توجہ فرمائیے۔۔۔

موضوع: پاکستانیت

میرے سامنے اس وقت حزب التحریر کا ایک پمفلٹ پڑا ہے۔ ہماری مسجد کے باہر ہر جمعہ کو کوئی نہ کوئی خلافتی ایک اے فور سائز کے کاغذ میں اردو میں پرنٹ کیا ہوا مواد مجھے تھمادیتا ہے۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ میں اس کے ہاتھ سے پمفلٹ لینے سے پہلے ہی فرفر سنا سکتا ہوں کہ اس میں کیا لکھا ہوگا۔ میرے ہاتھ میں موجود پمفلٹ کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے ہے کہ “مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا”۔ اس کے بعد جمہوریت کو صلواتیں سناکر من کو ہلکا کیا گیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ نظام کو برطانوی راج کا تسلسل گردانا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ بھی کہ اقتدار علیٗ اسمبلیوں میں بیٹھے افراد کے پاس ہے۔

اگر یہ لکیر کے فقیر آئین پاکستان کی چند شقوں کا مطالعہ ہی کرلیتے تو انہیں یہ صاف صاف لکھا نظر آجاتا کہ اقتدار اعلیٗ کا مالک اللہ رب العزت ہی ہے۔ اور پاکستان کے عوام اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اقتدار کسی کو سونپتے ہیں تاکہ وہ اللہ اور اسکے رسول کے متعین کی ہوئی حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی کرسکے۔ ساتھ ہی یہ بھی صاف صاف درج ہے کہ “قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون سازی اس ملک میں نہیں ہوسکتی”۔

پمفلٹ کے مندرجات پر ذرا اور نظر ڈالیں تو یہ اس بات کا دعوی بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت قیادت کا کوئی بحران نہیں ہے۔ حزب التحریر کی قیادت اور اسی طرح کی دیگر مجاہدیں خلافت کے قیام اور اسکی قیادت کے لیے موجود ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی دعویٗ کرتے ہیں کہ ہم نے اس خلافت کو چلانے کے لیے 191 دفعات پر مشتمل آئین بھی تیار کیا ہے۔

191 دفعات والے آئین کی تیاری کا سن کر ہم نے ہاتھ اپنے سر پر مارا کہ کمبختو تمہیں ہمارے آئین سے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور خود آئین بنائے بیٹھے ہو؟ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین بہترین اسلامی ہے اور مسئلہ صرف دستور کو نافذ عمل کرنے اور اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے لیکن یہ فاشسٹ ذہنیت کے افراد پہلے سے موجود ہر انفرا اسٹکچر کو تباہ و برباد کرکے نئے سرے سے نظام کو استوار کرنا چاہتے ہیں چاہے اہل وطن کو اسکی کیسی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

ہمہ وقت ہمارے انتخابی نظام اور ساتھ ہی آئین کو کوستے ہیں اور صلواتوں سے نوازتے ہیں لیکن بھائی آپ کے خلیفہ کے انتخاب کے لیے کیا طریقہ کار وضع کیا جائے گا؟ کوئی نہ کوئی دستور بنایا جائیگا ہی نا؟ یا خلیفہ آسمان سے اُترے گا؟

اقبال کا یہ شعر:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ان خلافت کے متوالوں کو بہت پسند ہے جسے یہ بطور سند سناتے پھرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ خلیفہ یا حکمران کا انتخاب صرف صائب الرائے اور باکردار افراد ہی کرسکتے ہیں۔ عام عوام کو اس سے محروم کردیا جانا چاہیے یعنی آمریت کی ایک نئی قسم۔ اس پر بحث کرنے سے پہلے چند قرآنی آیات پر ایک نظر ڈال لینا مفید ثابت ہوسکتا ہے:
ہر وہ قوم جسے زمین کے کسی حصہ میں اقتدار حاصل ہوتا ہے وہ دراصل وہاں خدا کی خلیفہ ہوتی ہے:

