پہلا روزہ اور ہم

موضوع: مضامین

my-fast

رمضان کے آخری عشرہ بھی اپنے اختتام کے قریب ہے اور ہر مسلمان اپنے اپنے ظرف و صلاحیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہونے کی کوششوں میں ہے۔ ہمیں چونکہ کسی “دوکان رمضان” کا ٹکٹ نہیں مل سکا لہٰذا ہم اپنے دفتر کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے بیتے ہوئے کل میں سے یادوں کی کچھ موتیوں کو ڈھونڈنے، سمیٹنے کی کوششوں میں ہیں، یادیں جو ایسا لگتا ہے کہ ماضی کے دھندلکوں میں کہیں کھو سی گئی ہیں حالانکہ ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ جس پر شاعر نے کہا تھا کہ “یادِ ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا”۔

ہم نے اپنا پہلا روزہ بہت چھوٹی عمر میں رکھا تھا، شاید 6 یا سات سال کی عمر ہوگی۔ اس وقت ہفتہ وار تعطیلات جمعہ کے دن ہوا کرتی تھیں لہٰذا یہی طے پایا کہ ہمیں چھٹی کے دن ہی روزہ رکھوایا جائیگا۔ موسم کچھ گرم ہی تھا سحری سے فراغت کے بعد ہم خواب خرگوش کے مزے لینے لگے لیکن بچپن میں آنکھ صبح جلدی ہی کھل جاتی تھی اور دوپہر کے وقت مجال ہے جو نیند آجائے۔ امی ہمیں زبردستی سونے کےلیے لٹادیا کرتیں لیکن ذرا سی نظریں ادھر اُدھر ہوئی اور ہم بستر سے باہر۔

بحرحال صبح جلدی اٹھ جانے کے بعد جمعہ کی نماز تک وقت گذاری کے لیے ہم نے ان رسالوں کی مدد لی جو اس زمانے میں ہمارے گھر کی زینت ہوا کرتے تھے (ماہنامہ نور، بتول، ساتھی اور نونہال بڑی باقاعدگی سے ہمارے گھر آتے تھے)۔ جمعہ کی نماز ابو کے ساتھ قریبی مسجد میں ادا کی اور پھر اس کے بعد حکم صادر ہوا کہ سوجائیے۔ اب بھلا ہماری آنکھوں میں نیند کہاں۔ عین اسی وقت ہمارے ایک ہم جماعت نومی صاحب  جو کہ ہم محلہ بھی تھے ہمارے گھر کسی کام سے تشریف لائے۔ ہم نے موقع غنیمت جانا اور ان سے ملنے کے بہانے گھر سے باہر نکل گئے۔

ہماری رہائش گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر غیر آباد سا علاقہ تھا جہاں 10 سے 20 فٹ یا کچھ زیادہ گہری کھائیاں تھیں جن سے برسات کے موسم میں بارش کا پانی سمندر تک پہنچتا تھا۔ عام حالات میں بھی ان کھائیوں میں ہری ہری گھانس خوب صورت نظارہ پیش کرتی تھی۔ (ساحل سمندر ہمارے گھر سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے، یہی کوئی چار، پانچ کلومیٹر)۔نومی صاحب نے اپنے سے کچھ ہی بڑے بھائی کو ساتھ لیا اور ہم سب اپنے ایڈونچر کے ذوق کی تسکین کے لیے اس جگہ پہنچ گئے تاکہ ہائیکنگ کی جاسکے 😉 ۔

قریب ہی ایک بڑا سا تالاب تھا جو شاید پانی کی مین لائن میں شگاف کی وجہ سے بن گیا تھا جہاں خانہ بدوش سے لوگ کپرے دھوتے اور لڑکے بالے ڈبکیاں لگاتے نظرآتے۔ وہاں سے گذرتے ہوئے ہمارا دل بھی کئی بار ڈبکیاں لگانے کو مچلا لیکن اسے کسی نہ کسی طرح بہلا ہی لیا کہ اوّل تو یہ معلوم نہیں کہ پانی کتنا گہرا ہے اورپھر اس میں گھر یا اہلیان محلہ کی طرف سے پکڑے جانے کا خطرہ ہے۔ خیر آنے دنوں میں ہم نے اس قدرتی سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگانے کا خواب کسی نہ کسی طرح پورا کرہی لیا مگر اب تو نہ کھائیاں ہیں نہ تالاب۔ زمین برابر کرکے رہائشی کالونیاں بنا دی گئی ہیں۔

اپنے اس ایڈونچر سے فارغ ہوکر جب ہم واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہماری تلاش کا کام بڑی تندہی سے جاری ہے۔ چھوٹے بہن بھائی محلے کے دوستوں کے گھر بھیج دیئے گئے تھے کہ ہمارا کچھ اتہ پتہ معلوم ہوسکے۔ ہمارے صحیح سلامت واپس گھر پہنچ جانے پر تلاش کا کام معطل کردیا گیا اور مزے کی بات یہ کہ شاید ہمارے روزے کا خیال کرتے ہوئے کچھ زیادہ بازپرس بھی نہیں ہوئی۔

بس جناب یہی وہ وقت تھا جب ہمیں پیاس کی شدت ستانے لگی۔ عصر کی نماز کے لیے وضو کرتے ہوئےکُلی کرنے کے لیے پانی منہ میں لیا تو کچھ راحت کا احساس ضرور ہوا لیکن پانی حلق سے نیچے اتارنے پر دل راضی نہ تھا۔ ورنہ اطمینان سے اپنے ہمجھولیوں پر روزے کا رعب کیسے ڈالتے جو مزے سے کھاپی رہے تھے۔ اور پھر جب امی نے افطار کی تیاریاں شروع کی تو پکوڑوں اور سموسوں کی خوشبو ہمیں کسی پل چین نہ لینے دیتی۔

ہمارے پہلے روزے کے لیے کوئی باقاعدہ روزہ کشائی کی رسم تو نہیں ہوئی لیکن یہ ضرور ہوا کہ افطار پر خاص اہتمام کیا گیا۔ (یہ میرے خیال میں ایک ایسا یونیورسل جملہ ہوگیا ہے جسے اپنے پہلے روزے کی کتھا بیان کرنے والے ہر بلاگر نے بالضرور لکھا ہوگا ;)) افطار کے فوراً بعد ابو کے ساتھ نماز کے لیے جاتے ہوئے راستے میں جاننے والے ہمیں پہلے روزے کی مبارکباد دیئے جاتے اور ہماری گردن تھوڑی سی اور اکڑ جاتی۔ اسکے بعد واپسی پر دوبارہ افطار پر ٹوٹ پڑنا اور پھر نماز تراویح، بس یہی کچھ تھا پہلے روزے میں۔

تو دوستو! یہ تھی ہمارے پہلے روزے کی آپ بیتی۔ اس پوسٹ کا محرک محترمہ اسریٰ غوری اور ڈاکٹر جواد خان کا ٹیگ کا وہ دھاگہ ہے جس میں انہوں نے اپنی آپ بیتی لکھتے وقت ہمیں پرو دیا تھا۔ اب ہم اس دھاگے کو مزید وسعت دیتے ہوئے عمران اقبال اور ارسلان شکیل المعروف انکل ٹام کو ٹیگ کرتے ہیں۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

پہلا روزہ اور ہم پر اب تک 6 تبصرے

  • جواد احمد خان

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 8:55 pm

    بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔ آپکا اسٹیمنا قابل تعریف ہے۔

  • محمد اسلم فہیم

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 11:28 am

    آپ کی “روزہ کشائی” نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اس ایڈونچر پر ہی کچھ” ایڈونچر کھچائی” ہو جاتی تو “روزہ کشائی” ہی کی رسم پوری ہو جاتی 🙂

  • نجیب عالم

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 3:42 pm

    بہت اعلی تحریر

  • محمد اسد

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 1:47 am

    دلچسپ، پڑھ کر لطف آیا۔

  • اسریٰ غوری

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 2:23 am

    بہت خوب بھائی بڑی ہی پیاری یادیں ڈبکیوں کیساتھ ۔ 🙂
    بہت جزاک اللہ کہ آپ نے اس سلسلہ میں اپنا ڈبکیوں والا روزہ بھی شامل کیا

  • کوثر بیگ

    Tuesday، 14 July 2015 بوقت 1:42 am

    سادگی سے بہت عمدہ لکھا آپ نے ۔روزہ والے دن آپ کے گھر والوں کے لئے آپ سے زیادہ یاد گار رہا ہوگا کیونکہ انہیں ڈھونڈنے کی زحمت جو اٹھانی پڑی ۔
    کم عمری میں روزہ رہنے والوں کے دل میں اللہ کا خوف اور موجودگی کا احساس بہت ہوت ہے یہ بات میں نے بہت غور کی ہے ۔پہلے بچوں کو بڑے لوگ بہت اہمیت دیا کرتے تھے اب بچوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جیسا کہ آپ نے سب کی مبارک بادی وصول کی کیا اب ہم بچوں کی حوصلہ آفزائی کرنے بچوں سے خوشی کا اظہار کرنے کے بجائے والدین کو دیکھانے مبارک باد اور ہمدردی کے جملہ کہتے ہیں خیر مختصر یہ کہ آپ نے بہت اچھا لکھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *