لون سروائیور

موضوع: ابلاغ

لون سروائیور Lone Survivorلون سروائیور (اکیلا زندہ بچ جانے والا) ہالی ووڈ کی نئی فلم جو بقول انکے افغانستان میں کئے گئے آپریشن ریڈ ونگ کے دوران پیش آنے والے حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔ کہانی دو طالبان کمانڈرز کو نشانہ بنانے کی ایک کاروائی جو کہ بعد میں زندہ رہنے کی جنگ کے گرد ہی گھومتی ہے۔

 

فلم ڈائریکٹر پیٹر برگ ہیں۔ موصوف 2007 میں کچھ اسی طرح کی فلم “دی کنگڈم” بناچکے ہیں جو مئی 2003 میں خبار رہائشی کمپلیکس، ریاض میں امریکیوں پر ہوئے حملے اور بعد کے واقعات پر مبنی ہے۔ لون سروائیور میں مرکزی کردار معروف اداکار مارک ویلبرگ نے ادا کیا ہے جو اس سے پہلے “پرفیکٹ اسٹارم” اور “شورٹر” جیسی بہترین فلمیں کرچکے ہیں۔

فلم دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے شجاعت و بہادری، بیباکی و ثابت قدمی، محبت و ایثار اور رحمدلی تو ان امریکیوں کا ہی خاصہ ہے۔ پورا مشن تین چرواہوں کی وجہ سے ملتوی کردیتے ہیں مطلب کہ غیر مسلح افراد کو نشانہ نہیں بتاتے اور اسی وجہ سے خود اپنی زندگیاں داؤ پر لگادیتے ہیں۔ (ہنسنا منع ہے)۔

دوسری طرف طالبان۔۔۔ بس کچھ مت پوچھیئے۔۔۔
آخری بچے میرین کو پناہ دینے والا افغان دیہاتی بھی ف٭ طالبان کا نعرہ اس تواتر سے لگاتا ہے کہ خود امریکی شرماجائیں۔ اور پھر انکی مہمان نوازی اور امریکی محبت کے کیا کہنے۔۔۔

فلم کی کہانی کچھ اس انداز سے آگے بڑھتی ہے کہ دیکھنے والے کی ہمدردیاں غیرارادی طور پر امریکی میرینز کے ساتھ ہوجاتی ہیں۔ یعنی کے غضب کی پروپگینڈہ فلم ہے۔ فلم ڈائرکٹر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اس طرح کی فلمیں دنیا بھر میں امریکی بدمعاشیوں کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس سے پہلے ہالی ووڈ میں جنگ عظیم دوم میں لڑنے والے امریکی فوجیوں پر “سیونگ پرائیویٹ رائن” اور صومالیہ میں موغادیشو کی لڑائی پر “بلیک ہاک ڈاؤن” جیسی شاہکار فلمیں بن چکی ہیں۔

بحرحال میں اس افغان دیہاتی بچے کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو مارک ویلبرگ کے رخصت ہوتے وقت اس کے سینے سے لگ کر بڑے پیار سے اسے دُعا دیتا ہے “خدائے پامان ماما”۔ کیا بچے اور اس کے خاندان کو امریکی ویزہ مل چکا ہے یا وہ اب تک افغانستان میں طالبان کے رحم و کرم پر ہیں؟  😀

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

لون سروائیور پر اب تک 11 تبصرے

  • Muhammad Asad

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 9:36 pm

    شکر یار کسی نے تو فیس بک اسٹیٹس پر بلاگ کو ترجیح دی 😀

  • fazal hadi hassan

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 10:46 pm

    I watched last night, and totally agreed with Waqar Azam

  • Fazal Hadi Hassan

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 10:50 pm

    بالکل درست لکھا آپ نے، مجھے بھی ایسا ہی لگا کہ مارک ویلبرگ تو بڑا رحیم یو ایس ملٹری آفیسر ہے۔۔۔
    لیکن فلم کے آخری حصے میں اکیلے بچ جانے والے کی خاطر کتنا قتلِ عام کیا۔۔۔

  • جواد احمد خان

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 4:55 am

    میں نے بھی ایک فلم بنانے کا سوچا تھا اور ایک اچھا سا نام بھی سوچ رکھا تھا ” سولجرز ان ڈائپرز” مگر کیا کریں سنا ہے پاکستان آرمی کے جرنلز امریکہ کے خلاف بات سنتے ہی
    شدید اشتعال میں آجاتے ہیں۔۔۔۔ مسنگ پرسن کی لسٹ میں میرا نام نا آجائے ۔۔۔

  • خورشید آزاد

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 5:57 am

    اسی پس منظر میں اب ایک لمحے کے لئے خلوص نیت سے سوچیں کہ مندرسوں میں تاریخ کے نام پر جو کچھ پڑھایا جاتاہے کیا وہ بھی پروپیگنڈہ کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔۔۔۔۔ہم حملہ آور ہونے والے جنگجو سپہ سالاروں کو اسلام کے ہیرو بنا کرپیش کیا جاتا ہے۔۔۔ نسیم حجازی کے ناولوں کو اسلام کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔ لون سروائر، زیرو ڈارک تھرٹی، بلیک ھواک ڈاؤن وغیرہ جیسی فلموں کی کہانیوں اور اے حمیدوغیرہ کے کشمیر کے پس منظر میں لکھے گئے ناول کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔۔۔پاک فوج کے لئے پروپیگنڈہ کرنے والے ناول “بی آر بی بہتی رہے گی” ایک شاہکار ناول ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈرامے الفا براوو چارلی، انگار وادی، اور اب حالیہ فلم واٰر بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ان ناولوں اور فلموں کی کہانیوں سے کوسوں دور ہوتی ہے۔

    • محمدوقار اعظم

      Sunday، 19 January 2014 بوقت 1:55 pm

      جناب اسکولوں اور مدرسوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس میں کیا خرابی ہے؟ دنیا کی تمام قومیں اور ممالک اپنا نصاب کچھ اسی انداز میں ترتیب دیتی ہیں کہ جس سے اپنے ملک و قوم پر فخر اور حُب الوطنی کے جذبات پیدا ہوں۔ آپکا کیا خیال ہے کہ معصوم ذہنوں کو شروع سے یہ پڑھایا جائے کہ پہلی کشمیر جنگ ہم نے شروع کی، 65 کی جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، بس عزت رہ گئی، جنگ بندی ہوگئی۔ 71 میں ہم بری طرح ہار گئے وغیرہ وغیرہ؟

      بھائی صاحب دنیا بھر میں کہیں ایسا نہیں ہوتا ہے، کیا برطانیہ اپنے نصاب میں یہ پڑھاتا ہے کہ ہم دو سو سال تک سونے کی چڑیا ہندوستان کو لوٹتے رہے، افیون نہ بیچنے دینے کی پاداش میں ہم نے چینیوں پر بدترین جنگ مسلط کی اور صدیوں اس کے کئی شہروں پر قبضہ جمائے رکھا جیسے ہانگ کانگ، مکاؤ وغیرہ۔۔۔

      کیا جاپانی اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران انہوں نے ویت نام، تائیوان، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں کیا قیامتیں ڈھائیں اور کتنے مظالم کیے؟
      باقی آپ کی کچھ باتوں سے جزوی اتفاق ہے۔۔۔ 🙂

      • خورشید آزاد

        Sunday، 19 January 2014 بوقت 6:52 am

        آپ نے جن اقوام کی مثالیں دی ہیں وہاں بچوں کے ذہنوں پر کسی بھی زاویّے سے سے اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں ہوتی ہے۔ مدرسوں میں چھوٹے بچوں کو 65ء اور 71ء میں ہم نے جو کرتوت کیئے ہیں اگر وہ نہیں بتانے تو غلط اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔

        حال ہی میں ہانگ کانگ کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ پرائمری اور سیکنڈری جماعت کے طالب علموں میں اپنے وطن سے حب الوطنی میں اضافے کی غرض سے چین کے بارے “تاریخ چین” کے عنوان سے نیا مضمون نصاب میں شامل کیا جائے گا جس میں چین نے پچھلے پچاس سال میں جو کارنامے اور کامیابیاں حاصل کی ہیں صرف ان کا ذکر ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبے کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، یونیورسٹی اور کالج کے طالب علم بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا یہ چین کے بارے میں معصوم بچوں کے ذہنوں کو برین واش کرنے کی کوشش ہے۔۔۔۔ہانگ کانگ کے سول سوسائٹی کی طرف سے اتنے شدید مخالفت کے نتیجے میں حکومت نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

        • محمدوقار اعظم

          Sunday، 19 January 2014 بوقت 10:51 am

          حضرت ہانگ کانگ والے شاید اپنے سابق آقاؤں کی یاد دل سے محو نہ کرسکے اس لیے چینی تاریخ ہضم نہیں ہورہی ہو شاید لیکن چین اپنی تاریخ کو کیسے نئی نسل کو منتقل کررہے ہیں وہ یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ تو جنگ افیون تک کے بارے میں برطانیہ سے نفرت اپنی نئی نسلوں کو منتقل کررہے ہیں۔ جاپانی نظام تعلم کے بارے میں یاسر جاپانی صاحب بہت کچھ بتاسکتے ہیں۔ رہی بات برطانیہ و امریکہ کی تو کچھ عرصہ پہلے میں نے “میک گرا ہل پبلشک کمپنی” کی شایع کردہ “دی اَمیرِیکن جرنی، بلڈنگ اے نیشن” کی ورق گردانی کی جو کہ امریکہ میں ہائی اسکول کے نصاب کا حصہ ہے اور دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پہلی انگلش و ہسپانوی آبادکاریوں بابت بہت کچھ ہے لیکن مقامی ریڈ انڈین کا استحصال و قتل عام کا ذکر نہیں۔ غلاموں کی تجارت، نسلی امتیاز وغیرہ کا کوئی خاص مسئلہ بھی امریکہ کو کبھی نہیں رہا امریکہ میں۔ ہیں جی۔۔۔

          بحرحال جی آپ اپنے بچوں کو غلط اور جھوٹ پر مبنی پروپگینڈا کا شکار نہ ہونے دیں ، انہیں سچائی پر مبنی رچرڈ لائن ہارٹ کی بہادری کے قصے اور صلاح الدین ایوبی کی خونریزی کی داستانیں پڑھائیں۔ لیکن ہمیں تو نصاب تعلیم کو کچھ اور بہتر بنانا ہے تاریخ کے حوالے سے۔ 🙂

          • خورشید آزاد

            Sunday، 19 January 2014 بوقت 5:42 pm

            یہ تو ایسے ہی بات سے بات نکل گئی ورنہ مجھے پاگل کتّے نے کاٹا ہے کہ میں ایک کٹر جماعتی سے بحث کروں اور وہ بھی اسلامی تاریخ پر۔۔۔۔اب دیکھیں میری ہانگ کانگ والی مثال کو آپ نے کس طرح بالکل الٹ مطلب نکال لیا۔

            بہرحال آخری بات اسی پر تمام کروں کروں گا کہ عربی، ترک، غزنوی وغیرہ نہ تو میرے ہیرو ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی تاریخ میری تاریخ ہوسکتی ہے۔

            جہاں تک میرے بچوں کا تعلق ہے خدا نہ کرے وہ ذہنی طور پر اتنے کمزور ہوں کہ وہ میرے یا کسی کے پروپیگنڈہ کو تاریخ سمجھیں۔

          • محمدوقار اعظم

            Sunday، 19 January 2014 بوقت 10:47 pm

            خیر مجھے تو کسی پاگل کُتے نے نہیں کاٹا لیکن پھر بھی غلطی ہوگئی کہ کسی دہریے سے بحث کروں کہ نصاب تعلیم میں کیا خرابی ہے۔ اب دیکھیں ہمارا ایک چھوٹا سا مذاق جماعتی ہونے کے طعنے پر منتج ہوا ہے۔

            قصہ مختصر یہ کہ عربی ہوں فارسی ہوں یا افریقی ہی کیوں نہ ہوں، ہمارے ہیرو بھی ہیں اور انکی تاریخ بھی ہماری تاریخ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بقول اقبال “قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں”۔ہمارے تو سب سے بڑے ہیرو ہی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
            والسلام۔۔۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Sunday، 19 January 2014 بوقت 11:46 am

    دیکھیں جی ، ہر ملک اپنی عوام کو حب الوطنی اور معاشرے کو مضبوط رکھنے کیلئے۔
    ہیرو تیار کرکے پڑھاتا ہے اور نئی نسل کی برین واشنگ کرتا ہے۔
    جاپان جب مفتوح ہوا تھا تو “شکست خوردگی” کے معاہدے میں اپنی ایک شرط منظور کروانے کیلئے جان توڑ کوشش کر کے کامیاب ہوا تھا۔
    وہ شرط جاپانی زبان کو ذریعہ تعلیم کیلئے لازمی رکھنا تھا۔ اس میں جدید و قدیم تاریخی علوم سے لیکر سائینسی علوم بھی شامل ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ آج جاپان کا پی ایچ ڈی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شاکٹر بھی انگلش بولنے میں جھجھکتا ہے اور اپنی فیلڈ میں لکھنے میں اسے کو ئی پریشانی نہیں ہوتی۔لیکن اس کے علاوہ یہ اپنی زبان کو ہی استعمال کرتے ہیں۔
    لیکن تعلیمی نصاب ہ سے امریکہ سے منظور شدہ ہی ہوتا ہے۔ تاریخی نصاب چین، کوریا ، تائیوان وغیرہ وغیرہ کے “جذبات” کا خیال رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔اگر کو ئی جوشیلا جاپانی ڈنڈی مار کر نصاب میں “اپنی تاریخ” یا “مخالفین” کے جذبات مجروح کرنے والی تاریخ لکھ دے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے۔چین اور کوریا وغیرہ میں جلوس نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی امریکی لابی کا متحرک ہونا شاید سب کو یاد ہو۔اب بھی یہ لابی اپنے مشن پر لگی ہوئی ہے۔یعنی کسی طرح نصاب اپنا پڑھا کر نئی نسل کو اماں ابا کے بچوں سے ممی ڈیڈی بچہ بنا دیا جائے۔اور اس مشن میں سب سے بڑی رکاؤٹ “مولوی” ہی بنا ہوا ہے۔
    اس وقت جاپانی قوم کی ذہنی حالت یہ ہے کہ “کرسمس ڈے” انتہائی جوش سے منایا جاتا ہے۔لیکن یہ “گرل اور بوائے فرینڈز” کی “سرگرمیوں” کیلئے ہوتا ہے ۔کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کرسمس ایو یا کرسمس ڈے ہے کیا شے۔
    پاکستانی بھی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کے الفاظ کے عادی ہو چکے ہیں ،کچھ عشروں کی بات ہے ،بچے بھی بغیر باپ کے پالنا کوئی معیوب بات نہیں رہے گی۔
    میں جاپان کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ان کے ہیرو صرف اور صرف امریکن ہیں اور وہ بھی صرف امریکی گورے۔امریکی گوروں کے سامنے جاپان کا امیر سے امیرترین شخص ہو یا اعلی ترین تعلیم یافتہ شخص کسی “بندر” کی طرح حرکات کرتا ہے کہ دیکھ کر ہنسی آجاتی ہے۔
    بحرحال ہمارے ملک کی تعلیم سطح بے شک حد سے زیادہ بری حالت میں ہے لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ قلیل تعداد میں ہی سہی پاکستانی دیار غیر میں انتہائی مخدوش حالات میں بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ اس کی کوئی وجہ تو ہو گی ہی؟
    میرے خیال میں ہماری جو بنیادی تعلیم جس کا سارا دارومدار “مذہب” پر ہے یہی تعلیم ہمت و محنت اور مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔میں مغرب کی ترقی سے قطعی مرعوب نہیں ہوں۔اور میرے خیال میں اگر پاکستانی عوام کو صرف دس سال امن و امان اور معاشی فراغت کے ملیں تو یہی “اجڈ ” ،مار دھاڑ” کی عادی عوام دنیا میں اپنے آپ کو منوا کر دکھائے گی۔
    میری نظر میں پاکستانیوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہے اور وجہ صرف اور صرف ملکی حالات کی وجہ سے ہے۔قابلیت ذہانت میں ہمارے مدارس کا تعلیم یافتہ بچہ بھی ذہین ترین ہوتا ہے۔ بس حالات نے اسے اتنے جھٹکے دیئے ہوئے ہوتے ہیں کہ بیچارہ ایک دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔اے تے بڑی لمبی لکھاوت ہوگئی؛ڈ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *