سرد جہنم سے فرار

موضوع: متفرقات

asfaras-thewayback

پچھلے کچھ دنوں میں جب وقت میسر آیا سروائیول (بقا) کی جدوجہد پر مبنی فلمیں دیکھ کر اسے گذرار جن میں سے دو بہت پسند آئیں۔ “ایز فار ایز مائی فیٹ وِل کیری می” اور “دی وے بیک”۔ مجھے حیرت ہے کہ سابق سوویت یونین کے جبری مشقتی کیمپوں کا موازنہ نازی جرمنی کے کنسنٹریشن کیمپس سے کیوں نہیں کیا جاتا۔ قفقاز کی مسلم ریاستوں پر قبضے کے بعد تو انکی پوری پوری آبادی کو بغاوت کے جرم میں اپنے علاقوں سے بیدخل کرکے سائبریا کے سرد جہنم میں جبری بیگار کے لیے در حقیقت قید کرلیا گیا۔

فلم ریویو کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں سویوت دور کے جبر و استبداد سے پردہ اٹھائی دو کتابوں کا بھی ذکر کرتا چلو جو عرصہ پہلے نظر سے گذری۔ اسلامک پبلیکیشنز کی شائع کردہ خلیل احمد حامدی کی کتاب “سُرخ اندھیروں میں” جو سویت دور میں وسطی ایشیائی اور قفقاز کی مسلم ریاستوں پر سوویت جبر و استبداد سے پردہ اٹھاتی ہے ساتھ ہی انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی شایع کردہ “بہتے لہو کی کہانی” افغانستان پر قبضے کے بعد کے دور کے واقعات پر مبنی ہے۔

ایز فار ایز مائی فیٹ ول کیری می As Far As My Feet Will Carry Me
دی وے بیک The Way Back
حقیقی واقعات پر مبنی دو فلمیں ہیں جن کے مرکزی کرداروں کو جاسوسی کے جھوٹے الزام یا انقلاب کی مخالفت کے جرم میں 20 سال یا اس سے زائد مشقت کی سزائیں دی گئیں۔ اور انہیں سائبیریا کے دور دراز علاقوں میں معدنیات کی کانوں میں یا جنگلوں میں جبری مشقت کے لیے بھیج دیا گیا۔ نئے قیدیوں کی آمد پر کیمپ کا انچارج جو تقریر کرتا وہ کچھ یوں ہوتی کہ:
یہاں کہیں کوئی مضبوط دیور نہیں ہے، ایک کروڑ تیس لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط پورا سائیبریا ہی تمہاری جیل ہے اور قدرت (موسم کی سختی) تمہاری جیلر اور یہ جیلر رحم بالکل نہیں کرتی۔ اگر تم سخت ترین موسم سے بچ بھی گئے تو یہ یار رکھو کہ ہر بھگوڑے کے سر کی قیمت مقرر ہے لہذا مقامی افراد سے تم نہیں بچ پاؤ گے۔

اوّل الذکر کا مرکزی کردار شمال مشرقی سائبیریا میں امریکی ریاست الاسکا سے متصل بیئرنگ اسٹریٹ میں کسی جگہ قائم جبری مشقتی کیمپ سے فرار ہوکر جنوب مغرب کی طرف پورے سائبیریا کو پیدل پار کرکے موجودہ وسطی ایشائی ممالک سے ہوتا ہوا ایران میں داخل ہوکر امان میں آیا۔

جبکہ موخر الذکر کے مرکزی کردار وسطی سائبیریا میں قائم کیمپ سے فرار ہوکر جنوب میں میں جھیل بائیکال کے ساتھ ساتھ پیدل سفر کرتے ہوئے آزادی کی آس لیے پہلے منگولیا میں داخل ہوئے جہاں پہلے ہی سُرخ اندھیروں کا راج تھا، پھر چین و تبت سے ہوتے ہوئے ہمالیہ کو پیدل پار کرکے ہندوستان میں پناہ گزین ہوئے۔ اس سفر میں انکے کئی ساتھی موسم کی سختیوں کو نہ جھیل پائے اور راہی ملک عدم ہوئے۔
اپنی بقاء کے لیے جدوجہد، اہل خانہ سے دوبارہ مل سکنے کی امید، آس و یاس و بے یقینی کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال لیے اچھی فلمیں ہیں۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

سرد جہنم سے فرار پر اب تک 2 تبصرے

  • Haroon Azam

    Thursday، 2 October 2014 بوقت 8:03 pm

    خلیل احمد حامدی صاحب کی کتاب کا آن لائن کہیں لنک مل سکتا ہے؟

  • Waqar Azam

    Thursday، 2 October 2014 بوقت 8:58 pm

    میں نے بھی آن لائن ڈھونڈا تھا لیکن نہیں مل سکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *