کٹ گیا وہ تیرے کوچے میں رکھا جس نے قدم

جب سے میں نے کوئٹہ کے قریب پولیس اور ایف سی کے ہاتھوں بیگناہ چیچن خواتین اور مردوں کی شہادت کی خبر سنی ہے تب سے ایک عجیب سی بے چینی میں مبتلا ہوں۔ ایک شدت پسند اخبار کے مطابق عینی شاہدوں نے دیکھا کہ خواتین زخمی ہوکر گرنے کے باوجود اپنے برقعوں کو درست...

مکمل تحریر پڑھیں

ماسی مصیبتے اور مولوی مدن

روایت ہے کہ سالوں پہلے محلے میں چند بچوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ ہمیں لڑائی کے اسباب پر غوروخوص کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اور یہ کہ لفظ چنداں اور شام کے وقت اپنی چھت پر دیدارِ عام ہے یارانِ نکتہ داں کے اصول کے تحت اپنا دیدار کروانے والی چندا پر بھی زیادہ غور...

مکمل تحریر پڑھیں

شہید تیرا قافلہ رکا نہیں تھما نہیں

اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کا قانون ہی برحق ہے۔ باقی سارے قانون جھوٹے، غیر اسلامی، طاغوتی اور منسوخ کئے جانے کے قابل ہیں۔ ان الحکم الا للہ ————– بادشاہی صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور زمین پر اللہ کے حکم سے بے نیاز اور آزاد قائم کی ہوئی بادشاہتیں دراصل ناجائز، باغیانہ...

مکمل تحریر پڑھیں

میں، میرا شہر اور پاک بھارت کرکٹ سیمی فائنل

جیسے جیسے موہالی میں ہونے والے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کی تاریخ قریب آنے لگی۔ قوم کے جوش و خروش میں بے پناہ اضافہ ہونے لگا۔ جسے دیکھو کرکٹ کے بخار میں مبتلا نظر آتا تھا۔ گلی محلوں سے لیکر ٹی وی ٹاک شوز تک ہر جگہ موضوع بحث پاک بھارت...

مکمل تحریر پڑھیں

ففٹی ففٹی

لفظ ففٹی ففٹی یوں تو انگلش کا لفظ ہے لیکن اردو میں بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔  بلکہ اب تو اس نے محاورے کی ہیت اختیار کرلی ہے۔ کسی بھی کام کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان اگر برابر ہو تو یار لوگ کہتے ہیں چانس ففٹی ففٹی ہے۔ اس لفظ کا اطلاق...

مکمل تحریر پڑھیں

سفرنامہ انٹارکٹیکا

ہوائی جہاز انٹاڑکٹیکا کے بین القوامی ہوائی اڈے پر اترنے والا ہے، فضائی میزبان کے اس اعلان کے ساتھ ہی ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔ جہاز کا عملہ جہاز میں رکھے سامان کی سیٹ بیلٹ باندھنے لگا کیونکہ مسافروں میں انٹارکٹیکا کی سیاحت کے لیے اس فلائیٹ سے صرف میں ہی سفر کررہا تھا۔ بہرحال...

مکمل تحریر پڑھیں

کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے!

اسلام آباد میں گورنرپنجاب سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعدسے ہی نام نہادروشن خیال اور مغرب کے دلال اسے لبرل ازم پر وار قرار دے رہے ہیں۔ کوئی اسے شٹ اپ کال لکھتا ہے اور کوئی اسے روشن خیالی کا قتل قرار دے رہا ہے۔ کسی نے اسے برداشت کی موت کہا تو کوئی اس...

مکمل تحریر پڑھیں

بوڑھی گنگا کے کنارے۔۔۔۔

مئی 2009 میں جب یہاں کراچی میں گرمی اپنے جوبن پر تھی مجھے ڈھاکہ چلنے کی پیشکش ہوئی۔ ڈھاکہ جو کبھی اپنا شہر تھا،  سابق مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا دارالحکومت۔   ہوا کچھ یوں کہ ہمارے دوست عبدالرحمٰن کی شادی ڈھاکہ میں سکونت پذیر ان کے چچا کی بیٹی سے طے پاگئی تھی...

مکمل تحریر پڑھیں

روشن خیالیے

آج کل ہر طرف دو چیزوں کا خوب چرچا ہے۔ ایک توہین رسالت کا قانون اوردوسرا ریفامڈ جی ایس ٹی۔ ہماری سیاسی جماعتیں تو آر جی ایس ٹی کے معاملے میں بیغیرتی کی حد تک جوڑ توڑ میں لگی ہیں لیکن بھونچال تو شاید توہین رسالت کے قانون پر آیا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی...

مکمل تحریر پڑھیں

میں ایک بلاگر ہوں

میں بزعم خود ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہوں، سائنس و ٹیکنالوجی میں کئی ڈگریاں میرے نام ہیں۔ میں خود کو ایک مصلح بھی سمجھتا ہوں۔ سماجیات میرا پسندیدہ موضوع ہیں۔ مجھ میں لکھنے کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ میں لکھتا ہوں اور بہت خوب لکھتا ہوں۔  میں نے اپنی آپ بیتیاں لکھ کر...

مکمل تحریر پڑھیں

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

امت مسلمہ پچھلے کئی سو سالوں سے زوال اور پستی کا شکار ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عالمی منظرنامے پر مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا اور مسلمان چینی ترکستان سے ہسپانیہ کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے تھِے لیکن جنگ عظیم اول میں خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کے بعد اعلان بالفور کے ذریعے سرزمین فلسطین...

مکمل تحریر پڑھیں

کراچی کے مقتولین کے نام۔۔۔

دیکھو دور ایک لاش پڑی ہے چوراہے کے دائیں جانب کونے پر سنسان گلی کے کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو اس کے پاس لہو میں لتھڑی خاک آلودہ، بکھری بکھری غیر یا اپنا، کون ہے جانیں آئو دیکھیں اور پہچانیں نقش مٹا ڈالی گولی نے رنگت خون میں ڈوب گئی ہے جیب ٹٹولو، کیا رکھا...

مکمل تحریر پڑھیں

بے وفائی۔۔۔ نظر تو آتی ہے

زیڈونک [زیبرے اور گدھے کا امتزاج] چند روز قبل ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جارجیا کے چیسٹیٹی وائلڈ  لائف پریزرو [جنگلی حیات کے لیے محفوظ مقام] میں پیدا ہوئی۔ چیسٹیٹی وائلڈ  لائف پریزرو  کے حکام اس بے بی کو دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ اس طرح کے واقعات شاذو نادر ہی وقوع پزیر ہوتے...

مکمل تحریر پڑھیں

!کشمیریو۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں

وہ بھی کیا دن تھے جب ہم اسکول میں ہوا کرتے تھے۔ ہماری اسکول میں مختلف لڑکوں سے گہری دوستی تھی ان میں ایک ظہیر الدین بابر بھی تھے۔ موصوف کا تعلق بالاکوٹ کے نواحی قصبے سے تھا۔ والدین نے تو ان کا نام ظہیرالدین ہی رکھا تھا لیکن پھر مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کی...

مکمل تحریر پڑھیں