اے قوم عاد یاد کرو جبکہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا (الاعراف 69)۔
اور اے قوم ثمود یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں عاد کے بعد خلیفہ بنایا (الاعراف 74)۔
اے بنی اسرائیل قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کرے اور زمین میں تم کو خلیفہ بنائے اور پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو (الاعراف 129)۔
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ وہ میری بندگی کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ (النور 55)۔

خلافت و ملوکیت میں اجتمائی خلافت پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ:

اس جائز اور صحیح نوعیت کی خلاف کا حامل کوئی ایک شخص یا خاندان یا طبقہ نہیں ہوتا بلکہ وہ جماعت (کمیونٹی) اپنی مجموعی حیثیت میں ہوتی ہے جس نے مذکورہ بالا اصولوں کو تسلیم کرکے اپنی ریاست قائم کی ہو۔ سورۃ نور کی آیت 55 کے الفاظ “لیستخلفننّم فی الارض” اس معاملہ میں صریح ہیں۔ اس فقرے کی رو سے اہل ایمان جماعت کا ہر فرد خلافت میں برابر کا حصہ دار ہے۔ کسی شخص یا طبقہ کو عام مومنین کے اختیارات خلافت سلب کرکے انہیں اپنے اندر مرکوز کرلینے کا حق نہیں ہے نہ کوئی شخص یا طبقہ اپنے حق میں خدا کی خصوصی خلافت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ یہی چیز اسلامی خلافت کو ملوکیت، طبقاتی حکومت اور مذہبی پیشوائوں کی حکومت سے الگ کرکے اسے جمہوریت کے رخ پر موڑتی ہے۔ لیکن اس میں اور مغربی تصور جمہوریت میں اصولی فرق یہ ہے کہ مغربی تصور جمہوریت عوامی حاکمیت کے اصولوں پر قائم ہوتی ہے اور اس کے برعکس اسلام کی جمہوری خلافت میں خود عوام خدا کی حاکمیت تسلیم کرکے اپنے اختیارات کو برضاورغبت قانون خداوندی کی حدود میں محدود کرلیتے ہیں۔ (خلافت و ملوکیت)۔

قرآن کی ان آیات اور ساتھ ہی یہ بات کہ اہل ایمان جماعت کا ہر فرد خلافت میں برابر کا حصہ دار ہے کے باوجود کوئی کیونکر عام افراد کے حقوق کو سلب کرکے بزعم خود چند مخصوص صائب الرائے افراد کی سفارش پر کسی کو خلافت یا حکمرانی سونپ سکتے ہیں؟
پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام پر ایک نظر ڈالیں تو پارلمنٹ کو مجلس شوریٗ کا نام دیدیں جو کہ عام افراد کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوں۔ آخر کو خلافت میں بھی تو ایک مجلس شوری کی ضرورت ہوتی ہے نا؟ اور صائب الرائے اور علماء کا اتناہی شوق ہے تو انہیں مجلس شوری سے اوپر سینٹ جسے شوری نگہبان کا نام دیدیں اور انہیں اس میں نامزد کروالیں کہ جو قانون سازی مجلس شوری کرے وہ ان ایکسپرٹ علماء کی منظوری کے بعد ہی حکمران یا خلفیہ تک پہنچے۔ الیکشن کمیشن معذرت چونکہ یہ کفر پر مبنی مغربی جمہوری اصطلاح ہے تو اس کے بجائے “مکتب انتخاب” بنالیں اور انتخاب کے کڑے معیارات متعین کرکے ان پر سختی سے عملدارامد کروائیں۔ بھئی خلیفہ کے انتخاب کے لیے بھی تو کوئی طریقہ اور ادارہ تو ہوگا ہی نا؟ اور ہاں تاحیات حکمران نہیں چاہیے۔ آئین میں چار سے پانچ سال کی معیاد خلیفہ کے لیے معتین کردیں۔ لیجیے ساری چخ چخ ختم ہوئی۔ لیکن فاشسٹ نظریے کے حامی اسے ماننے پر راضی نہ ہونگے۔

 

سب سے اہم بات یہ کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ موجودہ نظام کی جگہ خلافت کا نظام کیسے قائم ہوگا تو انکے بقول “ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ کفر پر مبنی جمہوری نظام کے خلاف ہماری آواز میں اپنی آواز شامل کریں اور اس نظام کا انکار کریں۔
ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خلافت راشدہ کے قیام کے لیے اپنی آواز کو توانا کریں۔
ہماری تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ طلب کریں۔ اور اس نصرۃ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ افواج پاکستان میں اپنے ہمدرد پیدا کریں اور انہیں خلافت کے قیام کے لیے بغاوت پر تیار کریں۔
اب اس پر اور کیا کہیے کہ الفتنة اشد من القتل
جب کہ دوسرے نام نہاد خلافتیے ٹی ٹی پی سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف جہاد، سڑکوں چوراہوں پہ بم دھماکوں، اور گولی باری کی آڑ میں نظام خلافت رائج کریں گے۔
اناللہ و انا الیہ راجعون۔ یعنی میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔۔۔ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔

 

محترم مجاہدین اسلام آپ سے گذارش ہے کہ اپنا یہ گھسا پٹا منجن ہمیں مزید نہ بیچیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئین پاکستان عین اسلامی ہے اور اگر اس کا موئثر نفاذ ہو جائے اور ادارے مضبوط ہوجائیں اور اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں تو یقیناً ایک اسلامی فلاحی مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ پھر ہم بتدریج تبدیلی کی طرف بڑھیں گے اور پھر ایک وقت آئیگا کہ ہمارا حکمران بھی اس قابل ہوجائیگا کہ اسے خلیفہ کا ٹیگ بھی لگادیں۔ شکریہ۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

توجہ فرمائیے۔۔۔ پر اب تک 4 تبصرے

  • جواد احمد خان

    Saturday، 27 April 2013 بوقت 1:17 am

    ارے وقار بھائی!
    زمانوں کے بعد انٹری دی بھی تو خلافت پر….
    8) 😀 🙂

  • اسد حبیب

    Saturday، 27 April 2013 بوقت 9:48 am

    آپ کی یہ بات درست ہے کہ مسئلہ آئین سے زیادہ اس کے عملدرآمد میں ہے. مگر ہمارا آئین عین اسلامی ہے؟ مجھے اس سے سخت اختلاف ہے. میں قانون کا طالب علم نہیں ہوں . جس بے دردی سے کسی بھی آئینی رکاوٹ کے بغیر بینک سودی قرضے اور دوسری سکیمیں بناتے ہیں. آئین اگر عین اسلامی ہے تو یہ سب کیوں دھڑلے سے ہو رہا ہے.

  • مہتاب عزیز

    Saturday، 27 April 2013 بوقت 5:45 pm

    برادر محترم آپ کا ایک جملہ ہ ” ہمارا آئین عین اسلامی ہے ” قابل گرفت ہے۔ بھائی یہ تو سخت زیادتی ہے ہمارا آئین ایک ملغوبہ ہے اسلام اور سیکولرزم کا۔ اس میں اسلام کے حوالے سے بہت سی شقیں مستقبل کے صیغے میں بیان کی گئی ہیں۔
    اسی آئین کے تحت ملک میں سودی نظام جاری ساری ہے۔ جس میں بہت سے افراد کو قانونی استشنیٰ حاصل ہے۔ محترم ایسے آئیں کو عین اسلامی کہنا بہت بڑی غلطی ہے جو شاھد اپ سے جوشِ ضزبات میں سر ذد ہو گئی ہے ۔
    امید ہے آپ اصلاح فرمائیں گے۔

  • کاشف نصیر

    Saturday، 27 April 2013 بوقت 8:45 pm

    ارے اتنا کیوں غصہ ہورہے ہو، انہوں اپنے طریقے سے کام کرنے دو اور تم اپنے طریقے سے کام کرو۔ منزل تو بھئی ایک ہی نا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *