پہچان۔۔۔

موضوع: شہر قائد

شہر کراچی ویسے تو شہر قائد کہلاتا ہے اور مزار قائد اس کی پہچان ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ قائدین اور پہچان میں تبدیلی آتی جارہی ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے کے شہر کی کمان مبین ٹنٹا، جاوید لنگڑا اور فاروق دادا کے ہاتھوں میں تھی اور اب لوگ مزار قائد کو بھول کر اس کی پہچان کٹی پہاڑی اور قصبہ و بنارس سے کروانے لگے ہیں۔ کٹی پہاڑی و قصبہ سے وادی کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر لائن آف کنٹرول یاد آگئی جہاں دونوں اطراف بیٹھے سورما وقفے وقفے سے اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے ہیں۔ کٹی پہاڑی اور قصبہ کے علاقوں میں بھی ایک لائن آف کنٹرول (قبضے کی حد) ہے۔ شہر کے حالات جیسے بھی ہوں یہ علاقے حالت جنگ میں رہتے ہیں۔

قائدین اور پہچان کے ساتھ ساتھ مختلف اصطلاحات کی نئی نئی تعریفیں جنم لینے لگی ہیں۔ اب امن کو ہی لے لیجیے کتنا خوابناک سا لفظ ہے لیکن اگر کراچی میں لفظ امن کی تکرار کریں تو یار لوگ الطاف بھائی کے افکار کا ترجمان اخبار روزنامہ امن سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ سمجھدار لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن کا مطلب ایک لاش سے دوسری لاش کےگرنے کے درمیان کا وقفہ ہے۔

لاشیں۔۔۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ۔۔۔جلتی گاڑیاں اور ان میں جھلستے جیتے جاگتے انسان۔۔۔
دلوں کو چھلنی کرنے والی بین کی آوازیں۔۔۔ آہ لاشیں۔۔۔!
لاشیں جنہیں دیکھ کر راتوں کی نیندیں اُڑ جائیں۔۔۔
مائوں، بہنوں ، بیٹیوں اور بیوائوں کی بین کی آوازیں جو کئی دنوں تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔
ابھی کل ہی تو بنارس میں 4 جیتے جاگتے انسان لاشوں میں تبدیل کردیے گئے۔ نفرت و تشدد کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان میں ایک اورنگی کا سلیم بھی تھا۔
سلیم جسے اس کی بیوہ ماں نے 30برس تک کڑی محنت سے پال پوس کر جوان کیا، زمانے کے سردو گرم سے بچایاکہ وہ بڑھاپے میں اس کا سہارا بنےلیکن۔۔۔!
لیکن دست قاتل شاید سب سے زیادہ خدا پر یقین رکھنے والا تھا کہ جس کا کوئی نہیں اس کا تو خدا ہے یارو!

کل میری ملاقات جہانگیر خان سے ہوئی۔ ۔۔خان صاحب ان بس مالکان میں سے ایک ہیں جن کی بس 27 مارچ کے یوم سوگ کے دوران جلادی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ بس ہی انکے خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ تھا۔ اب وہ زندگی کی گاڑی کو نئے سرے سے کھینچنے کے لیے قرضوں کے انتظام میں لگے ہیں۔ خان صاحب کے لہجے سے مایوسی عیاں ہے ساتھ ہی انکا کہنا ہے کہ وہ رب کی رضا پر راضی ہیں لیکن ساتھ بیٹھے چودہ پندرہ سالہ بیٹے کی آنکھوں میں مجھے اپنے لیے نفرت محسوس ہورہی تھی۔

نفرت۔۔۔! آپ جانتے ہیں نفرت کیا ہوتی ہے؟
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ بس میں سفر کے دوران اچانک آپ کی بس روک لی جائے اور پھر لسانی تفریق کی بنیاد پر شناخت کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جائے؟
کیا آپ ایسے فرد کے محسوسات سمجھ سکتے ہیں؟
نہیں شاید کبھی نہیں۔۔۔
کیا آپ کو کبھی کسی سرکاری دفتر میں کام کرواتے ہوئے لسانی تفریق کا سامنا کرنا پڑاہے؟
فرض کیجیے آپ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کے دفتر جاتے ہیں۔۔۔
ڈیوٹی پر موجود کلرک آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کی رہائش کہاں کی ہے؟
آپ اسے بتاتے ہیں کہ میں کراچی کے علاقے اورنگی ٹائون میں رہتا ہوں۔
جواباً ڈیوٹی کلرک آپ سے کہتا ہے کہ ارے وہاں تو سارے بنگالی رہتے ہیں۔ آپ ایسا کریں کلیئرنس لے آئیں یا 71ء سے پہلے کا راشن کارڈلے آئیں تاکہ آپ کا شناختی کارڈ بنایا جاسکے۔۔۔
آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔

اے اہل پاکستان آخر کب ذاتی اور لسانی مفادات کو قومی مفادات پر مقدم کروگے؟ کب تک ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے رہوگے جو نفرت و احساس محرومی کو جنم دیتے ہیں۔ آخر کب نیک و کار و صالح لوگوں کو امامت کے لیے منتخب کروگے؟
کہاں ہے اسلام؟
کہاں ہے مسلمان؟
صرف الزامات کی چارچ شیٹ۔۔۔!
اور مقدر احساس محرومی، نفرت، عدم رواداری۔۔۔
بنگال، کراچی ، بلوچستان۔۔۔
رحم۔۔۔ خدارا رحم!

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

پہچان۔۔۔ پر اب تک 6 تبصرے

  • Abdul Qadir Khan

    Monday، 2 April 2012 بوقت 2:37 pm

    Nice blod brother, but personally i think we these blogs, articles, and pen media is not effective, it might change the way people think, but you know hwat, its not the common man fighting in the market, its the POLITICIANS, and no matter how much u write, u cant change the way THEY think.
    Katachi is an oppertunity for them, multi BILLION DOLLAR operrtunity, something no 1 would give away. no matter what it takes, ITS TIME TO JOIN THE MARKET MY FRIEND, one more thing, the trend on which the market is set, the so called democracy, u got to think abt that too, y r v protecting the democracy like a holy scripture from GOD ? When we are free to change, y not to look for an even better solution, GO FOR KHILAFAT

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Monday، 2 April 2012 بوقت 2:40 pm

    بلا تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Ahmad Shaheen

    Monday، 2 April 2012 بوقت 2:41 pm

    بہت خوب اور درست تجزیہ ہے کراچی کے مجوجودہ حالات پر۔ واقعی اس وقت تاریخی حیثیت تبدیل ہوےی جا رہی ہے اور نئی پہچان اپنا مقام بنا رہی ہے لیکن افسوس یہ پہچان کوئی قابل رشک نہیں۔ اللہ مزید ہمت دے اور حقائق سے پردہ اٹھانے کی۔

  • افتخار راجہ

    Monday، 2 April 2012 بوقت 4:42 pm

    جوکرنا سو بھرنا، یہ ساری باتیں دکھ دینے والی ہیں، مگر ہمارے گیلانی صاحب ہیں کہ چین یمں فرماتے ہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جی
    ہن ایتھے کوئی مرے

  • کاشف نصیر

    Monday، 2 April 2012 بوقت 1:27 am

    یقین جانئے کہ آپ کے اس پر اثر مضمون کو پڑھ کر بھی میں باوجود کوشش کے گریہ گری کرنے اور نوحہ کرنے کی قوت کی قوت اور طاقت محسوس نہیں کرپارہا ہوں اور وجہ یہ ہے کہ بچپن سے لے کر آج تک ہم اپنے اس شہر پر اتنا رولئے ہیں کہ اب تو انکھ سے آنسو اور زبان سے نوحے کے لئے الفاظ نہیں نکلتے۔

    دعا ہے کہ اے خدرا اس شہر کو انیس سو چھیاسی سے پہلے والی پر امن حیثت میں بحال کردے اور انیس سو چھیاسی سے پہلے والے پر امن حالات پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام انیس سو چھیاسی اور اسکے بعد آنے والی مضر تبدیلی کی وجوہات ختم کردیں، یعنی سادہ ترین الفاظ میں یہ کہ لوگ ایم کیو ایم اور اے این پی کو مسترد کریں۔ اور اگر اہلیان کراچی ایسا نہیں کریں گے تو میں دعوے سے کہتا ہوں یہ آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Monday، 2 April 2012 بوقت 2:46 pm

    بہت عمدہ اور سچی تصویر کشی کی ہے ۔۔۔۔
    ایم کیو ایم ایک ردعمل ہے ایک عمل کا۔۔۔ جب تک یہ عمل ختم نہیں ہوگا ایم کیو ایم ختم نہیں ہوگی۔
    کاش بلاگستان میں لوگوں کو یہ بات سمجھ آجائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *