پاگل ہوئے جارہا ہے، اصولی طور پر اگر کسی جرم کی ویڈیو بھی دکھائی جائے تو چہروں کو چھپادیا جاتا ہےلیکن ہمارے ہاں ہاتھ میں کیمرا ہونے کا مطلب ہے کہ تسی بادشاہ ہو، ٹی وی چینلز کے مالکان کو اپنے اسٹاف کو تربیت دینے کی ضرورت ہے اور مضبوط لیکن جائز کنٹرولنگ اتھارٹی کی بھی ضرورت ہے،جہاں تک بات ہے مایا خان کے جعلی پیر کو ٹی وی پر لانے کی، تو بھائی یہ کسی کی پرائویسی کی خلاف ورزی نہیں تھی، ویسےبھی بات مذہبی ہے اس لئے اس جعلی پیر کے جتنے مخالف شاید اتنے ہی چاہنے والے بھی ہوں اس لئے غیر قانونی بھی نہیں۔ ایک اور بات لوگ انہیں چیزوں پر ری ایکٹ کرتے ہیں جو انہیں اپیلینگ محسوس ہوتی ہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور وہ انہیں باتوں پر ری ایکٹ کریں گے جو ان کے لئے اپیلینگ ہوں گی، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ صورتحال کو بدلہ نہیں جاسکتا، اگر آپ سوشل میڈیا پر کمپیننگ کریں تو بہت سے ایسے موضوعات جن پر آپ چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کا ردعمل آئے ضرور آئے گا شرط بس یہ ہے کہ آپ کی بات میں وزن ہو۔.

      آپ سے ایک سوال کہ میرے بھائی ڈیٹنگ کو کون بزورطاقت نافذ کررہاہے؟؟؟ یا اس پر سرمایا خرچ کررہا ہے؟؟ مایا خان کے معاملے کے دوران کسی نے مایاخان کا پتلا جلایا؟؟ یا کفر کا فتو دیا؟؟ یا راہ چلتی گاڑیوں پرپتھراوَ کیا؟؟یا ہڑتال کی کال دی؟؟ہوائی فائرنگ کی یا سماء ٹی وی کے دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی؟؟ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو کہ کچھ بنیاد پرستوں سے منسوب ہیں۔ یعنی جب آپ کی کسی بات پر ہٹتی ہے تو آپ لوگ یہ حرکتیں کرتے ہیں، اور بقول آپ کے سیکولر طبقے نے کیا کیا یوٹیوب پر مایا خان کا مذاق اڑایا، فیس بک پر لے دے کی ذیادہ سے ذیادہ پیمرا کی ویب پر جاکر شکایت کا فارم بھر ڈالا، نتیجہ آپ کے سامنے سماء عوامی اور بقول آپ کے سیکولر دباو میں آگیا اور مایاخان فارغ اسے کہتے ہیں پر امن تبدیلی۔ اور آپ کو قلم اور سرمایا استعمال کرنے سے کس نے روکا ہے، بس ڈنڈا استعمال نہ کرنے کی درخواست ہے کیونکہ جناب یہ غیر قانونی ہے اور خدانخواستہ دوسری طرف سے بھی چلایا جاسکتاہے۔.

      پبلک اسپیس اس جگہ کو کہتے ہیں جس کو استعمال کرنے کا حق سب کو حاصل ہو، پبلک مقامات پر کون سے چیزیں پرائیوسی کے زمرے میں آتی ہیں۔.
      پرسنل اسپیس http://en.wikipedia.org/wiki/Personal_space.
      بناء اجازت کسی کے پرسنل اسپیس میں داخل ہونا.
      بنا اجازت کیسی کی تصویر بنانا.
      اسٹاکنگ http://en.wikipedia.org/wiki/Stalking.
      اور کسی کا پیچھا کرنا وغیرہ.

