واہگہ کی بے نیازی

موضوع: مضامین
wahgah01

دائیں سے بائیں: محمد عبداللہ، اسد اسلم، وقاراعظم اور کاشف نصیر۔ فوٹو کریڈٹ: ایم بلال

جماعتِ اسلامی کے اجتماع عام کے دوسرے دن محمد بلال محمود نے ہمیں واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اجتماع میں عصر سے عشاء کے وقفے کے دوران تین ہم سفر جن میں محمد اسد، کاشف نصیر اور راقم الحروف شامل ہیں شالامار باغ کے اسٹاپ پر انکے منتظر تھے۔ کچھ ہی دیر میں بلال صاحب عظیم نوجوان نقاد و بلاگر محمد عبداللہ کے ساتھ وارد ہوئے۔ بھلا ہو بلال بھائی کا کہ انہوں نے ہمیں انکے تعارف سے اس وقت تک بے خبر رکھا جب تک کہ ہم سب گاڑی میں نہ بیٹھ گئے۔ اور گاڑی میں چونکہ درمیانی فاصلہ انتہائی کم ہوتا ہے اور ہم اپنی دفاعی کمزوریوں سے بھی خوب واقف تھے لہٰذا محب و یگانگت کی فضا قائم رکھنے میں ہی عافیت جانی 😉

لاہور سے نکل کر جی ٹی روڈ پر واہگہ کی طرف جاتے ہوئے ماحول بہت خوشگوار تھا۔ راستے میں نئی تعمیر ہوتی بستیاں اور کھیت کھلیانوں کے نظاروں کے ساتھ ساتھ خوشگپیاں بھی جاری تھیں۔ علامہ صاحب نے ہمیں بتایا کہ جب وہ پچھلی بار آئے تھے تو انہیں واہگہ میں داخل ہونے نہیں دیا گیا تھا اور واپس کردیا گیا تھا۔ تب ہی ہمارے ذہن میں آیا کہ اجتماع عام سے شالامار کے اسٹاپ پر چنگچی سے سفر کرتے ہوئے ہمارے بیٹھنے کے بعد کوئی ایک مسافر بھی چنگچی میں سوار نہیں ہوا۔ ڈرائیور ہر اسٹاپ پر حسرت و یاس کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا اس امید پر آوازیں لگاتا کہ شاید کوئی بھولا بھٹکا مسافر اس کی چنگچی کو شرفِ سواری بخش دے لیکن امید بر نہیں آتی۔  کہیں یہ علامہ کاشف نصیر کی کرامت تو نہیں؟ اور جب یہ بات ہم نے اپنے ہمسفروں سے گوش گذار کی تو یکدم پوری گاڑی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ علامہ صاحب کا ردِعمل کچھ یوں تھا کہ جی ہاں پہلی اور دوسری جنگِ عظیم بھی ہماری ہی وجہ سے ہوئی تھی۔ عراق و افغانستان پر حملے بھی ہماری ہی کرامت تھے وغیرہ وغیرہ بحرحال کوئی انکے دالائل سے متفق نہ ہوسکا۔

کچھ ہی دیر میں کارواں واہگہ پہنچ گیا اور پہلے سکیورٹی چیک پوائنٹ سے گذر کر جیسے ہی ہم پریڈ کے مقام کی طرف بڑھے تو سامنے کھڑے رینجرز اہلکاروں نے ہاتھ کے اشارے سے واپس مڑنے کو کہا۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ کہیں علامہ صاحب کی کرامت کام تو نہیں کرگئی؟ 😉 اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ معلوم ہوا کہ رش کے پیش نظر عوام الناس کو پریڈ دیکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ ہاں اگر آپ کوئی وی آئی پی ہیں تو آپ باآسانی آگے جاسکتے ہیں۔

تحریک اسلامی سے وابستہ افراد بھی وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں وہاں پہنچ چکے تھے لیکن ان سب کو روک دیا گیا۔ ہم بھی گاڑی ایک طرف پارک کرکے صورتحال کا جائزہ لینے نکلے اور فوجی یا نیم فوجی دماغ کی کارستانیاں دیکھتے رہے۔ شدید نخوت و حقارت، کریلا اوپر سے نیم چڑھا لہجہ اور بدتمیزیاں ان سب نے مجھے شدید احساس زیاں میں مبتلا کردیا کہ میرے اور اہلیان پاکستان کے ٹیکسوں کے پیسے کن پر ضایع ہورہے ہیں۔ 🙁

افسوس اس بات کا بھی تھا کہ اتنا وقت ضایع ہوگیا۔ اگر پہلے سے ہی ٹکٹیں بک کروانے کا کوئی طریقہ کار ہوتا تو ہمیں اتنی کوفت سے نہ گزرنا پڑتا۔ بحرحال واہگہ کی اس بے نیازی پر مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق واپسی کا رخت سفر باندھا کہ ہم جانتے تھے کہ ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے لیکن اپنی ریاست شاید سوتیلے باپ سے بھی گئی گذری ہے لہذا کُھنے سیکوانے سے بہتر ہے لوٹ کے بدھو گھر کو جائیں 😛

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

واہگہ کی بے نیازی پر اب تک 17 تبصرے

  • مہتاب عزیز

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 10:48 pm

    ہمیں چھوڑ کر گئے تھے نا، دیکھ لیا نتیجہ 😉

  • اویس اسلم مرزا

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:02 pm

    مجھے اب پتا چلا کہ یہ دائیں سے دوسرے نمبر پر اسد اسلم ہیں ، ملاقات بھی ہوئی لیکن شناسائی نہ ہونے کی وجہ سے “ملاقات” نہ ہو سکی

  • محمد اسد اسلم

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:06 pm

    اچھا ہی ہوا 😀 اجنبی رہ کر لوگوں سے ملنے اور انہیں جاننے کا اپنا ہی لطف ہے 😉

  • اویس اسلم مرزا

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:07 pm

    ایسا کیا جان لیا آپ نے 😮

  • محمد اسد اسلم

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:09 pm

    کہ آپ کی ڈی پی بہت پرانی ہے جب کہ آپ دبلے ہوا کرتے تھے 😀 #justkidding

  • اویس اسلم مرزا

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:10 pm

    lolz 😀

  • اویس اسلم مرزا

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:10 pm

    اتنی بھی پرانی نہیں ہے، بس یہی کوئی چار پانچ سال پرانی ہے 😉

  • کاشف نصیر

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:16 pm

    اوئے یہ کیا، تو نے میرا موضوع چرا لیا
    خیر دوسرا موضوع سوچتا ہوں۔

  • مسعود الحسن

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 11:59 pm

    اسد بھائی آپ بھی وہاں تھے اور مجھے خبر بھی نہیں ہے۔۔۔

  • sheikho

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 1:09 am

    بہت اعلیٰ روداد ۔۔۔ مزا آیا پڑھ کر

  • ایم بلال ایم

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 1:58 am

    وقار بھائی آپ رہ نہیں سکے اور علامہ صاحب کی خصوصی کرامت کا بتا ہی دیا۔ 😀
    باقی بھائی ہم نے تو آخری وقت تک اپنی کوشش کی تھی، مگر افسوس کہ خود سمیت آپ کو بھی واہگہ نہ دیکھا سکے۔ 🙁

  • محمدعبداللہ

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 2:56 am

    تعارف میں خود ہی کروا دیتا لیکن میں نے سوچا آپ مجھ جیسی “مشہور و معروف” ہستی کو دیکھ کر خود ہی پہچان جائیں گے پر کتھوں۔۔۔۔۔۔۔ 😀 😛
    ویسے آپکو دیکھ کے ٹانگیں میری بھی ہلکی سی کانپی تھیں 😀 :v

  • احتشام شاہد

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 4:55 am

    ویسے میں کافی حیران تھا عبداللہ بھائی کی شرکت سے۔ ان سے کچھ بار دو دو ہاتھ ہوئے ہیں۔ باقی بندہ تعریف خود اپنی ہے۔ 😉

  • Muhammad Saleem

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 12:20 pm

    تو یہ ہے ناکام دورے کی روئیداد. کئی دنوں سے ناکام دورہ ناکام دورہ تو پڑھ رہا تها، آج پتہ بهی چل گیا.
    بابے درویش کا نام لینا تها ان کو، پهر دیکهتے بابے کی پاپولیریٹی کے کمال.

  • Abid Ali

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 1:04 pm

    looking great

  • محمداسلم فہیم

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 3:02 pm

    کوئی ہمیں بتائے بغیر واہگہ بارڈر کی سیر کر تو دیکھے

  • افتخار اجمل بھوپال

    Wednesday، 26 November 2014 بوقت 3:12 pm

    اتنے سارے خیالات کا اظہار ہو چکا ہے ۔ اب میں کیا لکھوں ۔ چلو میں وکھری ٹَیپ کا لکھتا ہوں ۔ جناب ۔ اعظم نہ سہی اپنے بلاگ کے فونٹ عظیم ہی کر دیجئے ۔ میری نظر کمزور ہے اور لکھائی کا رنگ بھی کالا کر دیجئے کیوں بہت مدھم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *