کراچی کے مقتولین کے نام۔۔۔

دیکھو دور ایک لاش پڑی ہے چوراہے کے دائیں جانب کونے پر سنسان گلی کے کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو اس کے پاس لہو میں لتھڑی خاک آلودہ، بکھری بکھری غیر یا اپنا، کون ہے جانیں آئو دیکھیں اور پہچانیں نقش مٹا ڈالی گولی نے رنگت خون میں ڈوب گئی ہے جیب ٹٹولو، کیا رکھا...

مکمل تحریر پڑھیں

12 مئی

زندگی پر سبھی راستے بند تھے موت ہی اپنی راہیں بناتی رہی … صحن جاں کے لئے ایک جھونکانہ تھا باد صرصر دیوں کو بجھاتی رہی … فصل گل کو نہ اذن سفر مل سکا اور آندھی قیامت مجاتی رہی … پانہ زنجیر کردی گئی روشنی ظلمت شب سیاہی بڑھاتی رہی … راہ میں لت...

مکمل تحریر پڑھیں

16 دسمبر

آج پھر یہ دسمبر کے شام و سحر اس لہو رنگ شام غریباں پہ ہیں نوحہ خواں جس کی قسمت میں کوئی سویرا نہ تھا چاند بے نور تھا چھن گئی تھی ستارے سے بھی روشنی بیڑیاں ابن قاسم کے پیروں میں تھی آج پھر۔۔ قرظبہ اور ڈھاکہ سے القدس تک اپنی تاریخ کے یہ...

مکمل تحریر پڑھیں