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 28 January 2012 بوقت 10:59 am

      محترم بلال امتیاز صاحب،
      آپ کا یہ کہنا کہ سوشل میڈیا میں نوجوانوں کی اکثریت ہے بالکل صحیح ہے لیکن اس بات کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں کہ انہوں نے اس طرح کی کوئی کمپین چلائی. یہ کچھ مٹھی بھر لادین عناصر ہیں جو ٹوئٹر اور فیس بک پر زہر اگلتے رہتے ہیں. اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مایا خان کے خلاف جو آن لائن پٹیشن دائر کی گئی اس پر صرف 5539 نے دستخط کیے جبکہ پیمرا کو کی جانے والی شکایات صرف 375 کالز ہیں. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نوجوان صرف پانچ ہزار کے قریب ہی ہیں؟ کبھی سوچا بھی ہے کہ اگر وہ جنہیں آپ شدت پسند کہتے ہیں کوئی پٹیشن دائر کریں یا صرف پیمرا کو کال کرنا ہی شروع کریں تو یہ مٹھی بھر نام نہاد لبرل بری طرح کچلے جائیں گے.

      آپ پتہ نہیں میری اس بات سے اتفاق کرینگے یا نہیں کہ میڈیا بائزڈ ہے. مولانا فضل الرحمن کی عمران خان سے بڑے جلسے کو وہ کوریج نہیں ملی جو اس کا حق تھا. میڈیا ایک نشئیوں کی علاج گاہ میں گھس کر اسے مدرسہ بنادیتا ہے کیونکہ وہ مولوی چلارہے ہیں اور انہیں ظالم اور وحشی ثابت کیا جاتا ہے اور کسی کو اس وقت میڈیا کی اخلاقیات یاد نہیں آتیں. شمس الانور نامی جعلی بندے پر طالبان کے ظلم کی دکھ بھری داستان پوری دنیا میں پھیلائی جاتی ہے لیکن پتہ چلتا ہے کہ یہ تو ڈرامہ اپنے اکائونٹ کو بھرنے کا. سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جھوٹی کہانی بھی سب پر آشکار ہے اور مایا خان کے خلاف جو زبان استعمال ہوئی اور جو گھٹیا اور قبیح حرکتیں ان نام نہاد پرائیوسی کے متوالوں نے کی ہیں یہ ان کے منہ پر غلاظت کا ایک انبار ہے. اس کے باوجود الزام دوسروں پر؟ ارے جناب یہ پیار کی زبان کہاں سمجھتے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے وہی دم والا معاملہ…

      ہڑتالیں اور احتجاج جمہوریت کا حصہ ہیں اور افراد کا انسانی حق. اب آپ جیسے انسانی حقوق کے دلدادہ کے منہ سے تو یہ باتیں اچھی نہیں لگتی. کفر کے فتوے تو وہی لگائیں گے نہ جو اس حوالے سے حساس ہوں. جن کو کفر و شرک سے یا اسلام و مسلمانیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پھر دوسرے طرح کے فتوے لگاتے ہیں نا؟ کیا جو کچھ مایا خان اور دیگر کے سلسلے میں ان لبرل فاشسٹوں کی طرف سے کیا گیا ہے، کہا گیا ہے وہ کسی فتوے کے زمرے میں نہیں آتا؟ 😉

      دوسری بات یہ کہ پارک میں جاکر عشق میں ڈوب کر حرکتیں کرنا دوسروں کی پرائیویسی کو پامال کرنے کے زمرے میں آتا ہے لہذا یہ برداشت نہیں کی جانی چاہیے. اپنی پرائیویسی کا تحفظ ہمار حق ہے.

  • Bilal Imtiaz Ahmed

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 7:01 pm

    محمد وقار۔
    ۱۔ جمعیت کے حوالے سے میرے تجزیے کا جواب نہیں دیا آپ نے۔
    ۲۔ مٹھی بھر لبرل لوگوں نے سماء اور پیمرا کو جھکا لیا وہ بھی پرامن طریقے استعمال کرکے، آپ لوگوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے، اور صرف مایاخان کے معاملے میں نہیں بلکہ آج ہی اور پروگرام “تھوڑی سی بیوفائی” بھی بند ہواہے، دراصل فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ کمپیننگ کس نے کی، خاموش رہنے والے ہمیشہ ہاں میں شمار ہوتے ہیں، اگر آپ مایا خان کو حق بجانب سمججھتے ہیں تو آج ہی اس حق میں کمپین شروع کریں، میری گارنٹی ہے آپ کو پانچ ہزار لوگ بھی نہیں ملیں گے۔
    ۳۔ جی ہاں میڈیا اپنی پسند کے مطابق چیزیں دیکھاتا ہے، ان کے نزدیک عمران خان کا جلسہ کمائی کا اچھا ذریعہ تھا اس لئے انہوں نے اسے کوریج دی، ملانا کے جسلے کا غالبا ٹی وی پر دیکھنے والا کوئی نہیں تھا اس لئے اشہتارات اور ویور شپ نہ ملنے کے ڈرسے انہیں کوریج نہیں دی، لیکن نہ جانے کیوں پاکستانی سیاست دانوں نے یہ اخذ کیا ہوا ہے کہ ٹی وی پر آنا ان کے کامیابی ہے۔ ٹیلی ویژن چینل ایک کاروبار ہیں جہاں بنیادی کوشش پیسہ کمانا ہوتی ہے، اسی لئے ہر ایسی خبر جو بکتی ہو وہی چلتی ہے۔
    ۴۔ مایا خان کے خلاف کس نے گھٹیا زبان استعمال کی؟؟ فیس بک اور ٹوئٹر عام عوام استعمال کرتے ہیں، وہ جو الفاظ استعمال کریں وہ ایک ذاتی فعل ہے مثال کے طور پر یہیں ذرداری، رحمان ملک، الطاف حسین اور منور حسن کو گالیاں دی جاتیں ہیں، فوٹوشاپ پر ایڈٹ شدہ تصاویر شائع کی جاتی ہیں، یہ لوگوں کا ذاتی فعل ہے، لیکن کوئی ذمہ دار ایسی ذبان کا استعمال کرے تو وہ قابل گرفت ہے۔ مایا خان پر بات کرنے والے کسی بھی ذمہ دار نے کوئی گھٹیا زبان استعمال نہیں کی۔
    ۵۔احتجاج کرنے کی آزادی جمہوری آزادیوں میں سے ایک ہے، احتجاج ضرور کریں اور اگر ہوسکے تو لبرل لوگوں سے سیکھیں کہ پرامن احتجاج کس طرح کیا جاتا ہے۔
    ۶۔ لبرل اور فاشسٹ دو انتہائی الگ الگ نظریے ہیں اسلئے لبرل فاشسٹ کا کوئی معنیٰ نہیں۔
    ۷۔ پارک ایک عوامی مقام ہے، یہاں جاکر بیٹھنا اور باتیں کرنا یا کوئی اور جائز اور قانونی کام کرنا دوسروں کی پرائیوسی پامال کرنے کے زمرے میں نہیں آتا، اگر پارک میں بیٹھے ہوئے افراد غیرقانونی کام میں ملوث ہوں تو بھی میڈیا کو خدائی فوجداری کا حق حاصل نہیں، اس کام کے لئے پولیس موجود ہے ۔

    • محمدوقار اعظم

      Saturday، 28 January 2012 بوقت 11:14 pm

      محترم بلال امتیاز صاحب…
      1۔ جمعیت کے بارے میں آپ کا کہنا ہے کہ یہ غیر متعلق باتوں میں ٹانگ اڑاتی ہے، تعلیمی اداروں میں زبردستی اجارہ داری اور زبردستی خدائی فوجدار کا کردار ادا کرتی ہے۔ تو جناب جو باتیں آپ کی نظر میں غیر متعلق ہیں وہ ضروری نہیں کہ دوسرے گروہ کی نظر میں بھی غیر متعلق ہوں۔ اور پھر ایسا گروہ جو دین اسلام پر یقین رکھتا ہو اور اس کے فلاحی نظام کو معاشرے میں نافذ کرنے کا عزم رکھتا ہو انکا نکتہ نطر دوسرے گروہ کی نظر میں غیر متعلق ہی رہیں گی۔ حنمعیت یقیناً خدائی فوجدار ہی تو ہے وگرنہ وہ میدان عمل میں کیوں ہوتی۔ باقی تعلیمی اداروں میں زبردستی اجاراداری تو بے پر کی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جمعیت تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی زبردست حامی ہے کہ اس سے طلبہ خود ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کسی کی اجاراداری ہونی چاہیے۔
      2- محترم یہ آپ کی خوش فہمی ہے کہ خاموشی حمایت ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے گروہ نے مایا خان کی حمایت نہیں کی کہ وہ خود بھی ان لبرل فاشسٹوں کے قبیلے سے ہی تعلق رکھتی ہیں اور لوگوں کو اس کے طریقہ کار پر اختلاف تھا۔ اور یہ اتنی آسانی سے اسی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں کہ میڈیا اور خو پیمرا کے کرتا دھرتا اسی بریگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ کچھ عرصہ پہلے ہلال کنفیکیشنری کے واہیات ٹی وی اشتہار کے بعد ہم نے خود اس کے چیف ایگزیکٹو کو فون کرکے شکایت کرنے اور پیمرا کو ای میل کرنے کی مہم چلائی تھی جس کے چند دنوں بعد ہی وہ اشتہار بند ہوگیا۔ تو آپ بے فکر رہیں دوسرے گروہ کو بھی اپنی طاقت کا خوب اندازہ ہے کہ وہ کب کس طریقے سے اپنی بات منواسکتا ہے۔
      3- میں اس بارے میں کیا کہوں؟ بحرحال آپ شمس لانور، نشئیوں کی علاج گاہ کو مدرسہ کہہ کر بدنام کرنا، وغریہ کا ذکر نہیں کیا 😉

      4- آپ کے خیال میں اس کمپین کا ذمہ دار کون تھا؟ چلیں چند نام میں ہی گنوادیتا ہوں۔ ماروی آنٹی کی ٹوئیٹس ملاحظہ کیجیے یا اپنے ڈینٹسٹ صاحب کی فیس بک وال۔ گھٹیا ویڈیوکلپ اور بازاری مذاق قابل گرفت نہیں ہوتا شاید…
      5- جناب ہمارے ملک میں ان نام نہاد لبرلز کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے احتجاج کرنے کی. بیچارے درجن بھر افراد کو لے کر پریس کلب کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں. اب ان سے کیا سیکھنا؟
      6- سکیولر فاشسٹ کیسا رہیگا؟
      7- جناب کیا کریں اگر پولیس اور ریاستی ادارے اپنا کام نہ کریں تو پھر عوام یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. ویسے جب پولیس یہ کام کرتی ہے تو ہمارے سکیولر فاشسٹ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں….

  • ام عروبہ

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 12:01 am

    اسلام علیکم
    بلال بھائ جمعیت بھی تو پولیس ہی کا کام کرتی ہے-کرپشن اور مک مکا کے بغیر اور فری آف چارج-جسکو کہتے ہیں اخلاقی محتسب،خدائ فوجدار اورا سلامی لفظوں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکرنے والے،یعنی سورہ عصر کے مطابق کامیاب لوگ-اور حدیث کے مطابق اپنے بھائ کے لئے بھی وہی چاہنے والے جو اپنے لئے-
    جمعیت ہماری شان ہے
    جمعیت ہماری آن ہے
    تو کیو ں پریشان ہے
    کیوں خیر سے انجان ہے
    پھر کیسا مسلمان ہے
    باہم جج تو قرآن ہے
    نہ کہ غیر کا فرمان ہے
    ہم سب کا یہ ایمان ہے

    🙂

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Saturday، 28 January 2012 بوقت 2:47 pm

    بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔ بہت خوب۔
    جمیل جالبی کا انٹرویو بہت اچھا لگا۔ اور ا؛لیکشن کی ویڈیو بھی زبردست ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *